دو بہنوں کا مبینہ ریپ اور جرگے کا فیصلہ: وہ باپ جو اپنی دو بیٹیوں کے ریپ پر جرگے کے فیصلے کے خلاف ڈٹ گیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ساجد میر، موسیٰ یاوری
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام
- وقت اشاعت
پاکستان کے ایک دور دراز گاؤں میں ایک ملزم کو جرگے کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے، ملزم پر دو سگی بہنوں کے مبینہ ریپ کا الزام ہے۔ ملزم دونوں متاثرہ بہنوں کا قریبی رشتہ دار بھی ہے۔
اسی جرگے میں متاثرہ بچیوں کے والد اپنے ایک بھتیجے کے ہمراہ گاؤں کے بڑے بوڑھوں سے انصاف ملنے کی امید لگائے کے منتظر بیٹھے ہیں۔ سب کی نظریں جرگے کے معتبرین کی طرف ہیں جو دونوں طرف کے بیانات سُن چکے ہیں اور اب بس فیصلہ سنانے ہی والے ہیں۔
بلآخر جرگے میں موجود ایک ’منصف‘ اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا ہے اور ملزم کے لیے سزا تجویز کرتا ہے۔ جرگے کے اصول کے مطابق کیونکہ سزا تجویز کی جا رہی ہے تو سمجھا یہی جا سکتا ہے کہ جرگے کے عمائدین کی نظر میں ملزم پر لگے الزامات میں صداقت ہے۔
لڑکیوں کے والد کے مطابق جرگے کی جانب سے سزا کچھ یوں تجویز کی گئی ’آج کے بعد ملزم کو علاقے میں ہونے والی کسی خوشی (شادی بیاہ وغیرہ) میں شرکت کی اجازت نہیں ہو گی، ملزم متاثرہ لڑکیوں کے والد اور لڑکیوں کے پیر پکڑے گا اور جن لڑکیوں کا ریپ کیا گیا تھا، وہ تھوکیں گی اور ملزم اسے چاٹے گا۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
متاثرہ لڑکیوں کے والد اسلم (فرضی نام) نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ وہ ’سخت فیصلہ‘ نہیں تھا جس کی انھیں جرگے سے اُمید تھی اور پھر اسلم نے علاقے کی قدیم روایات کے برعکس اس فیصلے کے خلاف پولیس اور عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔
بہنوں کے ریپ کا واقعہ کب اور کیسے پیش آیا؟

یہ مارچ 2021 کی بات ہے۔
یہ وہ مہینہ تھا جس میں اسلم اور ان کی بیٹیوں کی زندگیاں مکمل طور پر الٹ پلٹ کر رکھ دیں۔
بچیوں کے مبینہ ریپ کے واقعے سے چند روز قبل ہی اسلم کی اہلیہ (متاثرہ لڑکیوں کی والدہ) کی وفات ہوئی تھی۔
اپنی اہلیہ کی وفات کے بارے میں بتاتے ہوئے اسلم اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ ’مجھے اپنی بیوی سے محبت تھی۔ ہم لکڑیاں کاٹنے ساتھ جاتے تھے، دوکان پر سودا لینے جانا ہوتا تو وہ ساتھ جاتی تھی، پانی بھرنے کے لیے بھی ساتھ جاتے تھے۔ اس کی وفات کے بعد گھر کا سارا نظام درہم برہم ہو چکا تھا۔‘
اسلم بتاتے ہیں کہ اُن کے علاقے میں یہ روایت ہے کہ جب کسی گھر میں فوتگی ہوتی ہے تو قریبی رشتہ دار ماتم والے گھر کے بچوں کو تسلی دینے کے لیے اپنے گھر کھانے پر لے جاتے ہیں اور یہ کرنے کا مقصد بچوں کا دل بہلانا ہوتا ہے۔
