کریمہ بلوچ کی آبائی علاقے میں تدفین، جنازے میں شرکت سے روکنے کے الزامات

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

کینیڈا میں جلاوطنی کے دوران ہلاک ہونے والی بلوچ سیاسی رہنما کریمہ بلوچ کی تدفین پیر کو ان کے آبائی علاقے تمپ میں کر دی گئی ہے۔

ان کی میت کو اتوار کو کینیڈا سے کراچی منتقل کیا گیا تھا اور بعد میں کراچی سے میت سڑک کے ذریعے تمپ منتقل کی گئی۔

لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے بتایا کہ کریمہ بلوچ کی تدفین تمپ میں دوپہر کے بعد کی گئی۔

کریمہ بلوچ کی نمازجنازہ اور تدفین میں لوگوں کوشرکت سے روکنے کا الزام

اطلاعات کے مطابق پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر کیچ، گوادر اور دیگر علاقوں سے بلوچ سیاسی رہنما کریمہ بلوچ کی جنازے میں شرکت کے لیے جانے والے افراد کو تربت سے آگے جانے سے روک دیا گیا تھا۔

اس حوالے سے موقف جاننے کے لیے بی بی سی نے مقامی انتظامیہ اور بلوچستان حکومت کے ترجمان سے متعدد مرتبہ رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہو سکا ہے۔ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس نوعیت کی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے۔

ماما قدیر بلوچ نے الزام عائد کیا کہ حکومت کی جانب سے لوگوں کو کریمہ بلوچ کی نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت سے روکا گیا۔

کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنمائوں نے کریمہ بلوچ کی نماز جنازہ اور تدفین میں مبینہ طور پر لوگوں کو شرکت سے روکنے کے اقدام کی مذمت کی۔

پارٹی کے مرکزی رہنما ولی کاکڑ نے نواب اکبر بگٹی کے جنازے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں یہ پہلا موقع نہیں کہ لوگوں کو شرکت سے روکا گیا ہو۔

بی این پی کے رہنما نوابزادہ لشکری رئیسانی نے سوال اٹھایا کہ ایک اسلامی فلاحی مملکت میں لوگوں کو نماز جنازہ میں شرکت سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بی این پی کے رہنمائوں نے منگل کو کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں کریمہ بلوچ کی غائبانہ نماز جنازہ کی ادائیگی کا اعلان کیا۔

گوادر سے تعلق رکھنے والے ایک شہری نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ وہ ان لوگوں میں شامل تھے جو گوادر زیرو پوائنٹ سے ان گاڑیوں میں شامل ہو گئے تھے جو کراچی سے کریمہ بلوچ کی میت کو تمپ لے کر جا رہی تھیں۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ جب اتوار کی شام کو یہ گاڑیاں تربت کے علاقے ڈی بلوچ چوک پہنچیں تو وہاں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی بھاری نفری بھی موجود تھی۔ انھوں نے بتایا کہ وہاں سے صرف ان پانچ چھ گاڑیوں کو تمپ جانے دیا گیا جو کہ میت کے ہمراہ تھیں۔

ان کے مطابق لوگوں کی بہت بڑی تعداد بھی وہاں موجود تھی جو اس قافلے کے ساتھ تربت جانا چاہتی جو کریمہ بلوچ کی میت لے کر تمپ جا رہا تھا لیکن یہاں سے کسی کو بھی تمپ اور مند کی جانب نہیں جانے دیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ ڈی چوک سے آگے ان لوگوں کو بھی نہیں جانے دیا جا رہا تھا جو کہ اب اپنے اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بہت سی ایسی ویڈیوز بھی زیر گردش ہیں جن میں لوگ اسی نوعیت کی شکایات کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

کچھ ویڈیوز میں لوگ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سے درخواست بھی کرتے نظر آتے ہیں کہ انھیں جانے دیا جائے۔

اس سے پہلے کراچی سے فون پر ماما قدیر بلوچ نے بتایا تھا کہ تمپ اور گردونواح کے علاقے میں موبائل فون نیٹ ورک سروس معطل کر دی گئی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ تمپ اور دیگر علاقوں میں کرفیو جیسی صورتحال ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اتوار کو کراچی میں مولوی عثمان پارک میں کریمہ بلوچ کی میت کو لانے اور وہاں نماز جنازہ کی ادائیگی کا پروگرام تھا لیکن ایئرپورٹ سے ہی ان کی میت کو لیاری نہیں لانے دیا گیا بلکہ کراچی ایئرپورٹ سے ہی بلوچستان کے علاقے حب منتقل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے خلاف لیاری میں احتجاج بھی کیا گیا تھا۔

