گھوٹکی ٹرین حادثہ: ’میتیں گھر آئیں تو مہمانوں کے استقبال اور شادی کے لیے کیے گئے انتظامات جنازوں کے لیے استعمال ہوئے‘

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت

پاکستان کے صوبہ سندھ میں پیر کے روز گھوٹکی کے قریب سرسید ایکسپریس اور ملت ایکسپریس میں تصادم کے بعد ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور متاثرہ پٹری کی بحالی کا کام کیا جا رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر گھوٹکی عثمان عبداللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حادثے کے نتیجے میں اب تک کم از کم 62 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ضلعی ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر منظور احمد کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 55 ہے۔

ان دو ٹرینوں کے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت غریب اور متوسط گھرانوں سے تھی اور اُن کی بڑی تعداد کراچی میں محنت مزدوری کرتی تھی۔

اس حادثے میں متاثر ہونے والے ہر گھر اور خاندان کی الگ کہانی ہے۔ کوئی روزگار کے لیے واپس کراچی جا رہا تھا تو کوئی اپنے پیاروں کو ملنے کے لیے اپنے آبائی علاقوں کا سفر کر رہا تھا۔

مگر ان میں ایک چیز مشترک ہے کہ ان لوگوں نے سستے اور محفوظ سفر کے لیے ٹرین کا انتخاب کیا تھا۔ مگر یہی سفر کئی لوگوں کی المناک موت کا باعث بن گیا۔

حادثے کی شکار ہونے والی ملّت ایکسپریس میں پنجاب کے ضلع لودھراں کے دو ایسے خاندان بھی شامل ہیں جس میں اپنے والد کی تیمارداری کے لیے آ رہے ایک خاندان کے چار افراد جن میں دو سگے بھائی، والدہ اور تایا زاد بہن شامل ہیں ہلاک ہوئے۔

جبکہ دوسرا خاندان جو کہ کراچی سے لودھراں شادی کے سلسلے میں آ رہا تھا، اُس کے دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

والد کو واپس کراچی لے کر جانا چاہتے تھے

کراچی سے لودھراں کا سفر کرنے والے ایک ہی خاندان کے ہلاک ہونے والوں چار افراد میں محمد اسلم اور محمد علی سگے بھائی، صغیر بیگم ان کی والدہ اور روبینہ بی بی ان کی تایا زاد ہیں۔

محمد اسلم اور محمد علی کراچی کے ایک کباڑخانے میں مزدوری کرتے تھے۔ محمد اسلم نے سوگواروں میں بیوہ اور پانچ بچے جبکہ محمد علی نے بیوہ اور تین بچے چھوڑے ہیں۔

محمد اسلم اور محمد علی کے چچا محمد صفی نے بی بی سی کو بتایا کہ محمد اسلم اور محمد علی چھ بھائی ہیں۔ ان کے والد کافی سال پہلے روزگار کے سلسلے میں اپنے بچوں کے ہمراہ کراچی جا بسے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

محمد صفی کا کہنا تھا کہ محمد اسلم اور محمد علی کے والد برسوں کراچی میں رہے مگر جب بڑھاپا آیا اور بیمار رہنے لگے تو ضد کر کے واپس اپنے آبائی علاقے چلے آئے تھے۔

وہ کہتے تھے کہ گاؤں کی آب و ہوا کراچی کے مقابلے میں بہت بہتر ہے، اس لیے اب گاؤں ہی میں رہوں گا، جبکہ بچوں کا تو روزگار تھا وہ واپس گاؤں نہیں آ سکتے تھے، اس وجہ سے بچے کراچی اور والد لودھراں میں رہائش پذیر ہو گئے۔

محمد صفی کا کہنا تھا کہ ان کے والد کچھ عرصہ سے بیمار رہنے لگے تھے۔ جس پر ان کے بچے اور والدہ پریشان رہتے تھے۔ انھوں نے کئی مرتبہ کوشش کی کہ کراچی آ جائیں مگر وہ نہیں جاتے تھے، جس پر اسلم، علی، بھابھی اور ان کی تایازاد بہن نے پروگرام بنایا کہ وہ خود ان کو لے کراچی آ جائیں گے۔

دو سگے بھائیوں کے بچے یتیم ہوگئے

محمد صفی کا کہنا تھا کہ اسلم نے بہت جلدی میں ٹرین کا ٹکٹ کروایا تھا کیونکہ ان کے والد کی طبعیت خراب ہو رہی تھی۔ جب وہ ٹرین پر بیٹھے تو انھوں نے مجھے کال کی اور کہا کہ والد صاحب کو تیار کریں اور ان کو بتائیں کہ ہم ان کو کراچی لے کر جائیں گے۔ کچھ دن علاج کروائیں اور اس کے بعد چاہیں تو واپس آ جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس دوران ہم نے ان کے والد کا سامان وغیرہ تیار کرنا شروع کر دیا تھا کیونکہ اسلم نے کہا تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ ایک دو دن ہی رک سکتے ہیں اس سے زیادہ نہیں رکیں گے۔ ہمارا خیال تھا کہ ہم سات جون کو دوپہر کا کھانا ساتھ کھائیں گے مگر ہمیں رات ہی کو اطلاع مل گئی تھی کہ ٹرین کا حادثہ ہو گیا ہے۔

