ہوپ: پاکستان کا وہ ریچھ جو تمام ستم زدہ جنگلی جانوروں کے لیے اُمید کا باعث بنا

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت

پنجاب کے ایک دور اُفتادہ علاقے میں ریچھوں کے لیے قائم ایک بحالی مرکز میں ہم چلتے چلتے ایک الگ تھلگ سے مقام پر پہنچے تو ایک اپاہج ریچھ کو دیکھ کر انتہائی حیران ہوئے جو اپنی وہیل چیئر کی مدد سے چل رہا تھا۔

ہمیں بتایا گیا کہ اس کا نام ہوپ، یعنی اُمید ہے۔

ہوپ کے پاس پہنچ کر ہم رُک گئے۔ اس کو ایک رکھوالا سخت گرمی میں پائپ کے ذریعے سے پانی فراہم کرتے ہوئے اسے غسل میں مدد دے رہا تھا۔ چند منٹوں کے اس غسل کے بعد ہوپ اپنی وہیل چیئر کی مدد سے چلا اور پھر تھوڑی دیر چلنے کے بعد ایک درخت کی چھاؤں تلے رک گیا۔

اس مرکز کا محلِ وقوع اور ماہرِ حیوانیات کا نام پوشیدہ رکھا جا رہا ہے۔ یہ کہانی آپ اُن ہی کی زبانی سنیے۔

سال 2016 میں ہمیں اطلاع ملی کہ کراچی میں ایک ریچھ بہت بُرے حالات کا شکار ہے۔ اس کے بارے میں ہمیں بتایا گیا کہ اس کے نام نہاد مالک نے اس کو ایک ڈبے نما پنجرے میں بند کر رکھا ہے اور وہ ڈبے میں کچھ ہلنے جلنے کی کوشش کرتا ہے تو مالک اس کو منع کرتا اور تشدد کرتا ہے۔

مگر ریچھ کو جب ڈبے میں بند رہ کر تکلیف ہوتی تو اس کا ہلنا جلنا اس کے مالک کو ناگوار گزرتا۔ ایک روز اس نے غصے میں آکر کلہاڑی کا وار کر کے اس کی ایک اگلی ٹانگ کاٹ دی۔ جی ہاں، ایک جیتی جاگتی روح کی ٹانگ۔ کتنی تکلیف ہوئی ہو گی، اس کا بس تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔

چند دن بعد پھر وہ ہی معاملہ ہوا تو اس ظالم شخص نے ہوپ کی ریڑھ کی ہڈی پر ہتھوڑے کا وار کیا جس سے اس کی ہڈی ٹوٹ گئی اور اس کی پچھلی دونوں ٹانگیں مفلوج ہو گئیں۔

جب مجھے اس کہانی کا پتا چلا تو فیصلہ کیا کہ ہم اس ریچھ کو ضرور بازیاب کر کے اس کی ہر ممکن مدد کریں گے۔

پہلی مرتبہ جب ہم لوگوں نے محکمہ جنگلی حیات کے ہمراہ چھاپہ مارا تو وہاں پر انتہائی شدید مزاحمت ہوئی۔ ہمیں خدشہ پیدا ہوا کہ یہ لوگ کہیں ہمیں بھی نہ مار دیں۔ ناکامی ضرور ہوئی مگر ہمت نہیں ہاری جس کے بعد ضلعی انتطامیہ سے رابطہ قائم کیا گیا۔

انتظامی افسران نے ہماری بہت مدد کی۔ انھوں نے رینجرز اور پولیس کو ہدایات جاری کیں۔ ایک اسسٹنٹ کمشنر ہمارے ہمراہ بھیجے گئے۔ جب ہم دوبارہ ہوپ (ریچھ) تک پہنچے تو ایک بار پھر شدید مزاحمت ہوئی مگر رینجرز اور پولیس اہلکاروں نے سب کچھ سنبھال کر ہوپ کو ہمارے حوالے کر دیا۔

ہوپ نامی یہ ریچھ پچھلی ٹانگوں سے مفلوج ہونے کے علاوہ ایک ہاتھ سے محروم ہے اور اب اس مرکز میں اس کی خصوصی نگہداشت اور بحالی کی جا رہی ہے۔

ریچھوں کی بحالی کے اس بین الاقوامی معیار کے مرکز میں 72 ایسے ستم رسیدہ ریچھ موجود ہیں جن کو ان کے بچپن ہی میں غیر قانونی کاروبار کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ماہر حیوانیات نہیں چاہتے کہ ریچھوں کی بحالی کے مرکز کے مقام کے علاوہ ان کی شناخت کو ظاہر کیا جائے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر مقام اور ان کی شناخت ظاہر ہوئی تو اس سے ریچھوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہ بحالی مرکز اس وقت تک چلتا رہے جب تک پاکستان میں ریچھوں کے غیر قانونی کاروبار کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

بے نظیر بھٹو کے حکم پر بحالی مرکز قائم کیا گیا

ڈاکٹر ملک محمد ممتاز نوے کی دہائی میں صوبہ خیبر پختونخوا کے محکمہ جنگلی حیات کے کنزرویٹر کی خدمات انجام دیتے رہے تھے۔ بحالی مرکز کے قیام اور ریچھوں کے کاروبار کو پاکستان میں غیر قانونی قرار دینے کی پوری مہم کے دوران یہ اس کا حصہ اور عینی شاہد رہے تھے۔

