انکم ٹیکس گوشواروں میں 40 فیصد کمی: ملک اضافی ٹیکس کیوں جمع نہیں کر پا رہا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی، کراچی
- وقت اشاعت
پاکستان میں ٹیکس اکٹھا کرنے والے وفاقی ادارے فیڈرل بورڈ آف ریوینو (ایف بی آر) کے پاس آٹھ دسمبر 2020 کی ڈیڈ لائن تک 17 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے جمع ہوئے ہیں جو کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں 40 فیصد کم ہیں۔ سنہ 2019 میں 29 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے جمع ہوئے تھے۔
اس سال انکم ٹیکس کے کم گوشوارے جمع ہونے کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے موجودہ مالی سال میں ٹیکسوں کے ہدف کے حصول پر سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اقتدار میں آنے سے قبل ٹیکسوں کے حصول کو تین گنا بڑھانے کا دعویٰ کر چکے ہیں اور انھوں نے اپنے متعدد بیانات میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد ایک سال میں آٹھ ہزار ارب سے زیادہ کا ٹیکس جمع کر کے دکھائے گی۔
پاکستان کی وفاقی حکومت نے اس مالی سال میں چار ہزار 900 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں جمع ہونے والا ٹیکس گذشتہ سال کے ان مہینوں کے مقابلے میں چار فیصد زائد ہے۔
اسی حوالے سے مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم پاکستان کو پورے مالی سالی میں ٹیکس کا ہدف حاصل کرنے کے لیے گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں 23 فیصد مزید ٹیکس اکٹھا کرنا ہے جو ٹیکس امور اور معیشت کے ماہرین کے مطابق بہت مشکل نظر آتا ہے۔
آٹھ دسمبر کو ختم ہونے والی ڈیڈ لائن میں کم انکم ٹیکس گوشواروں کا جمع ہونا بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس سال کے بجٹ میں ٹیکس کے ہدف کا حصول بہت مشکل ثابت ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹیکس وصولی کی مجموعی صورتحال
پاکستان میں گذشتہ چند سالوں میں ٹیکس وصولی کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو گذشتہ تین مالی سالوں میں ٹیکس اکٹھا کرنے میں کوئی نمایاں اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔
مالی سال 2018 میں 3842 ارب کا ٹیکس اکٹھا ہوا تو مالی سال 2019 میں اس کی وصولی میں 13 ارب کی کمی آئی جب مجموعی ٹیکس 3829 ارب رہا۔ مالی سال 2020 میں مجموعی طور پر اکٹھا ہونے والے ٹیکس 3997 ارب رہا۔
ٹیکس امور کے ماہر اشفاق تولہ نے بتایا کہ اگر مالی سال 2020 میں اکٹھا ہونے والے ٹیکس میں سے سیلز ٹیکس ریفنڈ کی رقم نکال دی جائے تو باقی رہ جانے والے ٹیکس کی مالیت گذشتہ مالی سال سے کم ہو جائے گی۔
ٹیکس گوشواروں اور ٹیکس وصولی کے درمیان تعلق پر بات کرتے ہوئے اشفاق تولہ نے کہا کہ گوشوارے جمع کروانے یا نہ کروانے کا ٹیکس وصولی سے کوئی خاص تعلق نہیں اور جب سے حکومت نے فائلر ہونے پر سہولیات فراہم کی ہیں بہت سارے لوگ زیرو ٹیکس کا بھی ریٹرن جمع کروا دیتے ہیں۔
ایف بی آر کے سابق ممبر ٹیکس پالیسی رحمت اللہ وزیر نے اس بارے میں کہا کہ گوشواروں کے ساتھ جمع ہونے والا ٹیکس بہت کم ہوتا ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق ٹیکس گوشواروں کی تعداد ملک کے ٹیکس نظام پر عوام کے اعتماد اور ٹیکس جمع کرنے کے رجحان کی نمائندگی ضرور کرتی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں گذشتہ مالی سال میں اکٹھا ہونے والا تقریباً چار ہزار ارب روپے کا ٹیکس اس ہدف کے مقابلے میں بہت کم ہے جو اس سال کے بجٹ میں 5400 ارب رکھا گیا تھا اور پھر اسے نظر ثانی کر کے گھٹا دیا گیا۔
کورونا وائرس کی وجہ سے ملک میں لگنے والے لاک ڈاون اور اس کے نتیجے میں معیشت میں پیدا ہونے والی سست روی کی وجہ سے ہدف کو مزید کم کر 3900 ارب کر دیا گیا تھا۔
پاکستان میں ٹیکس کم اکٹھا ہونے کی وجہ سے ملک کے ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں بھی کوئی اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔
ایف بی آر کی سالانہ ریونیو بک کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ مالی سال میں پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 9.6 فیصد تک گر گیا جس کی ایک وجہ کورونا وائرس کی وجہ سے معیشت میں پیدا ہونے والے بحران کو قرار دیا گیا۔
تاہم کورونا وائرس سے متاثرہ گذشتہ مالی سال سے پہلے بھی یہ تناسب حوصلہ افزا نہیں تھا۔
رحمت اللہ وزیر کے مطابق پاکستان میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں کمی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں صوبوں کا حصہ اس میں نہ ہونے کے برابر ہے۔
