حفیظ شیخ کو وزیر خزانہ اور شیخ رشید کو وزیر داخلہ بنائے جانے پر بحث و سوشل میڈیا ردعمل

    • مصنف, عمیر سلیمی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اپنی کابینہ میں کچھ اہم تبدیلیوں کا فیصلہ کیا ہے جس میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو اسی وزارت خزانہ کا وزیر تعینات کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ آئینی و پارلیمانی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے ایسا ’رکاوٹیں دور کرنے کے لیے‘ کیا ہے۔

وزیر اعظم آفس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق شیخ رشید احمد نئے وزیر داخلہ ہوں گے۔ وہ اس سے قبل ریلوے کی وزارت کے امور سنبھال رہے تھے۔ ماضی میں وہ پاکستان کے وزیر اطلاعات بھی رہ چکے ہیں۔

اعجاز شاہ کو وزیر داخلہ کے عہدے سے ہٹا کر نارکوٹکس کنٹرول کا وزیر بنایا گیا ہے جبکہ اعظم سواتی نئے وزیر ریلوے ہوں گے۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے وزرا کی کارکردگی کے علاوہ اپوزیشن کے اتحاد (پی ڈی ایم) کی حکومت مخالف تحریک کو مدنظر رکھتے ہوئے کابینہ میں ان تبدیلیوں کا فیصلہ کیا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے

حفیظ شیخ کی مشیر خزانہ سے بطور وزیر خزانہ تقرری کیسے ممکن ہے؟

ٹیکنوکریٹ حفیظ شیخ کو وزیر خزانہ بنائے جانے پر آئینی ماہر وسیم سجاد کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 91 کے تحت وفاقی حکومت میں عام طور پر صرف کسی ایسے شخص کو وزیر بنایا جاسکتا ہے جو پارلیمان (قومی اسمبلی یا سینیٹ) کا رکن ہو۔ لیکن ان کے مطابق اس آرٹیکل میں لکھا ہوا ہے کہ آپ کسی بھی شخص کو چھ ماہ کے لیے وزیر بنا سکتے ہیں۔

’اگر اس دوران وہ اسمبلی میں منتخب نہیں ہوتا تو پھر اسے عہدہ چھوڑنا پڑتا ہے۔ یہ ایک خصوصی شق ہے تاکہ اگر کسی کی فوری طور پر ضرورت ہو تو اس کی تقرری کر دی جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے یوں لگتا ہے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں، جس میں سوال کیا گیا تھا کہ مشیر یا معاون کیا کرسکتا ہے اور کیا نہیں، اور حکومتی کام میں رکاوٹیں آرہی تھیں۔۔۔ غالباً کوشش یہ ہوگی کہ مارچ میں انھیں سینیٹر بنا دیا جائے۔ پھر راستے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔‘

سینیئر صحافی ایم بی سومرو نے اس حوالے سے معاون خصوصی و مشیر کے اختیارات سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا بھی ذکر کیا جس میں عدالت کا کہنا تھا کہ غیر منتخب شخص حکومتی کمیٹی کے اجلاس کی سربراہی نہیں کرسکتے۔

شیخ رشید کی وزارت داخلہ میں تعیناتی: کیا وجہ ہوسکتی ہے؟

سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد کا کہنا ہے کہ یہ وزیر اعظم کی صوابدید ہے کہ وہ اپنے حالات کا جائزہ لے کر اپنی ٹیم میں تبدیلیاں کرتے رہتے ہیں۔ ’وہ سمجھتے ہیں کہ شاید شیخ رشید بطور وزیر داخلہ زیادہ موثر رہیں گے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’وزارت داخلہ اس وقت ملک میں بہت اہم ہے کیونکہ ملک میں ایسے معاملات ہیں، جلسے جلوس ہو رہے ہیں۔ کچھ لا اینڈ آرڈر کے مسائل آ رہے ہیں۔ ’تو وزیر اعظم نے سوچا ہوگا کہ شیخ رشید اس عہدے کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔‘

پارلیمانی امور پر نظر رکھنے والے صحافی ایم بی سومرو بھی اس بات سے متفق ہیں کہ ’جب اسلام آباد میں مارچ ہوگا تو وزارت داخلہ کا کام بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔

