جانی خیل قبائل کا احتجاج: مظاہرین کا قبائلی رہنما کی میت کے ہمراہ اسلام آباد کی جانب مارچ، حکومتی جرگے نے پولیس سے جھڑپوں میں ایک نوجوان کی ہلاکت کی تصدیق کر دی

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کے جانی خیل قبائل کا گذشتہ ماہ قتل ہونے والے قبائلی رہنما ملک نصیب خان کی میت کے ہمراہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ جاری ہے اور مظاہرین نے شام کے وقت میران شاہ روڈ پر پہنچ کر دھرنا دے دیا ہے۔

مظاہرین سے مذاکرات کرنے والے حکومتی جرگے کے ایک ممبر ملک عباس علی خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پولیس سے جھڑپوں کے دوران ایک نوجوان ہلاک اور کچھ لوگ زخمی ہوئے ہیں جبکہ پولیس کی طرف سے بھی کچھ لوگ شدید زخمی ہوئے ہیں۔

جانی قبیلے نے اس نوجوان کے قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ جانی خیل قبیلے کے جرگے کے سربراہ ملک مویز کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات منوائے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔

ملک مویز کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومتی جرگے کو بتا دیا ہے کہ ہمارے گرفتار لوگ بھی رہا کیا جائے اور پولیس نے جو نقصان کیا ہے وہ بھی پورا کیا جائے۔

ملک مویز کا کہنا تھا کہ کل جب صبح حکومتی جرگہ دوبارہ آئے گا اور ہمارے مطالبات کے حوالے سے آگاہ کرے گا تو اس کے بعد ہم مارچ آگے لے کر جانے کا فیصلہ کریں گے۔

’اگر ہمارے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو ہم بنوں کینٹ کے باہر دھرنا دے سکتے ہیں جو اب ہم سے صرف چند کلو میٹر دور ہے۔‘واضح رہے کہ جانی خیل قبائل کا مطالبہ ہے کہ قبائلی رہنما ملک نصیب خان کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے اور ان کے علاقے میں امن کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ اس سے قبل وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات مرتضیٰ بنگش نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیر اعلیٰ نے جانی خیل قبائل کے ساتھ جو معاہدے کیے تھے وہ پورے کر دیے گئے ہیں جبکہ رہ جانے والے مطالبات پر عملدرآمد جاری ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق جانی خیل سے تعلق رکھنے والے مظاہرین نے بدھ کی شام میران شاہ روڈ پر پہنچ کر دھرنا دے دیا ہے۔ پولیس کی بھاری نفری نے دھرنے کے مقام کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔

مظاہرین نے بدھ کی صبح ٹوچی پل سے بنوں اور بنوں سے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کیا تھا اور پولیس کے ساتھ تصادم کے بعد حکمت عملی کے تحت اپنا روٹ تبدیل کر کے رخ میران شاہ روڈ کی طرف موڑ لیا تھا جہاں پر پولیس کی جانب سے رکاوٹیں اور نفری موجود نہیں تھی۔

بنوں سے صحافی خان ضمیر کے مطابق پولیس نے بنوں سے اسلام آباد جانے والی تمام سڑکوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر رکھا ہے۔ ان کے مطابق بنوں میں انٹرنیٹ سروس بھی کام نہیں کر رہی جبکہ میران شاہ روڈ پر پولیس کی بھاری نفری موجود ہے۔

جانی خیل مظاہرین کے رہنما ملک مویز کا کہنا ہے کہ وہ مظاہرین کو پولیس کی جانب سے ٹوچی پل پر روکنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود میران شاہ روڈ پر پہنچ چکے ہیں۔ جہاں پر حکومت نے مختلف قبائلی عمائدین پر مشتمل اپنا ایک جرگہ بھیجا ہے اور جانی خیل قبائل کے جرگے کے عمائدین کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ یاد رہے کہ مظاہرین نے بدھ کی علی الصبح ملک نصیب خان کی میت کے ہمراہ لانگ مارچ کا آغاز پیدل اور گاڑیوں کے ذریعے کیا تھا اور جب مظاہرین جانی خیل سے پانچ کلومیٹر کا سفر کر کے ٹوچی پُل پر، جو کہ بنوں شہر اور جانی خیل کو ملاتا ہے، پہنچے تو پولیس کی بھاری نفری نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا تھا۔

ٹوچی پل پر موجود صحافیوں کی جانب سے بی بی سی کو موصول ہونے والی چند ویڈیوز میں دیکھا گیا ہے کہ علاقے میں بھاری نفری موجود ہے جبکہ پولیس نے اس مقام پر مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے آنسو گیس کے شیل بھی فائر کیے۔ ویڈیوز میں مارچ میں شریک ایک شخص اور ایک پولیس اہلکار کو زخمی حالت میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

بنوں پولیس کے ترجمان احمد حسن نے دعویٰ کیا ہے کہ مظاہرین نے پولیس پر فائرنگ کرنے کے علاوہ پتھراؤ بھی کیا جس سے چار پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ مظاہرین نے ایک تھانے کی گاڑی کو بھی نذر آتش کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین اسلام آباد کی طرف جانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر حکومت کی جانب سے اس کی اجازت نہیں ہے۔

ان کے مطابق ’قانون پر عملدرآمد کے لیے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے مگر وہ مسلسل اشتعال انگیزی کر رہے ہیں۔ پولیس اہلکاروں پر حملے کر رہے ہیں۔‘

