کورونا وائرس کی دوسری لہر: کیا پاکستان میں شادی کی تقریبات کووڈ 19 کے پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہیں؟

،تصویر کا ذریعہSaba Sahar / @ssphotography_official
- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد منگل کو ان کی جانب سے جاری بیان میں انھوں نے اپنی طبیعت کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے شہریوں سے ایس او پیز پر عمل درآمد اور احتیاط کرنے کی اپیل کی ہے۔
یہی نہیں، بلکہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے عوام کو یہ تلقین بھی کی کہ ہجوم والی جگہوں پر جانے سے گریز کریں۔
واضح رہے کہ دو روز قبل ہی وزيراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو ایک معروف سیاستدان کی بیٹی کی شادی پر ماسک کی پابندی نہ کرتے ہوئے تقریب میں شرکت کرتے دیکھا گیا تھا جس کے اگلے ہی روز ان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔
مقامی اور سوشل میڈیا پر موجود پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاستدان کی بیٹی کی شادی کی ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے علاوہ دیگر سیاستدان اور معروف شخصیات نے بھی تقریب میں شرکت کی، جن میں سے بیشتر نے ماسک کی پابندی اور کورونا ایس اور پیز پر عمل نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

اسی شادی میں شریک ایک مہمان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نکاح کی تقریب گھر کے لان میں ہی منعقد کی گئی تھی اور ان کے مطابق وہاں تقريباً دو سو سے زائد افراد نے شرکت کی۔
انھوں نے بتایا ’جگہ چھوٹی ہونے کی وجہ سے وہاں سماجی فاصلہ رکھنا بھی ممکن نہیں تھا، اس لیے میں نے تقریب میں سب سے دور بیٹھنا مناسب سمجھا۔‘
ان حالات پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ معروف شخصیات جو عوام کو کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کرنے کا کہتی ہیں، کم از کم وہ خود تو ان احتیاطی تدابیر کا عملی مظاہرہ کیا کریں۔ یہ تو وہی بات ہو گئی کہ ’دوسروں کو نصیحت اور خود میاں فصیحت۔‘
کیا شادی کی تقریبات کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ وہ واحد تقریب نہیں جس میں کورونا ایس او پیز کا خیال نہیں رکھا جا رہا ہے، بلکہ اس وقت ملک بھر میں ہونے والی بیشتر شادی کی تقریبات میں ایسی ہی صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے۔
اس بارے میں ایک شادی ہال کے مالک محمد جہانزیب نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ یا ضلعی انتظامیہ اس وقت تک ان ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں کروا سکتے ہیں جب تک لوگ خود نہ کرنا چاہیں۔
’ہم نے داخلی راستے پر ماسک اور سینٹائزر بھی رکھے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی لوگ ماسک نہیں پہنتے ہیں۔ جب تک لوگ اس کام کو سماجی ذمہ داری سمجھ کر نہیں کریں گے تب تک کچھ نہیں ہو سکتا۔‘
انھوں نے مزيد بتایا ’ایک شادی میں شریک مہمان کو جب میں نے کہا کہ ماسک پہن لیں تو کہنے لگے کہ آپ فکر مت کریں میں امتحان دے کر پاس بھی ہو گیا ہوں۔ میں نے پوچھا کیا مطلب؟ تو وہ بولے کہ مجھے کورونا ہوا تھا اور اب ٹھیک ہوں ایسے ہی لوگ زیادہ سر پر سوار کر رہے ہیں، اس سے کچھ نہیں ہوتا۔‘
شادی ہال کے مالک نے یہ بھی کہا کہ ’ہم لوگوں کی اس سوچ اور ایسے رویوں سے کیسے نمٹ سکتے ہیں؟ یہ تو احساس ذمہ داری ہے جو پاکستانیوں کو خود پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ اپنے علاوہ دوسروں کا خیال رکھتے ہوئے ہی احتیاط کر لیں۔‘
حال ہی میں لاہور سے تعلق رکھنے والا ایک خاندان اپنے قریبی عزیز کی شادی میں شرکت کرنے کے لیے پشاور گیا تھا۔ اس خاندان کے ایک فرد نے بتایا کہ نکاح کی تقریب میں تقریباً پچاس سے زیادہ لوگ شریک تھے، جن میں سے چند لوگوں نے ماسک پہن رکھا تھا جبکہ کچھ نے اس پر عمل نہیں کیا۔
خاندان کے فرد کے مطابق تقریب میں شامل ’کوئی ایسا شخص ضرور تھا جو کورونا وائرس کا شکار تھا، لیکن شاید وہ خود بھی نہیں جانتا تھا، کیونکہ بظاہر تو سب ٹھیک ہی لگ رہے تھے۔‘
ان کے مطابق ’اس تقریب کے بعد مجھ سمیت ہمارے خاندان کے 32 لوگوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’تصویر بنوانے اور کھانا کھانے کے لیے تو لوگ ماسک اتارتے ہی ہیں‘
شادی کی تقریبات میں بطور فوٹوگرافر کام کرنے والے ذیشان مظہر کہتے ہیں کہ ’ہمارا کام کرنا مجبوری ہے اور اس سے ہمارا روزگار جڑا ہے۔ اس لیے شادی کی تقریبات میں جانا ہماری مجبوری بھی ہے‘۔
ذیشان مظہر کے مطابق وہ اور ان کے تمام گھر والے بھی چند ماہ پہلے کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔
ان کے مطابق کورونا کی پہلی لہر کے بعد لوگوں نے اب اس وائرس اور اس سے بچنے کے لیے ایس اور پیز کو سنجیدگی سے لینا چھوڑ دیا ہے۔
’شادی کی تقریبات میں شرکت کرنے والے کچھ مہمان اگر ماسک پہن کر بھی آئیں تو تصاویر بنوانے اور کھانا کھانے کے لیے تو ہر حال میں ماسک اتار ہی دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین ویسے ہی اتنا پیسہ لگا کر اور تیار ہو کر ماسک پہننا پسند نہیں کرتی ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’حال ہی میں مجھ سے ایک شخص نے رابطہ کیا اور پوچھا کہ ایک ہفتے بعد میری شادی ہے، کیا آپ میری شادی کی تقریب کی کوریج کر سکتے ہیں۔ جس پر میں نے ان سے پوچھا کہ آپ اتنی دیر سے کیوں بتا رہے ہیں؟‘
انھوں نے مجھے جواب دیا کہ ’میں نے پہلے سے ایک دوسرے فوٹوگرافر سے بات کر رکھی تھی لیکن مجھے اس کا ابھی فون آیا ہے کہ وہ اور اس کے ٹیم کے دیگر لوگ کورونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے وہ میری شادی کی تقریب میں نہیں آسکتے ہیں۔ تاہم میں ان کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے کم از کم اس ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجھے اطلاع دے دی۔‘
ذیشان مظہر کا کہنا تھا کہ یہی چھوٹی چھوٹی باتیں اور احتیاط، جن کا اگر ہم خیال رکھ لیں تو بہت سے لوگ اس وبا سے بچ سکتے ہیں۔


