’لگ رہا ہے کہ حکومت اپوزیشن کے دھرنوں سے سیاسی طور پر نمٹنا چاہتی ہے۔ یہ قلمدان ایک ایسے بندے کو دیا گیا ہے جو اپنے تجربے کی بنا پر میڈیا کی نفسیات کو جانتے ہیں۔‘ ان کے مطابق شیخ رشید ماضی میں بطور وزیر اطلاعات کام کر چکے ہیں اور ملتان جلسے کے بعد ’حکومتی حلقوں میں محسوس کیا گیا کہ وہ معاملات کو بہتر انداز میں ہینڈل کر سکتے تھے‘۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ شیخ رشید کا انتخاب موجودہ سیاسی تناؤ میں اہم اس لیے ہے کیونکہ ’وزارت داخلہ میں امن و امان کی صورتحال اور ممکنہ اندرونی خطرات کو دیکھا جاتا ہے۔‘

لیکن وسیم سجاد اس تاثر کو رد کرتے ہیں کہ حکومتی بیانیے کی میڈیا پر بہتر عکاسی کے لیے شیخ رشید کو یہ عہدہ دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ذرائع ابلاغ کے لیے وزیر اطلاعات شبلی فراز موجود ہیں اور وزیر داخلہ کا اپنا کام ہوتا ہے۔

’لیکن چونکہ شیخ رشید کو اطلاعات کا تجربہ ہے تو وہ داخلی معاملات سے متعلق حکومتی فیصلوں کو بہتر انداز میں پیش کر سکیں گے۔۔۔ وہ میڈیا میں مداخلت تو نہیں کریں گے کیونکہ میڈیا کا اپنا الگ محکمہ ہوتا ہے۔‘

وزارت داخلہ سے اعجاز شاہ کو ہٹائے جانے پر انھوں نے کہا کہ ممکنہ طور پر وزیر اعظم کا یہ اپنا جائزہ ہوگا کہ کس کی کارکردگی بہتر ہے اور کسے کہاں پر زیادہ مناسب سمجھا جاتا ہے۔

’بظاہر یہی ہے کہ وزیر اعظم سوچتے ہوں گے کہ میری ٹیم میں کچھ تبدیلیوں سے بہتری آئے گی، اور موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان تبدیلیوں کی ضرورت محسوس کی گئی۔‘

ایم بی سومرو کے مطابق داخلی امور سے ایسے بندے کو ہٹایا گیا جو آئی ایس آئی کے سابق اہلکار ہیں اور سکیورٹی معاملات کا تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اب حکومت اپنے خلاف تحریک کو سیاسی طریقے سے ہینڈل کرے گی۔

’اپوزیشن کے لیے یہ ایک اشارہ ہے‘

نیوز چینلز کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی کابینہ میں رد و بدل کا ذکر ہو رہا ہے اور صارف اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

عثمان کشمیری لکھتے ہیں کہ ’یہ علامت ہے ممکنہ ردعمل کی، شیخ رشید وزیر داخلہ بن گئے۔ مطلب صف بندی ہو رہی ہے۔ اپوزیشن کے لیے یہ ایک اشارہ ہے۔‘

انجینیئر فیصل صدیقی کا کہنا ہے کہ ’ہوسکتا ہے اعجاز شاہ نے ایک اور ’مدعا‘ اپنے سر لینے سے انکار کردیا ہے جس کی وجہ سے شیخ رشید کو آگے لایا گیا ہے.‘

شفیق ربانی نے لکھا کہ ’وزیر خزانہ حفیظ شیخ نہ قومی اسمبلی کا رکن نہ سینیٹ کا۔۔۔ پی ٹی آئی کے پاس متبادل نہیں۔‘

اس کے ساتھ ہی عبدالرؤف کہتے ہیں کہ ’اگر حفیظ شیخ ابتدا ہی سے وزیر بنا دیے جاتے تو ہماری معیشت اب تک آسمان کی بلندیوں کو چھو چکی ہوتی۔‘

ایک صارف نے وضاحت کی کہ ’ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے آرٹیکل 91 کے تحت حفیظ شیخ کو 6 ماہ کے لیے وفاقی وزیر بنا دیا۔ اب تنقید کرنے سے پہلے یاد رکھیے گذشتہ دور حکومت میں (شاہد) خاقان عباسی نے مفتاح اسماعیل کو وفاقی وزیر بنایا تھا۔‘