اشرافیہ میں کورونا ویکسین کی تقسیم پر سوشل میڈیا بحث: ’حیرت کی کوئی بات نہیں ہمیں اسی چیز کی توقع تھی‘

وقت اشاعت

وزرات صحت سندھ نے کراچی کے ضلع شرقی میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس کی ایک اہلکار کو کوورونا ویکسین سے متعلق ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں معطل کردیا ہے۔ ان کی معطلی کا فیصلہ سوشل میڈیا پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی بیٹی اور داماد کو کووڈ-19 ویکسین لگائے جانے کی تصاویر وائرل ہونے کے بعد کیا گیا۔

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے جاری ضوابط کے مطابق ویکسین کے لیے جاری مہم کے پہلے مرحلے میں فرنٹ لائن میں کام کرنے والے طبی عملے کو ویکسین لگائی جانی ہے۔ گذشتہ ہفتے کراچی میں ویکسینیشن مہم کا آغاز ہوا تھا۔

سوشل میڈیا پر یہ تصویر سامنے آنے کے بعد اس پر کڑی تنقید کی گئی کہ سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی بیٹی اور داماد نے تو طبی اہلکار تھے اور نہ ہی عمر رسیدہ افراد تو انہیں یہ ویکسین کیسے لگائی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

صوبائی وزیر صحت کی میڈیا کوآرڈینیٹر میران یوسف نے ٹوئٹس کے ردعمل میں کہا کہ 'جس شخص نے ویکسین کی سہولت دی اس کو معطل کردیا گیا اور اس کی تحقیقات کی جائیں گی'۔

انھوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں صوبائی حکومت کی 'ترجیح فرنٹ لائن ہیلتھ کیئر ورکرز ہیں'۔

اس حوالے سے میران یوسف نے تصدیق کی کہ محکمہ صحت کے ڈیٹا بیس کے مطابق جن دو افراد کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں وہ سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی بیٹی اور داماد ہیں۔

وائرل تصاویر میں تھا کیا؟

گذشتہ روز ایک ٹویٹ میں شیئر ہونے والی تصاویر میں بظاہر ایک طبی اہلکار نوجوان خاتون اور مرد کو کورونا کی ویکسین لگا رہی ہیں۔ ٹویٹ میں کہا گیا تھا کہ ’محمد زبیر کی بیٹی اور داماد کو کراچی میں ویکسین لگائی گئی، سندھ حکومت کیسے اپنے من پسند اشرافیہ کو ویکسین دے سکتی ہے ایسے میں جب فرنٹ لائن ورکرز کو ابھی ویکسین نہیں ملی۔‘

’کیا یہ طبی عملے کے لیے مختص نہیں تھی؟‘

اسی ٹویٹ پر رد عمل دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل کا کہنا تھا ’ وہ مافیا جس نے کورونا پر سب سے زیادہ سیاست کی آج بھی انہیں فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز سے زیادہ اشرافیہ کی فکر ہے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز سے پہلے وفاق کی طرف سے دی جانے والی ویکسین کیا سیاسی خاندانوں کی فیملیوں کو لگائی جا رہی ہے؟‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پھر مراد علی شاہ کہتے ہیں ہم کسی کو جواب دہ نہیں- شرمناک‘

اسی تناظر میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے ٹوئٹ میں کہا کہ ’شکایت موصول ہوئی تھیں کے کورونا ویکسین کراچی میں ہیلتھ کیئر ورکرز کے علاوہ جان پہچان والوں کو لگائی جا رہی ہیں. فوری نوٹس لیتے ہوئے آج NCOC کی ٹیم کی فیصل سلطان کی سربراہی میں سندھ حکومت کے نمائندوں سے میٹنگ میں سختی سے صرف ہیلتھ ورکرز کی ویکسینیشن کی تاکید کی گئ.‘

یاد رہے کہ اسد عمر مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر کے بھائی ہیں اور ویکیسن ان کی بھتیجی اور داماد کو لگائی گئی ہے۔

اسی بار پر ایک سوشل میڈیا صارف اعجاز احمد نے اسد عمر کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کا کہنا تھا ’چینلز پر خبر چل رہی ہے کہ وہ جان پہچان والے آپ کے بھائی کی بیٹی اور داماد ہیں مگر آپ نے اپنے رشتوں کا بوجھ بھی سندھ حکومت پر ڈال دیا, انہیں کچھ نہیں کہا, ذرا سی ان کی مذمت کردیں جو آپ کی حکومت کی طرح خاموشی سے واردات ڈال گئے۔, آپ کے رشتہ دار۔‘

اسد عمر کی اس ٹویٹ کے جواب میں ایک سارف نے وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان جاری رنجش کی یاد دہانی کرواتے ہوئے استہزایہ انداز میں کہا ’آپ کی سختی کو سندھ گورنمنٹ خاطر میں نہیں لاتی۔ آپ نے دو تین ٹویٹ کر کہ چپ ہوجانا ہے اور انھوں نے کہنا ہے کچھ کر سکتے ہو تو کرلو بس۔‘

ویکسین لگانے کی تصاویر پر سوشل میڈیا رد عمل

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر پر لوگوں نے سخت ناراضگی اور افسوس کا اطہار کیا۔ کئی صارفین کا کہنا تھا کہ اوّل تو ایسا ہونا نہیں چاہیے تھا اور اگر یہ سچ ہے تو بہت افسوس ناک بات ہے۔ لیکن وہیں کئی لوگ یہ کہتے نظر ائے کہ ان کے لیے اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں وہ اسی چیز کی توقع کر رہے تھے۔

ایک ٹوئٹر صارف زین کا کہنا تھا ’اگر یہ دونوں طبی اہلکار نہیں ہیں تو یہ سندھ حکومت کا مجرمانہ فعل ہے۔‘

بڑی بی نامی ٹوئٹر ہینڈل سے کہا گیا ’ان سے یہی توقع تھی، یاد کریں کووڈ کے آعاز پر آنے والی پی پی ایز (حفاظتی کٹس) بھی طبح اہلکاروں کے بجائے انہی خاندانوں اور ان کے بچوں میں تقسیم کی گئیں۔ اس کے بعد ٹیسٹوں کی تمام کٹس بھی اسی اشرافیہ میں استمعال کی گئیں۔‘

ماہم ’رونے کی ضرورت نہیں۔ ایسا صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں، موقع پرست لوگ ہمیشہ آگے ہوتے ہیں، یاد رہے کہ اب بھی بہت سے لوگ یہ ویکسین لگانے میں ہچکچا رہے ہیں۔‘

اپنی باری سے پہلے ویکسین لگوانے پر ایک صارف نے ان افراد کے لیے ایک سزا بھی تجویز کی ہے۔ ملک عزیز نامی صارف کا کہنا تھا ’سزا کے طور پر انہیں دوا کی دوسری خوراک نہیں دینے چاہیے اور اس کے لیے بھی ان سے دوگنی قیمیت وصول کریں۔‘