سوشل میڈیا پر کچھ ایسی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں جس میں کریمہ بلوچ کے ’اغوا اور قتل‘ کے خلاف بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مظاہرے اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے۔

کریمہ بلوچ کی تدفین

تمپ بلوچستان کے ضلع کیچ میں واقع ہے اور اُن کی بہن کے مطابق یہاں پر تدفین کریمہ کی وصیت کے مطابق کی گئی ہے۔

کریمہ کی موت گذشتہ دسمبر کینیڈا میں واقع ہوئی تھی اور ٹورنٹو پولیس نے ان کی ہلاکت کے پیچھے کسی جرم کے امکان کو مسترد کیا تھا۔

تاہم خاندان کے افراد نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

ان کی بہن ماہ گنج بلوچ نے بتایا کہ کریمہ کی میت اتوار کی شب پاکستان پہنچی لیکن حکام نے چار گھنٹے کی تاخیر کے بعد اسے خاندان کے حوالے کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کریمہ بلوچ نے یہ وصیت کی تھی کہ ان کی تدفین بلوچستان میں کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی وصیت کے مطابق کریمہ کی تدفین 25 جنوری کو ان کے آبائی علاقے تمپ میں کی جائے گی۔

کریمہ کے خاوند حمل بلوچ نے ٹوئٹر پر اس حوالے سے ان کا لکھا ایک نوٹ بھی شیئر کیا ہے۔

’میت کے ہمراہ سکیورٹی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد تھی‘

کریمہ بلوچ کی میت اتوار کو کینیڈا سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی پہنچی تھی۔

حوالگی کے بعد خاندان کے افراد میت کو لے کر بذریعہ روڈ اپنے آبائی علاقے کی جانب روانہ ہو گئے تھے۔

کریمہ بلوچ کی بہن ماہ گنج بلوچ نے بتایا تھا کہ میت کے ہمراہ سیکورٹی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد تھی۔

ماہ گنج بلوچ نے دعویٰ کیا تھا کہ میت کو پہلے ان کے حوالے کرنے میں رکاوٹ ڈالی گئی اور یہ بتایا گیا کہ اسے ایک خصوصی طیارے میں تربت پہنچایا جائے گا۔ ’ہم نے اس پر احتجاج کیا اور کہا کہ ہم میت کو بذریعہ روڈ اپنے آبائی علاقے لے جائیں گے جس پر یہ کہا گیا کہ اگر آپ لوگ نہیں مانتے تو لاش کو واپس ٹورنٹو بھیج دیں گے۔‘

انھوں نے بتایا تھا کہ خاندان کے افراد کے احتجاج پر میت کو چار گھنٹے بعد صبح سات بجے کے قریب حوالے کیا گیا ’لیکن ہمیں میت کو کراچی سے ہماری اپنی مرضی کے مطابق روٹس سے نہیں لے جانے دیا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں نے کراچی میں مختلف علاقوں میں میت کی استقبال کا پروگرام بنایا گیا تھا ’لیکن ہمیں دیگر راستوں سے نکال کر بلوچستان کے علاقے حب پہنچایا گیا۔‘

جب صبح ساڑھے نو بجے ماہ گنج سے رابطہ ہوا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ ’اس وقت بلوچستان کے علاقے وندر سے گزر رہے ہیں۔’

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے علاقے میں پہلے ہی موبائل نیٹ ورک کو بند کیا گیا ہے۔

کریمہ بلوچ کی موت کیسے ہوئی؟

کریمہ بلوچ کی موت گذشتہ سال دسمبر میں کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں ہوئی تھی۔ ٹورنٹو پولیس کو ان کی لاش پانی سے ملی تھی۔ٹورنٹو پولیس نے ان کی ہلاکت کے پیچھے کسی جرم کے امکان کو مسترد کیا تھا۔

لیکن کریمہ بلوچ کے خاندان کے افراد اور بلوچ قوم پرست جماعتوں نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ ان کو ایک سازش کے تحت ہلاک کیا گیا۔

بلوچ سیاسی کارکن ڈاکٹر ماہ رنگ کے مطابق یہ جلاوطنی اختیار کرنے والے بلوچ سیاسی رہنمائوں اور دانشوروں کے ساتھ پیش آنے والا اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جس طرح گمشدگی کے بعد سویڈن میں بلوچ صحافی ساجد حسین کی لاش پانی سے ملی تھی اسی طرح گمشدگی کے بعد کریمہ بلوچ کی بھی لاش پانی سے ملی۔

