آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کوئٹہ کے سستے رمضان بازاروں میں ویرانگی: ’لوگ سستے بازار میں اس لیے آتے ہیں کہ وہاں ہر چیز ہو لیکن یہ تو خالی پڑا ہے‘
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
- وقت اشاعت
مہنگائی سے پریشان شہری بخشش الہٰی اس ارادے کے ساتھ کوئٹہ شہر میں باچا خان چوک پر قائم سستے رمضان بازار آئے کہ وہ یہاں سے سستے داموں بہت ساری خریداری کر کے گھر لے جائیں گے مگر جب وہ سستے بازار کے لیے لگے خیمے میں پہنچے تو انھیں مایوسی کے سوا کچھ نہ ملا۔
باچا خان چوک کو کوئٹہ شہر میں مرکزی حیثیت حاصل ہونے کے باعث ضلعی انتظامیہ نے سستے بازاروں میں سے ایک بازار یہاں قائم کیا تاکہ لوگوں کی بڑی تعداد کو ریلیف مل سکے لیکن چھ روز گزرنے کے باوجود اس اہم علاقے کے سستے بازار کے زیادہ تر سٹالز خالی تھے اور یہاں ویرانی کا منظر تھا۔
بخشش الہٰی نے وہاں دستیاب اشیا کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اس میں چینی اور آٹے کے سوا تو کچھ بھی نہیں۔
اگرچہ باچاخان چوک کی طرح دیگر علاقوں میں لگے بازار بھی زیادہ تر ویرانگی کا منظر ہی پیش کر رہے ہیں تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ان کو فعال بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رمضان سے چند روز پہلے چیف سیکرٹری بلوچستان مظہر رانا کی صدارت میں جو اجلاس ہوا اس میں کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں لوگوں کو رمضان میں سستے داموں اشیا کی فراہمی کے لیے سستے بازار لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس فیصلے کے تحت کوئٹہ میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے چار مقامات پر سستا بازار لگانے کا اعلان کیا گیا جن میں علاقے کی اہمیت کے لحاظ سے سب سے بڑا بازار باچا خان چوک پر لگایا گیا۔
باچا خان چوک پر بازار کے لیے خوبصورت خیمے اور قناتیں تو لگی ہیں لیکن اس بازار میں تین چار سٹالز کے سوا باقی تمام سٹال خالی پڑے ہیں۔
بخشش الہٰی نے سستے بازار کا ایک چکر لگانے کے بعد کہا کہ اس میں تو کچھ بھی نہیں جبکہ اس سے قبل سستے بازاروں کی حالت قدرے بہتر ہوتی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگ سستے بازار میں اس لیے آتے ہیں کہ وہاں ہر چیز ہو لیکن یہ تو خالی پڑا ہے۔
’ویسے تو سارا سال چیزیں مہنگی ہوتی ہیں، کم از کم رمضان میں تو لوگوں کو سستی چیزیں فراہم کی جانی چاھیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’سستے بازار میں یوٹیلٹی سٹورز کی گاڑی سے دو کلو چینی ملتی ہے جو پورے دو کلو بھی نہیں ہوتی ہیں بلکہ ایک کلو سات سو گرام ہوتی ہے۔‘
یہاں خریداری کے لیے آنے والے ایک اور شہری محمد ظاہر نے بھی سستے بازار میں زیادہ تر سٹالز کے خالی ہونے پر حیرت کا اظہار کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ یوٹیلٹی سٹور کی گاڑی سے جو چینی مل رہی ہے اس میں فائدہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انھیں ’پانچ سو روپے میں چھ کلو چینی کے علاوہ کوکا کولا کی ایک بوتل بھی دی گئی۔ اس طرح مجھے چینی میں دو سو روپے کی بچت ہو گئی۔‘
اگرچہ محمد ظاہر نے بتایا کہ چینی میں فائدہ ہے لیکن سستے بازار میں بڑے گوشت کی قیمت عام مارکیٹ کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
انھوں نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ سستے بازار میں تو گوشت کو سستا ہونا چاھیے لیکن عام مارکیٹ کے مقابلے میں یہاں فی کلو کی قیمت 30 روپے زیادہ ہے۔
باچاخان چوک پر قائم اس سستے بازار میں جتنے بھی لوگ نظر آئے ان میں سے زیادہ تر اس سے مطمئن نہیں تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ یوٹیلٹی سٹور کی گاڑی پر چینی میں تھوڑا بہت فائدہ ہے لیکن اس کے ساتھ دال یا اور کسی اور چیز کی خریداری کو مشروط کیا جاتا ہے جس کے باعث کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ یوٹیلٹی سٹور سے جو دالیں ملتی ہیں ان کا معیار بھی ناقص ہے۔
دوکانی بابا چوک پر قائم سستا بازار باچا خان چوک کے مقابلے میں زیادہ ویران
کوئٹہ میں چار سستے بازاروں میں سے ایک اور بازار سریاب روڈ پر دوکانی بابا چوک کے قریب لگایا گیا ہے۔
باچا خان چوک پر لگے سستے بازار میں تین چار سٹالز میں کچھ نہ کچھ چیزیں تو تھیں لیکن سریاب روڈ پر قائم سستے بازار میں چینی کے چند تھیلوں کے سوا زیادہ تر تربوز کے ڈھیر نظر آئے، جس کی وجہ سے وہاں لوگوں کا رش بھی نہیں تھا۔
ان سستے بازاروں کی ویرانی کو دیکھ کر یوں لگ رہا تھا کہ جیسے تاجروں سے ان میں اشیا لانے کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا یا تاجر ان بازارں میں اشیا لانے کو تیار نہیں۔
تاجروں کا کیا کہنا ہے؟
مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ تاجروں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
انھوں نے بتایا ’ماضی میں رمضان سے دس روز قبل ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ایک اجلاس بلایا جاتا تھا جس میں تاجروں کو مدعو کر کے ان سے مشاورت کی جاتی تھی لیکن اس مرتبہ تاجروں کو بالکل نہیں بلایا گیا جس کی وجہ سے سستے بازار ناکام ہو گئے اور یہ زیادہ تر خالی پڑے ہیں۔ ‘
انھوں نے کہا کہ ماضی میں اعتماد میں لینے کی وجہ سے تاجر ان سستے بازاروں میں فروخت کے لیے زیادہ سے زیادہ آئٹمز لاتے تھے اور لوگوں کو خریداری کے لیے زیادہ چیزیں ملتی تھیں۔
حکومتی مؤقف کیا ہے؟
حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی سے گذشتہ جمعے پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں نے جب سستے بازاروں کی ویرانگی کے بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ آپ لوگوں نے یہ اعتراف کیا کہ شہر میں سستے بازار لگے ہیں لیکن وہ مناسب طور پر فعال نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کو فعال بنانے میں عشرہ نہیں لگے گا بلکہ ایک آدھ دن میں ان کو بہتر کیا جائے گا لیکن چھ روز گزرنے کے باوجود سستے بازاروں کی ویرانگی ختم نہیں ہوئی۔
پیر کو پریس بریفنگ کے دوران کسی صحافی نے لیاقت شاہوانی سے ان بازاروں کے مناسب انداز سے فعال نہ ہونے کے بارے میں کوئی سوال تو نہیں پوچھا لیکن انھوں نے خود اس کا تذکرہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ رمضان میں جو سستے بازار قائم کیے گئے وہ شروع کے دو دن بند رہے لیکن اب ان کو دوبارہ فعال کرنا شروع کیا گیا ہے اور ان سے لوگوں کو ریلیف ملے گا۔