کشمالہ طارق کے قافلے شامل گاڑی سے حادثہ: ’میری تو دنیا لٹ چکی ہے، انیس میرا بازو تھا‘

محمد انیس

،تصویر کا ذریعہMuhammad Usama

    • مصنف, عزیز اللہ خان & محمد زبیر خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

’میری تو ساری امیدیں انیس سے جڑی ہوئی تھیں کہ وہ میرے بڑھاپے کا سہارا ہو گا، اور وہ اتنا تابعدار تھا کہ نوکری کے لیے جاتا تو ماں سے کہتا کہ جائے نماز پر بیٹھ کر دعا کرو نوکری کے حصول کے لیے جا رہا ہوں آخر کب تک بابا کام کریں گے۔`

اسلام آباد کے سری نگر ہائی وے پر وفاقی محتسب برائے ہراس کشمالہ طارق کے قافلے میں شامل تیز رفتار گاڑی کے حادثے میں ہلاک ہونے والے چار نوجوانوں میں انیس بھی شامل تھے۔

ان کے والد محمد شکیل نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے اپنے جذبات کے بارے میں بتایا کہ وہ بیٹے کی محبت اور اب ان کی ہلاکت کے بعد اندر سے جیسے ٹوٹ گئے ہیں۔

محمد شکیل کا کہنا تھا کہ ’میری تو دنیا لٹ چکی ہے۔ انیس شکیل میرا بازو تھا۔ اس نے بارہ کلاسیں پڑھ لی تھیں۔ مڈل پڑھنے کے بعد وہ سکول بھی جاتا تھا اور محنت مزدوری بھی کرتا تھا وہ میرا اور اپنی ماں کا بہت خیال رکھتا تھا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’مڈل کے بعد اس نے کبھی مجھ سے اپنی تعلیم اور دیگر اخراجات کے پیسے نہیں لیے تھے۔ اپنی محنت مزدوری کر کے خود ہی اپنے اخراجات پورے کرتا تھا۔ انیس کہتا تھا کہ بابا آپ نے بہت محنت کر لی اور وہ پڑھ لکھ کر ہمارا سہارا بنے گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

محمد شکیل
،تصویر کا کیپشنشکیل احمد کا کہنا ہے کہ ان کی ریٹائرمنٹ کا وقت ہے، ایک بیٹا ذہنی معذور ہے، باقی چھوٹے ہیں، ساری امیدیں انیس ہی سے تھیں

شکیل احمد کا کہنا تھا کہ ملازمت سے ان کی ریٹائرمنٹ کا وقت ہے، ایک بیٹا ذہنی معذور ہے، باقی چھوٹے ہیں ساری امیدیں انیس شکیل ہی سے تھیں۔

’مجھے ایسے لگتا ہے کہ جیسے میری امیدیں ہی ٹوٹ گئی ہیں۔ زندہ رہنے کی خواہش ہی ختم ہو گئی ہے۔ مگر کیا کروں ابھی میرے بچے چھوٹے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اب ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ کوئی ملازمت تلاش کروں گا۔ اپنا اور بیوی بچوں کا پیٹ تو پالنا ہے۔ اس کے لیے کچھ تو کرنا ہو گا۔

شکیل احمد کا کہنا تھا کہ جب اسلام آباد نوکری کے لیے انیس نے درخواست دی تو وہ اپنی ماں کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ 'آپ جائے نماز ڈال کر بیٹھیں اور میری نوکری کے لیے دعا کریں۔ ماں اگر دل سے دعا کرے تو وہ دعا قبول ہوتی ہے، میری نوکری لگ جائے تو اچھا ہو گا، بابا کب تک نوکری کر سکتے ہیں۔‘

حادثے میں ہلاک ہونے والے چار دوست

،تصویر کا ذریعہMuhammad Usama

انھوں نے بتایا کہ ’جب انیس نے پہلا امتحان پاس کیا تو اپنی ماں سے جا کر لپٹ گیا تھا۔ ان سے کہا تھا کہ دیکھو آپ نے دعا کی تو قبول ہو گئی ہے اب بس آخری امتحان رہتا ہے امید ہے کہ آپ دعا کرتی رہی تو اس میں بھی ضرور پاس ہو جاؤں گا۔‘

شکیل احمد کا کہنا تھا کہ بیٹے کے مرنے کا دکھ تو اپنی جگہ مگر میری زندگی میں ایک اور بڑا دکھ ہے کہ جب وہ جارہا تھا تو اس نے مجھ سے اجازت لی کہ میں جا رہا ہوں۔ اس موقع پر میں کام میں مصروف تھا اور انیس سے مل بھی نہیں سکا تھا۔

’بیٹے کو آخری وقت میں نہ ملنے کا بہت بڑا دکھ ہے۔ جس کا اظہار میں کیسے کروں؟`

حادثہ کیسے ہوا؟

اسلام آباد حادثہ

،تصویر کا ذریعہITP

اسلام آباد ٹریفک پولیس کے سیف سٹی کیمرا کی رپورٹ کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی گاڑی کو تیز رفتار لینڈ کروز نے بند ٹریفک اشارے پر ٹکر ماری جس سے وہ الٹتی ہوئی دور جا گری۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ویڈیوز کے مشاہدے سے ظاہر ہوا ہے کہ غلطی لینڈ کروزر کی تھی کیونکہ اس کا ٹریفک سگنل بند تھا۔