کریمہ بلوچ کی بہن ماہ گنج بھی اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں کہ ان کی موت حادثاتی تھی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ماہ گنج بلوچ نے بتایا کہ ان کی بہن ایک بہادر اور مضبوط اعصاب کی مالک تھیں اور وہ خود کشی کو بزدلی سمجھتی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جب مرد سیاسی کارکنوں کے لیے اعلانیہ سیاسی جدوجہد کرنا مشکل تھا تو کریمہ بلوچ نے کالعدم بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائیزیشن (آزاد) کی قیادت کی تھی۔

کریمہ بلوچ کی موت کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ

ماہ گنج بلوچ نے بتایا تھا کہ ’ہم نے نہ صرف کینیڈا کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کریمہ بلوچ کی موت کے بارے میں بڑے پیمانے پر تحقیقات کرے بلکہ اقوام متحدہ سے بھی یہ مطالبہ ہے کہ ان کی موت کے پیچھے مبینہ سازشوں کا پتا لگانے کے لیے تحقیقات کرے۔

کریمہ بلوچ کی ہلاکت کے خلاف بلوچ قوم پرست جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے بلوچستان میں احتجاج بھی کیا گیا تھا۔

ان کی جانب سے بھی کریمہ بلوچ کی موت کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

کریمہ بلوچ کون تھیں؟

بی بی سی کے نمائندے ریاض سہیل کے مطابق کریمہ بلوچ بلوچستان کے شہر تربت میں سنہ 2005 میں اس وقت پہلی بار سامنے آئی تھیں جب انھوں نے ہاتھ میں ایک لاپتہ نوجوان گہرام کی تصویر اٹھا رکھی تھی۔ یہ نوجوان ان کا قریبی رشتے دار تھا، نقاب پہنے ہوئے یہ نوجوان لڑکی کون تھیں، صرف چند ہی لوگ جانتے تھے۔

ضلع کیچ کی تحصیل تمپ سے تعلق رکھنے والی کریمہ بلوچ کے والدین غیر سیاسی تھے تاہم ان کے چچا اور ماموں بلوچ مزاحمتی سیاست میں سرگرم رہے ہیں۔

بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں کی ماں سمجھی جانے والی طلبہ تنظیم بلوچستان سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کے تین دھڑوں کا جب 2006 میں انضمام ہوا تو کریمہ بلوچ کو سینٹرل کمیٹی کا رکن منتخب کیا گیا۔ یہ سفر جاری رہا اور سنہ 2008 میں وہ جونیئر نائب صدر کے عہدے پر فائز ہوئیں جب بی ایس او کے سینیئر نائب صدر ذاکر مجید کی گشمدگی ہوئی تو کریمہ نے ان کا یہ عہدہ سنبھالا۔

بی ایس او رہنما زاہد بلوچ کی جبری گمشدگی کے بعد کریمہ نے تنظیم کے چیئرپرسن کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالی تھیں اور وہ بی ایس او کی پہلی خاتون چیئرپرسن تھیں۔ تنظیمی طور پر یہ ایک کٹھن دور تھا جب تنظیم کے مرکزی رہنماؤں کی جبری گمشدگی ہو چکی تھی، بعض افراد پوشیدہ ہو گئے تھے اور کچھ نے سرے سے ہی اپنی راہیں علیحدہ کر لی تھیں۔

بلوچستان کی آزادی پر یقین رکھنے والی اس طلبہ تنظیم بی ایس او آزاد پر حکومت پاکستان نے مارچ 2013 میں پابندی عائد کردی تھی۔ ایسے میں کریمہ بلوچ نے اس تنطیم کو فعال رکھا اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں جا کر تنظیمی مواد وہاں پہنچاتی رہیں۔

کریمہ بلوچ کا شمار ان پہلی خواتین طلبہ رہنما کے طور پر کیا جاتا ہے جنھوں نے نئی روایت قائم کی اور تربت سے لے کر کوئٹہ تک سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔

انھوں نے تربت سے بی اے کیا اور بعد میں بلوچستان یونیورسٹی میں ایم اے میں داخلہ لیا لیکن اپنی سیاسی سرگرمیوں کے باعث تعلیم جاری رکھ نہیں سکیں، پاکستان میں حالات ناساز گار ہونے کے بعد وہ کینیڈا چلی گئیں جہاں انھوں نے سیاسی پناہ حاصل کی۔

وہ یورپ سمیت جنیوا میں انسانی حقوق کے حوالے سے اجلاسوں میں شرکت کرتی رہیں اور ٹوئٹر اور فیس بک پر اپنے خیالات کا اظہار کرتی تھیں۔