آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مریم نواز: خواجہ آصف کو نواز شریف کے بیانیے سے پیچھے ہٹنے پر کیسز ختم کرنے کی پیشکش کی گئی تھی
پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کو گرفتار کر لیا ہے۔ نیب لاہور نے خواجہ آصف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کے کیس میں اسلام آباد سے گرفتار کیا ہے۔
خواجہ آصف کی گرفتاری کے بعد مریم نواز شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ خواجہ آصف سے نواز شریف کے بیانیے کی مخالفت کرنے کے بدلے کہا گیا تھا کہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ان کے کیسز ’پندرہ بیس دن کے اندر ختم ہو جائیں گے‘۔
مریم نواز شریف نے دعویٰ کیا کہ ان تمام باتوں کے چند روز بعد ہی خواجہ آصف کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور انھوں نے اس گرفتاری کو ایک ’اغوا‘ قرار دیا ہے۔
خواجہ آصف کی گرفتاری
نیب راولپنڈی کے ترجمان نے بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کو گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ خواجہ آصف کو رات نیب راولپنڈی میں رکھا جائے گا اور بدھ کی صبح نیب عدالت سے راہداری ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد انھیں لاہور منتقل کر دیا جائے گا۔
گرفتاری کے بعد نیب راولپنڈی میں ضابطے کی کارروائی کرتے ہوئے ان کا طبی معائنہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل خواجہ آصف کو پوچھ گچھ کے لیے نیب لاہور میں طلب کیا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خواجہ آصف کی گرفتاری پر ردعمل
پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ ’یہ گرفتاری نہیں بلکہ اغوا ہے‘ جس کے ذریعے ’ہمیں دھمکانے کی کوشش‘ کی جا رہی ہے۔
مسلم لیگ ن کے مشاورتی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ خواجہ آصف نے ’مجھے بتایا کہ انھیں کسی نے بلا کر کہا کہ نواز شریف کو چھوڑ دیں لیکن خواجہ آصف نے کہا کہ میں ہر طرح کے رد عمل کے لیے تیار ہوں، آپ نے جو کرنا ہے کر لیں‘۔
مریم نواز شریف نے دعویٰ کیا کہ خواجہ آصف سے نواز شریف کے بیانیے کی مخالفت کرنے کے بدلے کہا گیا تھا کہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ان کے کیسز ’پندرہ بیس دن کے اندر ختم ہو جائیں گے‘۔
اس موقع پر انھوں نے کہا کہ ’میں حلفاً کہہ رہی ہوں خواجہ آصف صاحب کو کہا گیا کہ آپ نواز شریف کے بیانیے سے اختلاف کریں۔‘
مریم نواز نے کہا کہ خواجہ آصف سے یہ بات کس نے کہی ’وہ نام ان کی امانت ہیں‘ اور وہ ابھی اس بارے میں نہیں بتانا چاہتی ہیں۔
مریم نواز شریف نے دعویٰ کیا کہ ان تمام باتوں کے چند روز بعد ہی خواجہ آصف کو گرفتار کر لیا گیا ہے جو کہ ایک ’اغوا‘ ہے۔
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ’خواجہ آصف کی گرفتاری سلیکٹرز اور سلیکٹڈ کے گٹھ جوڑ کا انتہائی قابل مذمت واقعہ ہے‘۔
ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انھوں نے لکھا کہ ’ایسی بھونڈی حرکتوں سے حکومتی بوکھلاہٹ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے لیکن ان حرکتوں سے یہ اپنے انجام کو مزید قریب لا رہے ہیں۔ اندھے سیاسی انتقام کے دن گنے جا چکے ہیں۔‘
مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ ’شکست کے خوف کو سامنے رکھ کر فیصلے کیے جا رہے ہیں، نیب عمران خان کی آلہٰ کار بن کر بغیر کسی کیس کے لوگوں کو اٹھا لیتا ہے‘۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ ہتھکنڈے موجودہ حکومت کو گھر لے جانے میں جلدی کریں گے‘۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’قوم کو انصاف دینا عدلیہ کی ذمہ داری ہے، میں عدلیہ سے کہوں گی کہ قوم کی نظریں آپ کی طرف دیکھ رہی ہیں۔‘
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے خواجہ آصف کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'سیاسی انتقام کی یہ روایت پاکستان کے استحکام کے خلاف ہے۔'