اسلام آباد: لڑکی کی غیر اخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے والا شخص گرفتار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے رشتے کے تنازعے پر ایک لڑکی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے اور ان تصاویر کو دیوار پر چسپاں کرنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کرلیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حراست میں لیا جانے والا ملزم اور اس کا ایک ساتھی متاثرہ لڑکی کے ساتھ ایک ہی دفتر میں کام کرتے رہے ہیں۔ تھانہ آبپارہ پولیس سٹیشن کے انچارج سلیم رضا نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے تھانے کی حدود میں رہائش پذیر ایک خاتون نے تھانے میں درخواست دی کہ دو افراد نے ان کی تصاویر نہ صرف سوشل میڈیا پر وائرل کیں بلکہ ان کو ڈاک کے ذریعے پوسٹ کر کے ان کے رشتہ داروں کو بھی بھجوائی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ان ملزمان نے صرف اسی پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ جس گلی میں متاثرہ خاتون رہائش پذیر ہیں اس گلی کی دیواروں پر بھی چسپاں کی ہیں۔
ایس ایچ او آبپارہ کے مطابق اس واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے جو سب سے پہلا کام کیا وہ یہ تھا ان تصاویر کو فوری طور پر گلی سے اتارا گیا۔
مقامی پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی اسلام آباد میں ایک پرائیویٹ دفتر میں کام کرتی تھی جہاں ملزمان بھی کام کرتے تھے۔ پولیس کے مطابق اس مقدمے میں نامزد ایک ملزم درخواست گزار لڑکی کا رشتہ دار بھی ہے اور وہ لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن لڑکی کے گھر والوں نے یہ رشتہ دینے سے انکار کر دیا۔
مقامی پولیس کے مطابق رشتے سے انکار کے بعد ملزمان متاثرہ لڑکی کی تصاویر سامنے لے آئے جو پولیس کے بقول انھوں نے اس وقت لے تھیں جب اس کی ان میں سے ایک کے ساتھ دوستی تھی۔
پولیس نے اس درخواست پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ان دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے اس مقدمے میں نامزد ایک ملزم عبدالحفیظ کو اس کے زیر استعمال موبائل کی لوکیشن سے گرفتار کر عبدالصبور کے اس کے قبضے سے موبائل اور دیگر اشیا برآمد کر لی ہیں۔ پولیس نے ملزم کا جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کرلیا ہے جبکہ دوسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے دو ٹیمیں لاہور روانہ کردی گئی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ زیر حراست ملزم کے زیر استعمال موبائل کو فرانزک لیبارٹری میں بجھوا دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دوران تفتیش ملزم نے بتایا کہ اصل تصاویر اور ویڈیو اس کے ساتھی کے پاس ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دوسرے ملزم کی گرفتاری کے بعد مزید حقائق سامنے آنے کا امکان ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لڑکی کو نوکری کا جھانسہ دے کر اسے جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کا معاملہ
دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے لڑکی کو نوکری کا جھانسہ دے کر اسے جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس نے یہ کارروائی پشاور کی ایک رہائشی لڑکی کی درخواست پر کی ہے جس میں متاثرہ لڑکی نے یہ موقف اپنایا کہ ملزم نے جو کہ ان کے جاننے والوں میں سے ہیں، فون کر کے کہا کہ وہ اسلام آباد آجائیں تو وہ ان کو نوکری دلوا دیں گے۔
متاثرہ لڑکی کے بقول جب وہ اسلام آباد آئی تو پہلے تو ملزم اسے اپنی گاڑی میں گھماتا رہا اور پھر رات کے وقت ایک ہوٹل میں لے گیا جہاں پر ملزم نے پہلے ہی سے کمرہ بک کروایا ہوا تھا۔
تھانہ شہزاد ٹاون پولیس کے مطابق ملزم متاثرہ لڑکی کو کمرے میں چھوڑ کر چلا گیا اور پھر کچھ دیر کے بعد دوبارہ واپس آیا اور لڑکی کے کمرے میں گھس کہ اسے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔
مقامی پولیس کے بقول ملزم لڑکی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اسے زبردستی اپنی گاڑی میں سوار کرکے رات کے اندھیرے میں ویرانے میں چھوڑ کر فرار ہوگیا۔
مقامی پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی نے ریسکیو ون فائیو پر اطلاع دی جس کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر لڑکی کا بیان قلمبند کیا اور بعدازاں ملزم کو اس کی لوکیشن معلوم کرنے کے بعد اس کو راولپنڈی کے علاقے سے گرفتار کرلیا۔

























