گجرانوالہ کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی اور زمینداروں میں قیمت پر تنازع، چچا بھتیجے سمیت تین افراد ہلاک

    • مصنف, احتشام شامی
    • عہدہ, صحافی، گجرانوالہ
  • وقت اشاعت

پنجاب کے شہر گجرانوالہ میں منگل کی صبح ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے باہر زمینداروں اور سکیورٹی گارڈز کے درمیان تصادم کے نتیجے میں تین زمیندار ہلاک اور نو زخمی ہوگئے ہیں۔

منگل کی صبح لگ بھگ ایک سو کے قریب زمیندار احتجاجی بینرز اٹھائے جب کینال ویو سوسائٹی کے مرکزی دفتر کے باہر پہنچے تو زمینداروں اور سکیورٹی گارڈز کے درمیان تصادم ہوگیا جس کے نتیجے میں گولیاں لگنے سے 50 سالہ رانا امجد، 35 سالہ عمران اور 22 سالہ تنزیل الحق ہلاک ہوگئے۔ ان کے علاوہ نو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

پولیس نے ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالکان، تین بھائیوں، احمد وقاص اوجلہ، ڈاکٹر حسن اوجلہ اور ڈاکٹر عثمان اوجلہ اور مبینہ طور پر فائرنگ کرنے والے تین سکیورٹی گارڈز کو حراست میں لے لیا ہے۔

مظاہرین کی طرف سے توڑ پھوڑ کے خدشے کے پیش نظر ہاؤسنگ سوسائٹی کے دفتر کے باہر پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں کے ورثا نے لاشیں جی ٹی روڈ پر رکھ کر ٹریفک بلاک کر دی اور لگ بھگ چار گھنٹوں تک ان کا احتجاج جاری رہا۔ تاہم سی پی او گجرانولہ کی جانب سے انصاف کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین وہاں سے چلے گئے اور ٹریفک بحال ہوگئی۔

مظاہرے میں شامل ایک زمیندار رانا شہباز کا کہنا تھا کہ ’ہم لڑنے نہیں بلکہ اپنا حق لینے کے لیے گئے تھے۔ ہماری بات سننے کی بجائے ہمیں سیدھی گولیاں ماری گئیں، میرے بھائی (رانا امجد) اور بھتیجے (رانا عمران) کو ناحق قتل کر دیا گیا۔'

ایک دوسرے زمیندار شہباز گورائیہ نے الزام لگایا ہے کہ دو ہاؤسنگ سوسائٹیوں سے تمام گارڈز اکٹھے کر کے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مظاہرین پر حملہ کیا گیا 'انھوں نے پہلے ہمیں ڈنڈے مارے پھر اچانک فائرنگ شروع کر دی۔ سب سکیورٹی گارڈز کے ہاتھوں میں اسلحہ تھا۔ ہم پوچھتے ہیں کہ پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز کو نہتے لوگوں پر اسلحہ چلانے کی اجازت کس نے دی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھ لیں کسی زمیندار کے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا سب اپنا حق لینے آئے تھے لیکن حق دینے کی بجائے وہاں لاشیں گرائی گئیں۔'

ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ کا موقف ہے کہ ان کے سکیورٹی گارڈز نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی کیونکہ حملہ آور ڈنڈوں اور آہنی ہتھیاروں سے مسلح تھے اور وہ زبردستی سوسائٹی کے دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ اگر انھیں نہ روکا جاتا تو وہ دفتر میں موجود سٹاف کے ساتھ خون خرابہ کرتے، جس سے کئی جانیں چلی جاتیں۔‘

تنازع کا پس منظر

گجرانولہ میں اوجلہ بلڈرز گروپ نے دو ہاؤسنگ سوسائٹیاں متعارف کروائی ہیں جن میں سے کینال ویو سوسائٹی کی توسیع کی گئی ہے جبکہ رائل پام سوسائٹی حال ہی میں شروع کی گئی ہے۔

مظاہرہ کرنے والے زمینداروں کا الزام ہے کہ ان سے ’زمینیں دھوکہ دہی سے ہتھیائی گئیں، زمینداروں کو پہلے بیعانے کی رقم ادا کی گئی، کچھ زمینداروں کو بقیہ رقم کی ادائیگی کردی گئی جبکہ بیشتر زمیندار ایسے ہیں جن کو بقایا رقم ادا ہی نہیں کی گئی اور ان کی زمینوں کے پلاٹ بنا کر اربوں روپے میں بیچ دیے گئے ہیں‘۔

زمیندار شیر علی سندھو نے الزام عائد کیا کہ ’سوسائٹی مالکان نے اربوں روپے کا فراڈ کیا ہے، متاثرین سے جعلسازی سے زمینیں ہتھیائی گئیں اور اب احتجاج کرنے پر گولیاں برسائی گئیں‘۔

پولیس حراست میں ڈائریکٹر اوجلہ بلڈرز احمد وقاص اوجلہ کا جوابی دعویٰ یہ ہے کہ ان پر کسی کی رقم واجب الادا نہیں ہے۔

'جن کے ساتھ زمینوں کا لین دین کیا گیا سب کو رقوم کی ادائیگیاں کر دی گئی ہیں۔ ہماری اطلاعات کے مطابق ان زمینداروں نے کچھ بروکروں کی وساطت سے اپنی زمینیں ہمارے ہاتھ بیچیں جو کہ ان کو اب ہمارے خلاف اکسا رہے ہیں اور ہمیں بلیک میل کررہے ہیں تاکہ ہم ان کو ان کی مرضی کی زمین کی قیمت ادا کریں۔ جس قیمت پر دوسرے زمینداروں سے زمینیں خریدی گئیں، ان کو بھی وہی قیمت ملے گی اس سے زیادہ نہیں دے سکتے۔‘

ایک زمیندار ریاست علی گوندل کا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں حکومتِ پنجاب سمیت گجرانولہ کے کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اینٹی کرپشن افسران کو درخواستیں دے چکے ہیں لیکن ان کی کہیں شنوائی نہیں ہو رہی۔

ان کا دعویٰ ہے کہ اینٹی کرپشن حکام نے ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالکان کے خلاف مقدمہ درج کیا جس کے بعد سرکل آفیسر اینٹی کرپشن کا تبادلہ کردیا گیا اور اس کے بعد ان کے کیس کو سننے والا کوئی نہیں ہے۔

اینٹی کرپشن کے سرکل آفیسر گوجرانولہ رانا نواز نے بتایا کہ اوجلہ بلڈرز کے ڈائریکٹر احمد وقاص اوجلہ سمیت کچھ سرکاری ملازمین کے خلاف جو مقدمہ اینٹی کرپشن میں درج کیا گیا تھا اس کی تفتیش ابھی جاری ہے۔ انھوں نے بتایا کہ فریقین کے بیانات قلمبند کر لیے گئے ہیں اور ابھی تک مقدمے میں کسی کے خلاف چالان نہیں کیا گیا ہے۔ سرکل آفیسر اینٹی کرپشن کا کہنا تھا کہ ’ہم میرٹ پر تفتیش کررہے ہیں اور میرٹ پر ہی اس کا فیصلہ کریں گے۔‘

سٹی پولیس آفیسر سرفراز احمد فلکی سے جب پوچھا گیا کہ جب زمینداروں کا احتجاج گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے وقفے وقفے سے جاری تھا اور آج بھی احتجاج کی اطلاعات تھیں تو پولیس نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پیشگی اقدامات کیوں نہ کئے تو ان کا جواب تھا کہ وہ اس کی تحقیقات کروائیں گے۔