رپورٹ کے مطابق لینڈ کروزر نے اس کے بعد ایک موٹر سائیکل کو بھی ٹکر ماری اور وہ بھی دور جا کر سڑک کے درمیان موجود سبزے والے حصے پر جا گری۔

حادثے کے مقام پر بائیں جانب موجود ایک کمیرے سے بنی واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بظاہر اشارہ بند ہونے پر مہران گاڑی سڑک کے درمیان سے سپیڈ لین کی طرف بڑھ رہی ہے اور اس کا رخ چوک کی جانب ہے اور اسی دوران سپیڈ لین میں آنے والی تیز رفتار گاڑی اسے ٹکر مار دیتی ہے۔

پیر کی رات اسلام آباد میں وفاقی محتسب برائے ہراس کشمالہ طارق کے قافلے میں شامل تیز رفتار گاڑی کی ایک سگنل پر ایک مہران گاڑی سے ٹکر لگنے کے بعد مہران میں سوار پانچ میں سے چار دوست ہلاک ہو گئے تھے۔

اس حادثے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے پانچ نوجوان خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے ایک ہی علاقے کے رہنے والے اور قریبی دوست تھے۔

ہلاک ہونے والے فاروق اور زخمی مجیب الرحمن کنگ عبداللہ ہسپتال مانسہرہ میں سکیورٹی گارڈ کے فرائض ادا کرتے تھے جبکہ محمد انیس، محمد عادل اور حیدر علی عرف سونی بہت ہی قریبی دوست اور طالب علم تھے۔

یہ دوست بہتر مستقبل کے خواب سجائے اپنے ایک دوست کی نوکری کے انٹرویو کے لیے مانسہرہ سے اسلام آباد جا رہے تھے۔

پولیس نے زخمی ساتھی کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا تھا اور ایف آئی آر میں کشمالہ طارق کے بیٹے کو نامزد کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ کشمالہ طارق کے بیٹے کی عبوری ضمانت بھی منظور ہوئی ہے۔

روانگی کے وقت اور راستے میں وہ اپنے ساتھی سے رابطے میں رہے

اسلام آباد حادثے کا شکار ہونے والے مانسہرہ کے پانچوں نوجوانوں کے مشترکہ دوست پیر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ جس روز یہ اسلام آباد جا رہے تھے۔ جانے سے پہلے وہ ہمیں مل کر گے تھے۔

’ایک گھنٹہ تک ہم لوگ ساتھ بیٹھے رہے تھے۔ جب یہ موٹر وے سے اترے تو پھر بات ہوئی تھی جب سری نگر ہائے وے پر تھے تو اس وقت بھی بات ہوئی تھی۔‘

پیر حسین شاہ نے بتایا کہ ’ان سے بات چیت کر کے ٹیلیفون بند کیا تھا کہ اس کے دس، 20 منٹ بعد ہمیں حادثہ کا پتا چلا۔ ان کو حادثے میں ہلاک کرنے والوں نے سگنل توڑ کر قانون کی شدید ترین خلاف ورزی کی ہے۔ ان چاروں کی موت سے اس وقت پورا مانسہرہ سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔‘

پیر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ ’ہم سب لوگ ایک ہی علاقے کے رہنے والے ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا تھا جب ہماری ملاقات نہ ہوتی ہو۔ علاقے میں غمی خوشی کے موقع پر ہم لوگ اکھٹے مل کر کام کیا کرتے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس وقت تو تعزیت کے معاملات چل رہے ہیں ، مہمان دور دور سے آ رہے ہیں، تعزیت کا معاملہ ختم ہو تو مقدمے کو دیکھیں گے۔ اگر لگا کہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو رہے تو پھر کوئی بھی حکمران مانسہرہ کی حدود میں داخل نہیں ہو سکے گا۔

قانون کیا کہتا ہے، کیا ہو سکتا ہے؟

ممتاز قانون دان امان ایوب ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ کسی قسم کے حادثات میں ہونے والی اموات کا مقدمہ قتل خطا کی دفعات کے تحت درج کیا جاتا ہے۔ حادثات میں ہونے والی اموات میں کسی کو بھی کپیٹل یا انتہائی سخت سزا، سزائے موت یا عمر قید نہیں دی جاتی ہے۔

حادثات میں ہونے والے مقدمات میں اگر جرم ثابت ہو جائے تو ملزم کو دیت ادا کرنے کی سزا دی جاتی ہے جو کہ اس وقت 27لاکھ روپیہ فی کس بنتا ہے۔

ظفر اقبال ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ملزم دیت ادا نہ کرسکے یا ادا نہ کرنا چاہیے تو اس کو زیادہ سے زیادہ دس سال قید کی سزا دی جاتی ہے۔

