مریم نواز کی لاپتہ افراد کے اہلخانہ سے ملاقات کے بعد گفتگو: ’وزیراعظم آپ نے ایجنسیوں کو جواب نہیں دینا، اللہ کو دینا ہے‘

مریم

،تصویر کا ذریعہPML-N Media Cell

    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے وزیر اعظم اور آرمی چیف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو آگاہ کریں کہ آیا اُن کے پیارے زندہ ہیں یا مر چکے ہیں۔

لاپتہ افراد کے اہلخانہ سے ملاقات کے بعد اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے لواحقین بھی عزت دار لوگ ہیں جو اسلام آباد کی سڑکوں پر سردی کے موسم میں کھلے آسمان تلے بیٹھے ہوئے ہیں مگر ان کا کوئی پُرسان حال نہیں ہے۔

ادھر وفاقی وزیر برائے اطلاعات شبلی فراز نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کے قانون سے متعلق وزیر اعظم عمران خان نے وزیر قانون کو سخت ہدایات دی ہیں کہ اس حوالے سے بل کو فی الفور پر تیار کیا جائے اور اس کا کوئی طریقہ کار ہونا چائیے۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ خود اظہار ہمدردی کے لیے ایسے احتجاج اور دھرنوں میں جا چکے ہیں اور اظہار یکجہتی بھی کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ گمشدہ لوگوں کے لواحقین کا ایک ہی مسئلہ ہوتا ہے کہ ان کا جو پیارا ہے وہ زندہ بھی ہے یا نہیں، تو کیوں نہ اس کا قانون ہی وہ بنایا جائے کہ تین مہینے، چھ مہینے یا نو مہینے۔۔ کئی ملکوں میں کتنا کتنا ٹائم ہے لیکن ٹائم فریم ہو۔ شبلی فراز کا کہنا تھا کہ آدھا سکون تو فیملی کو اس وقت ہی آ جاتا ہے جب انھیں پتا ہو کہ وہ (ان کا پیارا) زندہ ہے اور کس جگہ پر ہے۔

یاد رہے کہ چند بلوچ مسنگ پرسنز کے اہلخانہ چند روز قبل بلوچستان سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچے تھے جہاں انھوں نے پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگا رکھا ہے۔ آج یہ اہلخانہ بطور احتجاج ڈی چوک پر پہنچے ہیں۔

مریم نواز نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں صرف اتنا پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا مجبوریاں فرض سے بڑی ہوتی ہیں۔‘

’ریاست کا فرض ہے، ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے اگر آپ انھیں زیادہ نہیں بتا سکتے تو یہ تو بتا سکتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں یا مر گئے ہیں۔ اُن کے دل کو تو قرار آئے گا۔‘

مریم نواز نے اپنے بیان میں وزیراعظم عمران خان کو پیغام دیتے ہوئے کہا تھا ’وزیراعظم ہاؤس اتنا دور تو نہیں ہے پانچ منٹ کا راستہ بھی نہیں ہے آپ ان لوگوں کے پاس آئیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

’آپ (وزیر اعظم عمران خان) نے ایجنسیوں کو جواب نہیں دینا، اللہ کو جواب دینا ہے۔ یہ زندہ لاشیں ہیں ان کی بات سُنیں اور اُن کے سر پر ہاتھ رکھیں۔ میرا خیال ہے کہ اس سے ان کی تسلی ہو جائے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم لاپتہ افراد کے لواحقین کے پاس نہیں آ سکتے تو پھر ’بلیک میل نہیں ہوں گا‘ جیسے بیانات نہ دیں اور اپنے وزرا کو بھی بیانات دینے سے منع کریں۔

’خدا کا واسطہ ہے جو مظلوم ہوتا ہے اس کا کوئی صوبہ نہیں ہوتا ہے۔ یہ لوگوں کے زخم پر نمک نہ چھڑکیں۔ وزرا کو منع کریں کہ ان کے زخموں پر نہ نمک چھڑکیں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ سابق دور حکومت میں بھی لاپتہ افراد کے لیے کچھ نہیں کیا گیا تھا تو انھوں نے اس پر بات نہیں کی تاہم یہ ضرور کہا کہ میں ان معاملات کو نہیں جانتی میں نے دور سے دیکھا ہے فرض سے بڑی مجبوری نہیں ہوتی۔

