صوبائی وزیِر صحت تیمور جھگڑا کا افطار پارٹی پر تنقید کے بعد ردِعمل: ’ہر قسم کی قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں‘

@AliGunjai

،تصویر کا ذریعہ@AliGunjai

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر صحت تیمور جھگڑا سے افطار پارٹی میں سامنے آنے والی تصاویر پر ردِعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں ایک نجی افطار پر یہبتا کر مدعو کیا گیا تھا کہ اس میں ان کے چند دوست موجود ہوں گے۔

تیمور جھگڑا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ افطار میں پہنچنے سے پہلے انھیں مہمانوں کی تعداد اور افطار کی جگہ کا علم نہیں تھا۔

انھوں نے ٹویٹر پر ردِعمل دیتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ ’میں عوام کے غم و غصے کو سمجھ سکتا ہوں اور مجھے فخر ہے کہ عمران خان کی حکومت میں ایک وزیر کو بھی قانون کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

صوبائی وزیر نے یہ بھی لکھا کہ ’بحثیت عمران خان کا سپاہی میں انشااللہ ذاتی طور پر ہر قسم کی قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘

جھگڑا

،تصویر کا ذریعہ@Jhagra

یاد رہے پاکستان میں رواں سال رمضان کا مہینہ کافی مختلف رہا ہے کیونکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث زیادہ متاثرہ شہروں میں حفاظتی ایس او پیز نافذ ہیں۔ ایسے میں ریستورانوں میں اِن ڈور یا آؤٹ ڈور افطار پارٹی پر پابندی ہے۔

اور یہ بات خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر صحت تیمور جھگڑا سے بہتر شاید اور کوئی نہیں جانتا ہو گا۔ وہ پریس کانفرنسوں کے علاوہ ٹوئٹر پر لوگوں سے گزارش کرتے رہے ہیں کہ کورونا وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے حکومت سے تعاون کریں اور حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔

یہ بھی پڑھیے

مگر پھر پیر کے روز پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے وزیر صحت تیمور جھگڑا، حجرہ نامی مقامی ریستوران کے مالک اور مینیجر کے خلاف کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ایک مقدمہ درج کیا تھا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

سوشل میڈیا پر گردش کرتی تصاویر میں یہ واضح طور پر دیکھا جاسکتا تھا کہ وہ ریستوران میں ایک افطار پارٹی میں شریک ہیں اور وہاں ایک ساتھ کئی لوگ بغیر سماجی فاصلے اور ماسک کے بیٹھے ہوئے ہیں۔

اس بارے میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بیان بھی جاری ہوا تھا جس میں کہا گیا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں جو بھی حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کرے گا ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔

اس ریستوران کو سیل کر دیا گیا تھا جہاں تیمور جھگڑا اور ان کے ساتھی تصاویر کے مطابق افطار پارٹی کرتے نظر آ رہے تھے۔

پولیس انسپکٹر امتیاز خان نے پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا تھا کہ اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

ان کا کہنا تھا کورونا وائرس کے ایس او پیز کی خلاف ورزی پر عام طور پر عدالتیں جرمانہ عائد کر دیتی ہیں۔ اس مقدمے کے مطابق بھی ملزمان کو پیش ہونا پڑے گا۔

جھگڑا

،تصویر کا ذریعہ@Rahmat_ali_khan

معروف ماہر قانون سیف اللہ محب کاکا خیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان ایس او پیز کی خلاف ورزی پر دو ماہ تک قید کی سزا یا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'صرف سیاستدان نہیں بلکہ دیگر سرکاری عہدیدار بھی افطار پارٹیاں کر رہے ہیں جہاں ایس او پیز کا خیال نہیں رکھا جاتا ان کے خلاف بھی کارروائیاں ہونی چاہییں۔'

ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ وزیر صحت اور حجرہ ریستوان کے مالک و مینیجر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر بلا تفریق کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا سے بچنے کے لیے احتیاط لازمی ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے یہ کارروائی ضروری تھی اور اگر ایسے ایکشن نہیں لیے جائیں گے تو آئندہ یہ خلاف ورزیاں بڑھ جائیں گی۔