وہ بتاتے ہیں کہ پاکستان میں طویل عرصہ سے یہ کاروبار غالباً قیام پاکستان سے قبل سے جاری تھا۔ روایتی طور پر مختلف علاقوں میں مختلف مواقعوں پر ریچھوں کی کتوں اور خنزیروں سے لڑائی کروائی جاتی تھی۔

ریچھ کی چربی اور دیگر جسمانی اعضا کے حصول کے لیے بھی انھیں مارا جاتا تھا۔ اس گھناؤنے کاروبار کی جڑیں بہت مضبوط تھیں۔ اس کے خلاف مختلف ماہر حیوانیات اور جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے لوگ آواز بلند کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ نوے کی دہائی میں اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیا گیا۔ بی بی سی سمیت دیگر بین الاقوامی میڈیا پر ریچھوں اور کتوں کی لڑائی کی کچھ ویڈیوز چلیں، جس پر سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے جانوروں کے حقوق بالخصوص ریچھوں کے لیے کام کرنے والوں کی ایک میٹنگ طلب کی تھی۔

اس میٹنگ میں بے نظیر بھٹو نے کہا کہ ہم اس کاروبار کو غیر قانونی قرار دینے اور تمام اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہیں، مگر پہلے ایسی جگہ یا بحالی مرکز ہونا چاہیے جن میں چھڑائے گئے ریچھوں کو رکھا جائے۔

ڈاکٹر ملک محمد ممتاز بتاتے ہیں کہ اس کے بعد حکومت اور غیر سرکاری اداروں نے مل کر ریچھوں کی بحالی کا پہلا مرکز پشاور کے مقام پر قائم کیا۔ وہ کئی سال تک چلتا رہا مگر ایک شدید سیلاب کے اندر اس کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ مرکز عارضی جگہ پر منتقل کرنے کے بعد دائمی طور پر پنجاب کے ایک مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ریچھوں کا بحالی مرکز اس لیے بھی لازمی تھا کہ لوگوں کے قبضے میں کتوں اور سوروں کے ساتھ لڑائیاں کر کے ریچھ زخمی ہوتے ہیں۔ بچپن ہی میں ان کے دانت اور ناخن اکھاڑ لیے جاتے ہیں۔ ان کے ناک میں لوہے کی نکیل ڈالی گئی ہوتی ہے۔

ان کی حالت قابل رحم ہوئی ہوتی ہے۔ ایسے ریچھوں کا قدرتی آماجگاہوں میں قدرتی زندگی گزارنا ممکن نہیں رہتا ہے۔ ان کو مناسب دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔

ریچھوں کی محفوظ پناہ گاہ

ریچھوں کا بحالی مرکز دور افتادہ مگر انتہائی محفوظ مقام پر وسیع و عریض رقبے پر واقع ہے، جہاں پر ریچھوں کو قدرتی ماحول فراہم کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے۔ جگہ جگہ پر درخت لگائے گئے ہیں اور چھوٹے بڑے تالاب قائم کیے گئے ہیں۔ حفاظتی باڑ لگائی گئی ہے جس میں بجلی دوڑتی رہتی ہے۔

اس بحالی مرکز میں کئی ریچھ ٹولیوں کی شکل میں موجود تھے۔ موسم گرم اور دوپہر کا وقت تھا۔ ریچھ درختوں کے اوپر اور چھاؤں تلے موجود ہونے کے علاوہ قائم کیے گئے چھوٹے بڑے تالابوں سے مستفید ہو رہے تھے۔

ہمیں دیکھ کر وہ غصے سے غرّانے لگے تھے۔ صاف محسوس ہو رہا تھا کہ انھیں اپنی پناہ گاہ میں اجنبیوں کی آمد ناگوار گزر رہی تھی۔ کچھ ہماری طرف لپکنے کی کوشش کر رہے تھے تو کچھ محفوظ مقام کی تلاش میں دوڑ پڑے۔

ہمیں بتایا گیا کہ چونکہ بچپن ہی سے ان ریچھوں کا انسانوں کے بے رحمانہ سلوک سے واسطہ پڑا تھا چنانچہ اب کافی عرصے سے کوشش کی جا رہی ہے کہ ان کا انسانوں سے سامنا نہ ہو۔

ان کے رکھوالے بھی صرف ضرورت ہی کے وقت ان کے سامنے آتے ہیں۔ اجنبی انسانوں کو دیکھ کر وہ مختلف کیفیتوں کے شکار ہو جاتے ہیں مثلاً اپنے ساتھ کیے گئے سلوک پر غصہ اور پھر دوبارہ اسی سلوک کا نشانہ بننے کا خوف۔

ریچھوں کی اس ہل چل کو دیکھ کر ہمارے میزبان اور ان ریچھوں کے رکھوالے سامنے آئے تو یہ ریچھ کچھ پر سکون ہوئے۔ چند منٹوں بعد وہ اپنے مشاغل میں مصروف ہو گئے۔ کچھ خوراک تلاش کرنے لگے تو کچھ نے دوبارہ اونگھنا شروع کردیا۔