’میں نے بھی اپنی بچیوں کو اپنے چھوٹے بیٹے کے ہمراہ ایک قریبی رشتہ دار کے گھر بھیج دیا تاکہ ان کا دل بہل سکے۔ میرا رشتہ دار ناصرف شادی شدہ تھا بلکہ اس کی اپنی چار بیٹیاں ہیں۔ اور یہی وجہ تھی کہ میرے دل میں بیٹیوں کو اُن کے ساتھ بھیجتے ہوئے کسی قسم کا کوئی وسوسہ نہ آیا۔‘
اسلم مزید بتاتے ہیں کہ ’انھوں نے میرے بیٹے کو کھانے کے بعد گھر واپس بھیج دیا تھا اور میری ایک بیٹی کو اپنے گھر پر ہی رات گزارنے کے لیے روک لیا۔‘
اسلم کے مطابق اگلی صبح جب ان کی بیٹی واپس اپنے گھر آ رہی تھی تو اس کے چلنے میں انداز میں فرق تھا (یعنی وہ صحیح طرح سے چل نہیں پا رہی تھی)۔ ’میرے ایک بھتیجے نے میری بیٹی کی چال دیکھ کر اپنی اہلیہ سے کہا کہ پتا کرو بچی کے ساتھ کیا معاملہ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلم کا دعویٰ ہے کہ ’بچی نے بتایا کہ اس رشتہ دار نے اسے پیسے دیے، دلاسہ بھی دیا اور واپس گھر یہ کہہ کر بھیج دیا کسی کو کچھ مت بتانا۔‘
جب اسلم کے بھتیجے کی اہلیہ نے لڑکی سے مزید سوالات کیے تو اس نے اپنے ساتھ مبینہ ریپ ہونے کا انکشاف کیا۔
اسلم کا دعویٰ ہے کہ جب دس سالہ بیٹی نے گھر والوں کو اس بارے میں آگاہ کیا تو دوسری بڑی بیٹی، جس کی عمر 14 برس ہے، نے بھی اسی رشتہ دار کی جانب سے اپنے ساتھ مبینہ زیادتی کا انکشاف کیا۔
’میری بڑی بیٹی نے بتایا کہ میرے ساتھ بھی اس شخص نے کچھ عرصہ پہلے زیادتی کی تھی اور دھمکی دی تھی کہ اگر گھر والوں کو یا کسی اور کو بتایا تو گولی مار دوں گا۔ وہ ڈر کے مارے خاموش رہی۔‘
اسلم کہتے ہیں کہ ’اگر میں اس شخص پر اعتماد نہ کرتا تو میری بچیوں کے ساتھ زیادتی نہ ہوتی، میں اسے اپنا رشتہ دار سمجھ کر اعتماد کرتا رہا۔ اس شخص کی اپنی بھی چار بچیاں ہیں، بیوی بھی خوبصورت ہے، اگر کوئی نوجوان ہوتا یا غیر شادی شدہ ہوتا تو میں اپنی بچیاں کبھی نہ بھیجتا۔ یہ شادی شدہ اور چار بچوں کا باپ تھا جس کی وجہ سے میں اپنی بچیاں بھیجتا تھا اس شخص نے اعتماد دے کر یہ ظلم کیا ہے۔‘
’پتہ نہیں اب ان بچیوں سے کوئی شادی بھی کرے گا یا نہیں‘
اسلم کہتے ہیں کہ ’میں ایک غریب بندہ ہوں اور مزدوری کرتا ہوں۔ میرے پاس ایک عزت ہی تھی لیکن وہ بھی لٹ گئی۔ جب میرے گھر بیٹیاں پیدا ہوئی تھیں تو میں بہت خوش ہوا۔ مٹھائیاں تقسیم کیں اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ مجھے بیٹی جیسی نعمت سے نوازا مگر اب اس واقعے کے بعد پتہ نہیں کوئی ان سے شادی بھی کرے گا یا نہیں۔‘
جرگہ اور پھر پولیس سے رابطہ

اسلم نے بتایا کہ ’میرے بھتیجے نے برادری کے تمام گھروں میں سے ایک، ایک فرد کو بلایا اور ان کو اس بارے میں مطلع کیا۔ پھر جرگہ ہوا اور جرگے نے فیصلہ کیا۔‘
’میں اس فیصلے سے ناخوش تھا اور اسی وجہ سے میں نے پولیس اور عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا۔ میں نے اپنے بھتیجے کو ساتھ رکھا اور جا کر تھانے میں اس بندے کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی۔ پہلے تو ملزم مفرور رہا مگر تین دن بعد پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔‘
اس علاقے کی روایت کے برعکس اسلم نے جرگے کے فیصلے کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ ’ہماری عزت لٹ چکی ہے جو واپس نہیں آ سکتی، لیکن اس شخص کو سزا ضرور ملنی چاہیے۔ ریپ کا نشانہ بننے والی میری بچیوں کی عزت ملزم کے تھوک چاٹنے سے واپس نہیں آ سکتی۔ میں عدالت صرف اپنی بچیوں کو انصاف دلانے کے لیے گیا ہوں۔‘
ایف آئی آر اور کیس کا چالان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس حوالے سے پولیس میں درج ایف آئی آر کے مطابق دونوں بچیاں نابالغ ہیں اور ان کی عمریں بالترتیب دس اور 14 سال ہیں۔ ایف آئی آر میں بچیوں سے مبینہ جنسی زیادتی کی وہی تفصیلات درج کی گئی ہیں جو اوپر بیان کی گئی ہیں۔
مقامی پولیس کی جانب سے اس کیس کی تفتیش کے بعد عدالت کے روبرو جمع کروائے گئے چالان میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزم نے دونوں بچیوں سے مبینہ زیادتی کا جرم قبول کیا ہے تاہم اس نے اس پورے معاملے میں اپنی اہلیہ کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ یاد رہے کہ مدعی مقدمہ کی جانب سے ملزم کی اہلیہ کو بھی شریک ملزم کہا گیا ہے کیونکہ لڑکیوں کے والد کے مطابق ملزم کی اہلیہ اس پورے معاملے سے باخبر تھی۔
عدالت میں پیش ہونے والے چالان کے مطابق متاثرہ لڑکیوں کا وجائنل سواب نمونے لے کر فرانزک سائنس لیبارٹری لاہور بھیجے گئے ہیں تاہم تفصیلی رپورٹ کا انتظار ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم کا بھی میڈیکل چیک اپ کیا گیا جس میں انھیں جنسی طور پر مکمل فٹ پایا گیا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے علاقہ ایس ایچ او کا کہنا تھا کیس کی ابتدائی تفتیش مکمل کر کے چالان عدالت میں جمع کروا دیا گیا ہے جس کے مطابق ملزم نے اقرار جرم کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ مزید تفتیش کے لیے دونوں بچیوں کے وجائنل سواب کے نمونے فرانزک لیبارٹری بھیجے گئے ہیں تاہم بچیوں کے ابتدائی چیک اپ میں نابالغ بچیوں کے پردہ بکارت ٹوٹے ہوئے ثابت ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ملزم پر نابالغ بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنے کے الزامات کے تحت دفعات عائد کی گئی ہیں اور اگر جرم ثابت ہوا تو اس دفعات کے تحت عمر قید یا موت کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ہونے والے جرگے کی قانون کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ یہ مدعی اور مقامی افراد کا اپنا ذاتی فیصلہ تھا۔
اس سوال پر کہ آیا جرگے میں شامل افراد سے پوچھ گچھ کی گئی ہے، ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ جرگے میں شامل لوگوں کو اس لیے تفتیش میں شامل نہیں کیا گیا کیونکہ زیادہ لوگوں کے شامل ہونے سے مدعی کا کیس کمزور ہونے کا خدشہ تھا۔
نوٹ: متاثرہ بچیوں کے والد کی درخواست پر اس واقعے سے جڑے تمام افراد اور علاقے کی شناخت چھپائی گئی ہے۔

