'میرے بھتیجے خود پڑھ لکھ نہیں سکے تھے مگر ان کی خواہش تھی کہ وہ اپنی اولاد کو پڑھائیں گے۔ اس کے لیے وہ بہت زیادہ محنت کرتے تھے۔ مگر اب دیکھیں دونوں سگے بھائیوں کی اولادیں ایک ساتھ یتیم ہو گئی ہیں۔ ان کا مستقبل کیا ہو گا؟

شادی کی تقریب پر آ رہے تھے

ملت ایکسپریس حادثے میں لودھراں کے محمد اسحاق کے 22 سالہ بھتیجے اور کم عمر نواسی مقدس ہلاک ہوئے ہیں۔

حادثے سے پہلے محمد اسحاق شادی کی تقریب کے لیے آنے والے اپنے خاندان کے لوگوں کے استقبال کے لیے پُرجوش تھے۔ انھوں نے مہمانوں کے استقبال اور ان کی رہائش کا خصوصی انتظام کیا تھا۔

کراچی سے بارات آ رہی تھی جس نے لودھراں سے دلہن کو لے کر جانا تھا۔ دولہا اور دلہن دونوں محمد اسحاق کے قریبی عزیز اور دونوں کے بزرگ ہیں۔

کراچی سے بارات لے کر آنے والوں نے تین بوگیاں سات، آٹھ اور نو بک کروائیں تھیں۔ ان کے خاندان میں یہ تقریب طویل عرصے بعد ہو رہی تھی۔ کورونا کی وجہ سے دو مرتبہ شادی کی تقریب ملتوی بھی ہو چکی تھی۔ چنانچہ اب سب لوگ بہت پُرجوش تھے۔

محمد اسحاق بتاتے ہیں کہ جب ان کا سفر شروع ہوا اور اُنھوں نے کال کی تو باراتی اس وقت ٹرین میں ہلا گلا کر رہے تھے۔

'میں نے اس موقع پر محمد سمیع سے بات کر کے اس کو سمجھانا چاہا کہ سفر احتیاط سے کریں تو میری نواسی مقدس نے فون چھین لیا اور مجھ سے کہا کہ اس دفعہ وہ مجھ سے بہت زیادہ تحائف لینے والی ہے۔‘

محمد اسحاق کا کہنا تھا کہ اُنھیں رات نیند ٹھیک نہیں آ رہی تھی مگر پتا نہیں کس وقت تھوڑی دیر کے لیے اُن کی آنکھ لگ گئی۔

'تھوڑی دیر بعد کسی نے مجھے جھنجوڑ کر اٹھایا کہ ٹرین حادثے کی شکار ہو گئی ہے۔ میتیں لائے تو مہمانوں کے استقبال اور شادی کے لیے کیے گئے انتظامات جنازوں کے لیے استعمال کیے۔‘

’ماں نے کہا تھا میرا دل نہیں چاہتا تم اس ٹرین پر جاؤ‘

ٹرین حادثے میں ہلاک ہونے والی انعم بی بی اپنے تین بچوں اور اپنی بہن کے ہمراہ اپنے گھر فیصل آباد کا سفر کر رہی تھیں۔ وہ کراچی اپنی بہن کے ہمراہ والدین کو ملنے گئی تھیں۔

ان کے قریبی عزیز محمد امجد کا کہنا تھا کہ انعم بی بی کے خاوند فیصل آباد میں شٹرنگ کا کام کرتے تھے۔ انعم بی بی کافی عرصے سے اپنے بچوں اور گھر بار کی وجہ سے والدین کو ملنے کراچی نہیں جا سکی تھیں۔ چند دن پہلے جب پتا چلا کہ والدہ کی طبیعت خراب ہوئی ہے تو وہ اپنے بچوں کے ہمراہ گئی تھیں۔'

محمد امجد کا کہنا تھا کہ انعم بی بی کا ارادہ تھا کہ وہ چند دن تک رکیں گی مگر ان کے خاوند کی طبعیت بھی ناساز ہو چکی تھی، جس کے بعد انھوں نے جلدی میں واپسی کا پروگرام بنایا اور ٹکٹ بھی بہت جلدی میں بلکہ سفارش کر کے حاصل کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیے

ان کا کہنا تھا کہ انعم بی بی کی والدہ کراچی سٹیشن کے لیے اپنی بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے بھی کہہ رہی تھیں کہ مت جاؤ کل چلی جانا میرا دل نہیں چاہتا کہ تم اس ٹرین پر جاؤ مگر انعم نے کہا کہ اب تو سٹیشن تک بھی پہنچ چکی ہوں۔ بس دعا کریں کہ خیریت ہو۔

حادثے میں انعم بی بی موقع ہی پر ہلاک ہو گئی تھیں جبکہ تینوں بچے اور بہن محفوظ رہی ہیں۔ بچوں پر اس حادثے کے بہت برے اثرات ہوئے ہیں اور وہ تب سے اب تک بالکل گم صم ہیں۔