ہم نے آگے بڑھنا شروع کیا تودیکھا کہ اکثریت کی زبانیں لٹکی ہوئی ہیں، جسم پر جگہ جگہ پرانے نشانات موجود ہیں جن پر مرہم تو رکھے گئے ہیں مگر نشانی چھوڑ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ہمیں بتایا گیا کہ یہ کتوں اور سور کے ساتھ لڑائیوں کی نشانیاں ہیں جو انسان اپنے بیمار ذہنوں کی تفریح کی خاطر کرواتے ہیں۔

ان ریچھوں کو جب بحالی مرکز میں لایا جاتا ہے تو یہ نفسیاتی طور پر بھی مختلف مسائل کا شکار ہوچکے ہوتے ہیں۔ پہلے ان کو تنہا رکھ کر نفسیاتی طور پر بحال کیا جاتا ہے، اس کے بعد چھوٹے گروپ میں چھوڑا جاتا ہے۔ جب یہ کچھ بہتر ہوتے ہیں تو ان کو گروپ کی صورت میں چھوڑ دیا جاتا ہے، جہاں پر یہ آہستہ آہستہ اپنی قدرتی زندگی کی طرف لوٹتے ہیں۔

کچھ خوراک تو ان کو اپنے بحالی مرکز میں قدرتی طور پر دستیاب ہوجاتی ہے باقی کی کمی پوری کرنے کے لیے ان کو روزانہ خوراک فراہم کی جاتی ہے۔ جس میں اس بات کا پورا خیال رکھا جاتا ہے کہ سب کو اپنا حصہ ضرور ملے۔

ان میں کالے ریچھوں کی بڑی تعداد کے علاوہ انتہائی خطرے کا شکار اور پاکستان میں گلگت بلتستان میں پائے جانے والے بھورے ریچھ بھی شامل ہیں۔ ان بھورے ریچھوں کو اس بحالی مرکز میں الگ سے رکھا گیا تھا جو کالے ریچھوں کی نسبت زیادہ فعال تھے اور بھاگ دوڑ کر رہے تھے۔

ماہر حیوانیات چند لمحے چپ رہنے کے بعد بولے کہ صرف ہوپ ہی نہیں بلکہ یہاں پر موجود دیگر ریچھوں ٹائیگر، بلّا، گڈّا، سوہنا، سوہنی سب کے سب کو بحالی مرکز تک پہنچانا کوئی آسان نہیں تھا۔

’جب بے نظیر بھٹو کی ہدایات پر ریچھوں کے کاروبار کو غیر قانونی کاروبار قرار دیا گیا تو ہم نے چاروں صوبوں کے محکمہ جنگلی حیات اور حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر ان ریچھوں کی تلاش شروع کی۔ اس کے لیے ہمارے ساتھ جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا ساتھ بھی موجود تھا۔

’جب ہمیں پتا چلتا کہ کسی مقام پر ریچھوں کی کتے اور سور کے ساتھ لڑائی ہو رہی ہے یا ریچھ کو گلی محلوں میں نچایا جارہا ہے تو ہم محکمہ جنگلی حیات کے ساتھ مل کر موقع پر پہنچ جاتے اور اس ریچھ کو اپنے قابو میں کرتے۔ کچھ مقامات پر تو یہ آسان ہوتا مگر اکثر مقامات پر لوگ انتہائی مزاحمت پر اتر آتے۔ جس کے بعد ہمیں پولیس کی مدد لینی پڑتی تھی۔

’کئی واقعات تو ایسے ہوئے جب پنجاب اور سندھ کے دیہات میں لوگوں نے پولیس کے ساتھ بھی مزاحمت کرنا شروع کردی تھی۔ کئی مرتبہ اس مزاحمت میں ہمیں بھی مکے اور لاٹھیاں کھانی پڑیں۔ کئی مرتبہ گولی مار دینے کی دھمکی بھی ملی تھی۔‘

ہوپ ستم رسیدہ ریچھوں کے لیے امید

ہوپ کی بحالی کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اس کو پہلے خصوصی طور پر تیار کروائی گئی وہیل چیئر کے ساتھ چلنے کا طریقہ سکھایا گیا، پھر اس کا نفسیاتی علاج کر کے اس کا حوصلہ بلند کیا گیا اور خصوصی دیکھ بھال کر کے اس میں جینے کی امنگ پیدا کی گئی۔

ماہرِ حیوانیات کہتے ہیں کہ ’اب جب ہوپ اپنے ٹھکانے پر بھاگتا دوڑتا ہے تو ہم میں بھی امید پیدا ہو جاتی ہے کہ ایک نہ ایک دن پاکستان میں ایسا وقت ضرور آئے گا جب ریچھوں سمیت سب جنگلی جانور اپنی اپنی قدرتی آماجگاہوں میں اپنی قدرتی زندگی گزار رہے ہوں گے اور ان کو کسی بحالی مرکز کی ضرورت نہیں پڑے گی۔