ظفر اقبال ایڈووکیٹ نے بتایا کہ حادثات کے تحت ہونیوالے مقدمات میں ضمانت کا حق ملزم کو ملتا ہے۔ جس میں مختلف کیسز کی مختلف گراونڈ ہو سکتی ہیں۔ بہت کم مقدمات ایسے ہوتے ہیں جس میں عدالتیں حادثات کے مرتکب ملزمان کو ضمانتیں نہیں دیتی ہیں عموماً عدالتیں ان کیسز میں ملزمان کو ضمانت پر رہائی دے دیتی ہیں۔

ظفر اقبال ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ اگر اس کیس میں ملزم کے پاس ڈارئیونگ لائنس ہو، گاڑی رجسڑ ہو تو پھر عدالتیں عموماً ضمانت دینے میں زیادہ وقت نہیں لیتی ہیں۔ لیکن اگر حادثات کے کیسز میں ثابت ہو کہ ملزم نشے وغیرہ کی حالت میں تھا تو اس کا الگ سے مقدمہ چلا ہے۔

انھوں نے کہا کہ حادثات کے مقدمات ہوں یا کوئی اور سنگین نوعیت کا مقدمہ ہو اس میں ضمانت قبل از گرفتاری ملزم کا حق سمجھا جاتا ہے۔ عموماً عدالتیں پہلی مرتبہ ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کرنے والے کسی بھی ملزم کو پہلی تاریخ پر ضمانت قبل از گرفتاری دے کر ریکارڈ طلب کرتی ہیں۔ پھر اس ریکارڈ کی روشنی میں فیصلہ ہوتا ہے۔

حادثات کے کیسز میں اگر ملزم کی جانب سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرنا پولیس کے ساتھ تفتیش میں تعاون سے مشروط ہوتا ہے۔

کشمالہ طارق کیا کہتی ہیں؟

کشمالہ طارق

اس حادثے کے بعد جب سوشل اور دیگر زرائع ابلاغ پر یہ خبریں چلیں اور اس کی ویڈیو وائرل ہوئی تو کشمالہ طارق نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انھیں سخت افسوس ہے لیکن بظاہر ان کا میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے۔

کشمالہ طارق اس وقت وفاقی محتسب برائے ہراس ہیں جبکہ اس سے پہلے وہ رکن قومی اسمبلی رہی ہیں۔ انھوں نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ وہ لاہور سے اسلام آباد دو گاڑیوں میں آ رہے تھے۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ایک گاڑی میں بیٹھی تھیں کہ ای الیون میں ایک چوک پر انھیں جھٹکا لگا جس سے وہ خود بھی زخمی ہوئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یک طرفہ خبریں چل رہی تھیں اور وہ چاہتی تھیں کہ جائے حادثہ پر جو حال تھا وہ بتاؤں اور وہاں پر کیا ہوا اور خود بھی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھیں نہ وہ گاڑی چلا رہی تھیں ناں ان کے شوہر اور ناں ہی ان کے بیٹے گاڑی چلا رہے تھے۔

ان سے جب پوچھا کہ ان ہلاکتوں کا ذمہ دار کون ہے تو انھوں نے کہا کہ پولیس کو اپنا کام کرنے دیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے اسے دیکھ کر معلوم ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ان کا بیٹا پچھلی گاڑی میں تھا اور جب ماں کی گاڑی کو حادثہ ہوتا ہے تو بیٹا تو بھاگ کر آئے گا اور بیٹے نے ہی انھیں گاڑی سے نکالا ایسا نہیں ہے کہ ان کا بیٹا گاڑی چلا رہا تھا۔‘

سیاست کہاں ہو رہی ہے؟

اس حادثے کے بعد سیاسی جماعتوں اور حکومتی ارکان کی جانب سے بھی بیانات سامنے آنا شروع ہوئے تھے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی اطلاعات کے شعبے کی خصوصی معاون فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ کشمالہ طارق کے خلاف ریفرنس دائر کیا جائے گا اور اس ریفرنس کے ذریعے انھیں عہدے سے ہٹایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمالہ طارق کی پروٹوکول کی گاڑیوں نے چار معصوم افراد کی جان لے لی ہے اس پر کابینہ میں بھی وزارت قانون سے کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں کارروائی کا آغاز کر دیا جائے۔

یاد رہے کہ کشمالہ طارق کو 2018 میں چار سال کے لیے وفاقی محتسب برائے ہراس تعینات کیا گیا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ کشمالہ طارق کو ان خبروں کے بعد کہ ان اکاؤنٹ میں کروڑوں روپے آئے ہیں مستعفی ہو جانا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ کشمالہ طارق پاکستان مسلم لیگ ن کی ترجمان ہیں۔ اس کے برعکس جب کشمالہ طارق نے کہا کہ وہ شروع دن سے پاکستان مسلم لیگ ق کے ساتھ تھیں اور اب بھی مسلم لیگ ق کے ساتھ ہیں۔