ٹویٹر

،تصویر کا ذریعہTwitter

مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ ’میں ان کی بات سن سکتی ہوں، احساس دلا سکتی ہوں کہ یہ بلوچستان سے ہیں اکیلے نہیں ہیں، پنجاب اور باقی صوبوں کے لوگ ان کے ساتھ ہیں۔ بلوچستان زخمی صوبہ ہے۔ کوئی صوبہ ناراض ہوتا ہے تو اسے دھکے نہیں دیتے۔‘

مریم نواز نے کہا کہ ’یہ آپ ہی کے ملک کے لوگ ہیں، آئیں ان کے ساتھ بات کریں، یہ معاملہ حل ہو سکتا ہے۔ لاپتہ افراد اگر زندہ ہیں تو انھیں عدالتوں میں لائیں جو زندہ نہیں ان کے بارے میں ان لوگوں کو بتا دیں۔‘

’آپ عدالت لے کر جائیں، لوگوں کو پتہ چلے گا کہ واقعی قصوروار ہیں یا آپ سے غلطی ہوئی ہے۔ ان میں سے کچھ ایسے یا زیادہ تر ایسے لوگ ہیں جن کا قصور نہیں ہے۔‘

فواد چوہدری کی ٹویٹ اور اس پر ردعمل

’یہ مائیں پنجاب میں احتجاج کر سکتی ہیں یہاں کوئی ان کے شناختی کارڈ دیکھ کر گولی نہیں مارے گا، لیکن پنجاب کی ان ماؤں کے دُکھ کا کیا کریں جن کے بچوں کو بسوں سے نکال کر صرف پنجابی ہونے پر بلوچستان میں (گولیوں سے) چھلنی کیا جاتا ہے؟ یہ تو کہیں کہ ظلم، ظلم ہے اور خون کا رنگ پنجابیوں کا بھی لال ہی ہے۔‘

اگر آپ نے آج صبح سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر نظر دوڑائی ہے تو سوشل میڈیا صارفین کو یہ ٹویٹ لازمی شیئر کرتے دیکھا ہو گا۔

یہ ٹویٹ وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی جانب سے کی گئی ہے اور آپ کہہ سکتے ہیں کہ حال میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلوچ لاپتہ افراد کے اہلخانہ کی جانب سے لگائے جانے والے احتجاجی کیمپ پر حکومت کی جانب سے دیے جانے والے ابتدائی ردعمل میں سے ایک تھا۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز ہی وفاقی وزیر داخلہ اپنی ایک پریس کانفرنس میں اسی حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب یہ کہہ کر دے چکے ہیں کہ حکومت مسنگ پرسنز کے معاملے کو دیکھ رہی ہے مگر یہ نہیں کہا جا سکتا ان میں کتنے اصل لاپتہ افراد ہیں اور کتنے خود سے ’مِس‘ ہوئے ہیں۔

ٹویٹر

،تصویر کا ذریعہTwitter

درحقیقت فواد چوہدری نے ٹویٹ سوشل میڈیا صارف طوبیٰ سید کی ایک ٹویٹ کے جواب میں پوسٹ کی ہے۔ طوبی سید نے لکھا تھا کہ ’بلوچ مائیں ڈی چوک کی جانب واک کر رہی ہیں، اپنے بیٹوں کے لیے انصاف کا تقاضہ کرنے کے لیے اور ان کی گھروں کو محفوظ واپسی کے لیے۔ سال ہا سال گزر گئے ہیں مگر یہ عورتیں اپنے بچوں کی منتظر ہیں۔‘

یاد رہے کہ بلوچ لاپتہ افراد کے اہلخانہ کا یہ کیمپ سات روز سے اسلام آباد میں پریس کلب کے سامنے لگایا گیا تھا۔ اس کیمپ میں موجود افراد میں سے بیشتر بلوچ خواتین ہیں جن کے ہمراہ بچے بھی ہیں جبکہ مردوں کی تعداد خواتین کے مقابلے میں کم ہے۔ یہ خواتین اور بچے اب ڈی چوک تک مارچ کر کے وہاں دھرنا دیے ہوئے ہیں۔

