راولپنڈی میں مبینہ پولیس مقابلوں میں دو افراد کی ہلاکت پر ورثا کا احتجاج: ’میرے شوہر اور بھائی کو سازش کے تحت قتل کیا اور پھر اسے پولیس مقابلے کا رنگ دیا گیا‘

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

’اُن پولیس مقابلوں کا پولیس اہلکاروں کے علاوہ اور کوئی بھی گواہ نہیں۔ یہ کیسے پولیس مقابلے تھے جس میں اگر مقتولین کے ساتھیوں نے انھیں چھڑانے کی کوشش کی اور پولیس کے بقول ملزمان نے فائرنگ بھی کی۔ مگر دونوں جانب سے ہونے والی فائرنگ سے کوئی پولیس اہلکار زخمی نہیں ہوا۔‘

یہ کہنا ہے راولپنڈی میں مبینہ طور پر پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے شخص محمد زاہد کی بیوہ شاہدہ بی بی کا۔ شاہدہ کے مطابق پولیس نے پہلے ان کے بھائی محمد شاہد کو ماورائے عدالت ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کیا اور اس کے چند ہی روز بعد اُن کے شوہر کو بھی مبینہ طور پولیس حراست میں ہلاک کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ رواں برس مارچ میں راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے محمد زاہد اور محمد شاہد مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ راولپنڈی پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ دونوں ملزمان پولیس انسپکٹر میاں عمران عباس کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث تھے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق محمد شاہد کو 12 مارچ جبکہ محمد زاہد کو 23 مارچ کو مبینہ طور پر پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا۔

راولپنڈی پولیس کے حکام کے دعوے کے برعکس ہلاک ہونے والوں کے ورثا کا کہنا ہے کہ اُن کے عزیزوں کو حراست میں لینے کے بعد ’ایک سازش کے تحت میرے شوہر اور بھائی کو قتل کیا گیا اور بعدازاں اسے پولیس مقابلے کا رنگ دیا گیا۔‘

یہ بھی پڑھیے

پولیس مقابلے میں ان دو افراد کی ہلاکت کے خلاف شاہدہ بی بی سمیت ہلاک ہونے والوں کے درجنوں رشتہ داروں نے بدھ کے روز راولپنڈی میں احتجاج کیا اور مری روڈ کو بلاک کر دیا۔ مظاہرین میں اکثریت خواتین کی تھی، جنھوں نے ہاتھوں میں کتبے اور بینر اٹھا رکھے تھے جن پر پولیس حکام کے خلاف نعرے بھی درج تھے۔

پولیس خواتین مظاہرین کو پرائیویٹ گاڑیوں میں بیٹھا کر اپنے ساتھ تھانے لے گئی ہے اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ ان کو مذاکرات کے لیے تھانے لے جایا گیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شاہدہ بی بی نے دعویٰ کیا کہ پولیس کی بھاری نفری نے 12 مارچ کو ان کے گھر پر ریڈ کیا اور ان کے بھائی محمد شاہد کو گرفتار کر کے لے گئی۔ ’ہمارے پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ شاہد سنگین مقدمات میں پولیس کو مطلوب ہے۔‘

’گرفتاری کے کچھ دیر بعد ہی یہ خبر آ گئی کہ محمد شاہد پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ شاہد کے ساتھیوں نے انھیں پولیس کی تحویل سے چھڑوانے کی کوشش کی اور اس دوران ہونے والی فائرنگ میں وہ ہلاک ہو گئے۔‘

مقتول زاہد کی بیوہ کا کہنا تھا کہ رات کے وقت پولیس نے ریڈ کے دوران ان کے بھائی کو حراست میں لیا اور اس وقت ان کے پاس کوئی اسلحہ موجود نہیں تھا۔

شاہدہ بی بی کے مطابق 23 مارچ کو پولیس نے ایک بار پھر ان کے گھر پر ریڈ کیا اور اُن کے شوہر کو بھی اپنے ساتھ لے گئی اور پھر بتایا گیا کہ راولپنڈی کچہری چوک کے قریب پولیس مقابلے میں ان کی بھی ہلاکت ہو گئی۔

’جعلی پولیس مقابلے ظاہر کر کے میرے بھائی اور شوہر کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔‘

شاہدہ بی بی کا کہنا تھا کہ انھوں نے ضلعی انتظامیہ کو مقولین کی قبر کشائی کر کے ان کا پوسٹ مارٹم کرنے کی بھی درخواست دی ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پولیس حکام نے مظاہرین کو بتایا ہے کہ ان کی قبر کشائی کی درخواست کو منظور کر لیا گیا ہے۔

راولپنڈی پولیس کا مؤقف

راولپنڈی پولیس نے اس ضمن میں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ دونوں پولیس مقابلوں کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا جا چکا ہے۔ اس پریس ریلیز میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ عدالت سے مراد ہائی کورٹ ہے یا ڈسٹرکٹ کورٹ۔

اس پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس انسپکٹر عمران عباس کے قتل میں ملوث مقتولین کے ورثا نے مقامی عدالتوں میں متعدد درخواستیں دی تھیں لیکن عدالتوں نے ان درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا۔

پولیس کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ اس وقت مظاہرہ کرنے کا مقصد عدالتی تحقیقات نہیں بلکہ پولیس پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ شمس نامی شخص کو رہا کرے جو کہ اس وقت اقدام قتل اور بھتہ خوری کے الزام میں پولیس کی حراست میں ہے اور مقتولین کا رشتہ دار ہے۔

پولیس کے مطابق زیر حراست ملزم شمس پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے شخص محمد زاہد کا بڑا بھائی ہے۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے سب انسپکٹر محمد عمران عباس جب تھانہ چونترہ میں تعینات تھے تو انھوں نے محمد شاہد اور محمد زاہد کے خلاف کرائے پر حاصل کی گئی گاڑیوں کو فروخت کرنے اور بھتہ خوری کے مقدمات درج کیے تھے جس کا پولیس ذرائع کے بقول ملزمان کو رنج تھا۔

تھانہ ریس کورس کے ایس ایچ او میاں عمران عباس کو سات مارچ کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جب وہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ ایک نجی ہاوسنگ سوسائٹی میں اپنے زیر تعمیر گھر کا جائزہ لینے کے بعد واپس آ رہے تھے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اس واقعے کے بعد تعزیت کے لیے مقتول عمران عباس کے گھر بھی گئے تھے۔ میاں عمران عباس کے والد بھی پنجاب پولیس میں تھے اور انھیں بھی نامعلوم افراد نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