KhealDas

،تصویر کا ذریعہ@KhealDas

’خیر ہے، افطار پارٹی ہے، مجھے ہی ایڈریس نہیں پتا تھا تو کووڈ کو کیسے پتا ہو گا‘

صوبائی وزیرِ صحت کی تصاویر سامنے آنے پر سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے اس خبر پر ردعمل دیا تھا۔

اکثر صارفین کا کہنا تھا کہ صحت کے صوبائی وزیر کی حیثیت سے تیمور جھگڑا کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اور اب تیمور جھگڑا کی وضاحت کے بعد بھی بیشتر افراد پوچھتے نظر آتے ہیں کہ اگر ایک صوبے کے وزیِرِ صحت کو ایک ایسی افطار پارٹی میں مدعو کر ہی لیا گیا تھا جو ’سپر سپریڈر ایونٹ‘ بن سکتی ہے، تو کیا وہاں پہنچنے پر انھیں اسے بند نہیں کرا دینا چاہیے تھا؟ ‘

’انھوں نے سوچا ہو گا خیر ہے، افطار پارٹی ہے، مجھے ہی ایڈریس نہیں پتا تھا تو کووڈ کو کیسے پتا ہو گا۔‘

کمال خان نے وزیرِ صحت سے پوچھا ’وہاں پہنچ کر جب آپ نے دیکھا کہ لوگ بہت زیادہ ہے اور ایس اور پیز کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو آپ واپس کیوں نہیں ہوئے ؟ اور لوگوں منع کیوں نہیں کیا ؟ يا کھانے زیادہ لذیذ تھے؟‘

جھگڑا

،تصویر کا ذریعہ@rozenameh

حسیب خان نے بھی کچھ ایسا ہی سوال کیا ’ آپ کے ضمیر نے آپ کو ایک دفعہ بھی آواز نہیں دی کہ میں قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہوں؟ قانونی چارہ جوئی کے لیے آپ تیار ہیں یا نہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ آپ کو بہت ہی زمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا جو آپک ے عہدے کا تقاضہ ہے۔‘

عزرا نامی صارف نے پوچھا کہ ’جب ملک کووڈ کی تیسری لہر کا سامنا کر رہا ہے تو کوئی شخص جگہ اور مدعو کیے جانے والے لوگوں کی تعداد اور پوچھ کے بغیر افطار پارٹی دعوت کس طرح قبول کرسکتا ہے؟

خوشحال نے وزیرِ صحت کی ٹویٹس کو کچھ یوں بیان کیا:

خوشحال

،تصویر کا ذریعہ@Khushal

’جھگڑا صاحب، آپ سے یہ امید نہیں تھی‘

گذشتہ رات وزیِر صحت کی تصاویر وائرل ہونے پر بیشتر افراد ان پر تنقید کرتے نظر آئے۔ عرفان خان نامی صارف نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کے بھاشن دینے والے وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا صاحب کا (خود) افطار ڈنر۔‘

عزیر یونس کا کہنا تھا کہ ’سچ کہوں تو میں نے جھگڑا (صاحب) سے بہتر کی امید کی تھی۔‘

’اگر وزرا سالگرہ کی پارٹیاں رکھیں گے یا افطار کی دعوت پر جائیں تو وہ کس اخلاقی جواز سے شہریوں سے ایس او پیز پر عملدرآمد کی اپیل کر سکتے ہیں؟‘

UzairYounus

،تصویر کا ذریعہ@UzairYounus

شاہدہ پروین نے لکھا تھا ’دوسروں کو نصیحت خود میاں فصیحت۔ لوگوں کو ایس او پیز پر عمل درآمد کی ہدایت کی جارہی ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر متنی کی اخلاقی جرات کو سلام۔‘

تاہم مغیث کا کہنا تھا کہ ’خوش آئند بات یہ ہے کہ خیبر پختونخوا انتظامیہ نے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔‘

امام اعظم نے لکھا کہ ’تیمور جھگڑا صاحب نے درجنوں افراد کے لیے دعوت افطاری کا اہتمام کیا اور اپنے ہی بنائے گئے ایس او پیز کی خلاف ورزی کی۔ عوام ویسے ہی کورونا کو نہیں مانتی لیکن اب اس کے بعد وزیر صحت کی بات پر کون کان دھرے گا۔‘

جھگڑا

،تصویر کا ذریعہ@imampanezai