طوبیٰ سید کی جانب سے کی جانے والی ٹویٹ پر فواد چوہدری کا جواب بہت سے سوشل میڈیا صارفین کو کچھ اچھا نہیں لگا اور انھوں نے اسے لاپتہ افراد کے مسئلے سے ’توجہ ہٹانے‘، لاپتہ افراد کے اہلخانہ کی ’توہین‘ اور ’صوبائیت کو ہوا دینے‘ کی کوشش قرار دیا ہے۔ لیکن ایسے صارفین بھی دکھائی دیے جنھوں نے وفاقی وزیر کی توثیق کی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ ان کی ٹویٹ پر لوگ اُن پر تنقید نہیں کر رہے بلکہ ان کی تعریف کی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’پنجاب کے لیے بات کریں تو تنقید ہو جاتی ہے باقیوں کے لیے کریں تو ٹھیک ہے۔۔۔۔ میری ٹویٹ کو کوئی غلط نہیں لے رہا صرف وہ لوگ تنقید کر رہے ہیں جن کے ویسٹڈ انٹرسٹ ہیں۔‘

سماجی کارکن ندا کرمانی نے لکھا کہ ’کیا آپ ایسے ماؤں کو جواب دیتے ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ وہ ان اموات کی ذمہ دار ہیں؟ اور یہ اموات کیا ریاست کے تشدد کو جواز دیتی ہیں؟ آپ کی ٹویٹ نے لسانی نفرت پیدا کی ہے جو یہ تاثر دیتی ہے کہ بلوچ اجتماعی طور پر اس کے ذمہ دار ہیں اور اس لیے انھیں اجتماعی سزا ملنی چاہیے۔‘

ٹویٹر

،تصویر کا ذریعہTwitter

رابعہ محمود نامی صارف نے فواد چوہدری کی اس ٹویٹ پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ غمزدہ بلوچ ماؤں کی بے عزتی کرنے اور بلوچستان میں پنجابی مزدوروں کو نشانہ بنانے اور دو دہائیوں سے بلوچوں کی ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کو ایک جیسا معاملہ قرار دینے کی سوچی سمجھی کوشش ہے۔‘ انھوں نے لکھا کہ یہ تو ایسا ہی ہے کہ آپ شدت پسندوں اور پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیز کو ایک جیسا دکھائیں۔

مزمل رحیم نے لکھا کہ ’یعنی آپ ہمیں سمجھا رہے ہیں کہ ہم ہی بےوقوف ہیں جو آپ سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔‘

ٹوئٹر صارف الیہہ ملک نے فواد چوہدری کے ردعمل کو ’حیران کُن‘ قرار دیتے ہوئے کہا اور لکھا کہ جب ایک حکومتی نمائندہ ہی ایسی باتیں کرتا ہے تو ہم دوسروں سے کیا گلہ کریں۔‘

ٹویٹر

،تصویر کا ذریعہTwitter

ثاقب جنجوعہ نے چوہدری فواد کے نام پیغام لکھا ’جناب والا یہ اچھا موازنہ نہیں ہے۔ براہ کرم پنجاب، بلوچ کارڈ سے پرہیز کیجیے۔ آئینی طور پر یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انھیں سُنیں۔‘

ایک صارف کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری کی ٹویٹ معصوم بلوچوں کے ذہنوں میں لسانی تعصب اور اشتعال پیدا کرے گی۔ انھوں نے سوال کیا کہ ’کیا آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ ان اندہوناک واقعات کے لیے یہ مائیں بہنیں ذمہ دار ہیں۔‘

عدنان خان محمود نے ٹوئٹ کی کہ ’یہ احتجاج وفاقی دارلحکومت میں ہو رہا ہے۔ بحثیت حکومتی نمائندہ آپ کو یہ تفریق نہیں کرنی چاہیے تھی۔ کیونکہ ریاست ماں ہوتی ہے۔ لیکن آپ کی تحریر سے لگ رہا ہے کہ ریاست بلوچوں کے لیے سوتیلی ماں کا کردار ادا کر رہی ہے۔‘

لیکن تمام صارفین فواد چوہدری پر تنقید نہیں کر رہے۔ سرفراز حبیب نے لکھا کہ چوہدری صاحب کی بات 110 فیصد درست ہے۔ عرفان ارشد نے بھی کہا ’بالکل بجا‘۔

صائم خان نے لکھا پہلی دفعہ متفق ہوں آپ کی بات سے۔

ٹوئٹر

،تصویر کا ذریعہTwitter

عامر نامی صارف نے لکھا کہ بالکل درست، یہ پراپیگنڈا ایک بار پھر پھیلایا جا رہا ہے۔‘