دوسری جانب مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکاروں نے اُن کے قافلے میں شریک گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی اور ان کا سامان گاڑیوں سے باہر نکال کر پھینک دیا۔

بنوں سے صحافی خان ضمیر کے مطابق پولیس کی جانی خیل قبائل کی جانب سے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد رات ہی سے ٹوچی پُل اور اردگرد کے علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ ٹوچی پُل پہنچنے پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کی اطلاعات ملنا شروع ہوئیں تھیں۔

خان ضمیر کے مطابق پولیس اہلکار آنسو گیس کی شیلنگ کر رہے ہیں جبکہ مظاہرین پتھراؤ کر رہے ہیں۔

صحافی محمد نعمان کے مطابق اس وقت مظاہرین مختلف ٹولیوں کی شکل میں تقسیم ہو کر ٹوچی پل کے اردگرد کے علاقے سے بنوں شہر پہچنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ پولیس اہلکار مظاہرین کا پیچھا کر کے ان کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کچھ مظاہرین کو گرفتار کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات کامران بنگش نے رابطے کے باوجود جواب نہیں دیا ہے۔

مظاہرین کا کیا کہنا ہے؟

جانی خیل قبائل کے مظاہرین کی قیادت کرنے والے لطیف وزیر کا کہنا ہے کہ ’ہم لوگوں نے 23 دن تک میت کے ہمراہ جانی خیل کے اندر پُرامن دھرنا دیا۔ اس دوران ہم کوشش کرتے رہے کہ ہماری جائز بات سُنی جائے اور ہمارے دکھوں کا مداوا کیا جائے مگر اس دوران کوئی بھی اہم رہنما، وزیر، مشیر ہمارے پاس نہیں آئے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انتطامیہ کے لوگ ہمارے پاس مذاکرات اور بات چیت کے لیے آتے رہے مگر ہمارے مطالبات حل کرنا مقامی انتطامیہ کے بس کی بات نہیں تھی اور نہ ہی ان کے اختیار میں تھا۔ جس کے بعد بلا آخر تنگ ہو کر ہم لوگوں نے اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کیا۔

ملک نصیب خان کے بیٹے رفیع اللہ کے مطابق ’ہمیں مجبور کیا گیا کہ اسلام آباد کی جانب مارچ کریں۔ اس وقت ہمارے پاس میت ہے اور ہم پر تشدد کر کے ہمیں روکا جا رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا تو صرف ایک مطالبہ ہے کہ ہمیں امن دیا جائے۔ ہمارے یہ مطالبہ کوئی بھی سننے کو تیار نہیں۔‘

اس سے قبل وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات مرتضیٰ بنگش نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیر اعلیٰ نے جانی خیل قبائل کے ساتھ جو معاہدے کیے تھے وہ پورے کر دیے گئے جبکہ رہ جانے والے مطالبات پر عملدرآمد جاری ہے۔

جانی خیل قبائل کا وزیر اعلیٰ کے ساتھ ہونے والے آٹھ نکاتی معاہدے کے مطابق حکومت جانی خیل کے علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے اقدامات کرے گی جبکہ امن کی بحالی تک گھر کو مسمار نہیں کیا جائے گا۔

جانی خیل میں احتجاج کا آغاز کب ہوا؟

رواں برس مارچ میں جانی خیل قبیلے کے چار نوجوان شکار کے لیے گئے تھے مگر بعدازاں ان چاروں نوجوانوں کی لاشیں ملی تھیں۔ ان ہلاکتوں کے خلاف اس وقت احتجاج ہوا اور دھرنا دیا گیا اور جانی خیل قبائل نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان لڑکوں کو ہلاک کرنے والے افراد کی نشاندہی کرے۔

بعد میں حکومت اور جانی خیل قبیلے کے درمیان معاہدہ طے پایا اور اس آٹھ نکاتی معاہدے پر وزیراعلیٰ نے خود دستخط کیے تھے۔

جانی خیل کا علاقہ ضلع بنوں اور ضلع شمالی وزیرستان کا سرحدی علاقہ ہے جہاں رواں برس فروری میں چار خواتین کو بھی قتل کیا گیا ہے۔

ان علاقوں میں آئے روز قتل کے واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن مجرموں کا سراغ کم ہی مل پاتا ہے۔

چار نوجوانوں کے قتل کے دو ماہ بعد یعنی 30 مئی میں قبائلی رہنما ملک نصیب خان کو تین نامعلوم افراد نے اس وقت فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا جب وہ اپنے حجرے کے قریب دکان سے برف لینے گئے تھے۔

ملک نصیب خان کے بیٹے رفیع اللہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کے والد 30 مئی کو مہمانوں کو ٹھنڈا شربت پلانے کے لیے برف لینے گئے تھے اور حجرے کے قریب ہی موجود مقام پر تین نامعلوم افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کی اور وہ موقع پر ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

رفیع اللہ کے مطابق ان کے خاندان کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں۔

اس واقعے کے خلاف علاقے میں احتجاج ہوا اور حکومت کے ساتھ پہلے سے طے پا جانے والے معاہدے پر عملدرآمد کے مطالبے کے ساتھ جانی خیل قبائل نے ملک نصیب کی میت کے ہمراہ دھرنا دے دیا۔

لگ بھگ ایک ماہ تک دھرنے دینے کے بعد اب قبائل کا کہنا ہے کہ انھوں نے مطالبات کی منظوری کے لیے متعدد ڈیڈ لائنز دیں مگر مطالبات پورے نہ ہوئے جس کے بعد انھوں نے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کر دیا ہے۔