انھوں نے انڈیا کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں مرکزی سطح پر جمع ہونے والے ٹیکسوں میں صوبوں کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں چھ فیصد حصہ ہے اور پاکستان میں یہ بمشکل ایک فیصد ہے۔
ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے اشفاق تولہ نے کہا کہ ہماری آبادی کے حساب سے گوشوارے بہت کم ہیں تاہم اس کے جمع کروانے کے لیے حکومت کو بھی سسٹم کو آسان بنانا ہو گا۔
پاکستان کے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ اس سال انکم ٹیکس گوشوارے کم جمع ہونے کی ایک ہی وجہ نظر آتی ہے وہ کورونا وائرس کی وجہ سے لوگوں کے روزگار پر پڑنے والی ضرب ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے بہت بڑی تعداد میں لوگ بیروزگار ہوئے تو اس کے ساتھ بہت سارے کاروبار بھی بند ہوئے جس کی وجہ سے انہوں نے انکم ٹیکس گوشوارے کم جمع کروائے۔
انھوں نے کہا موجودہ حالات میں گوشواروں میں اضافے کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان میں ٹیکس وصولی میں اضافہ کیوں نہیں ہورہا؟
پاکستان میں ٹیکسوں کی وصولی میں نمایاں اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا جب تک ملک میں معیشت کو مکمل طور پر دستاویزی نہیں بنایا جاتا، تب تک ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ممکن نہیں۔
انھوں نے اس کے ساتھ ایف بی آر کے ٹیکس نظام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ جو اُن کے مطابق ملک میں ٹیکس وصولی میں اضافے کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ٹیکس ہی غلط طریقے سے اکٹھا ہو رہا ہے۔
حفیظ پاشا نے کہا کہ یہاں ایک موبائل کارڈ استعمال کرنے پر تو ایک شخص کو ٹیکس دینا پڑتا ہے لیکن چار چار سو ایکڑ کا مالک زمیندار ٹیکس نہیں دیتا۔
ان کے مطابق زراعت کے شعبے میں 900 ارب سے زائد کی سالانہ کمائی حاصل ہوتی ہے لیکن اس کا ملک کے مجموعی ٹیکس میں حصہ صرف دو ارب روپے ہے۔
اشفاق تولہ نے بتایا کہ جس ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 38 فیصد حصہ ٹیکس ہی نہ دیتا ہو تو وہاں ٹیکسوں کی وصولی میں ایک بڑے اور نمایاں اضافے کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ لوگ اس لیے ٹیکس نہیں دیتے کہ ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ حکومتیں بدعنوان ہیں اور ٹیکس کا پیسہ کھا جاتی ہیں تو اشفاق تولہ نے کہا کہ جو ایسا کہتے ہیں وہ خود بدعنوان ہیں کیونکہ وہ خود تو اپنے حصے کا ٹیکس نہیں دیتے لیکن کہتے ہیں کہ یہاں حکومتیں بد عنوان ہیں۔
انھوں نے کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں لوگ قانون کے خوف سے ٹیکس جمع کرواتے ہیں مگر پاکستان میں اس کے برعکس قانون کی عملداری نہیں ہے اس لیے لوگوں کو ٹیکس جمع نہ کروانے پر کسی سزا کا خوف نہیں ہے۔
انھوں نے کہا پاکستان میں بالواسطہ یا اِن ڈائریکٹ ٹیکسوں کا تناسب اس لیے زیادہ ہے کہ لوگ بلاواسطہ ٹیکس یعنی انکم ٹیکس جمع نہیں کرواتے۔
اشفاق تولہ کا کہنا تھا کہ اگر انکم ٹیکس سے ایک ہزار ارب روپے آجائیں تو اِن ڈائریکٹ ٹیکسوں کی مد میں اتنی رقم وصول ہو گی جس سے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔
انھوں نے کہا کہ یہاں حکومتیں خود ہی کام نہیں کرنا چاہتیں۔
سنہ 2016 میں ٹیکس اصلاحات کمیشن کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس کمیشن نے بڑی محنت سے سفارشات مرتب کیں تاہم ان سفارشات پربھی ابھی تک عمل نہیں ہو پایا۔
ایف بی آر کے ترجمان ندیم رضوی سے ٹیکس کا سالانہ ہدف پورا کرنے پر سوال کیا گیا تو اُنھوں نے کہا کہ اس کا جون میں پتا چلے گا۔
دوسری جانب رحمت اللہ وزیر نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکسوں کی تقسیم ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔
ان کے مطابق زراعت اور خدمات پر ٹیکس صوبوں کے دائرہ کار میں ہیں جو ان شعبوں سے ٹیکس وصولی پر کوئی خاص توجہ نہیں دیتے حالانکہ یہ جی ڈی پی میں بہت نمایاں حصہ رکھتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
رحمت اللہ وزیر نے بتایا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو خطیر رقم مل جاتی ہے اس لیے وہ اپنی حدود میں ان شعبوں سے زیادہ سے زیادہ ٹیکس وصول کرنے کا تردد نہیں کرتے۔
انھوں نے کہا یہ بات درست ہے کہ ریاست کی رٹ نہیں ہے اس لیے لوگ ٹیکس جمع نہیں کرواتے۔
'جب وہ دیکھتے ہیں کہ ریاست انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے اپنی رٹ قائم نہیں کر سکتی تو وہ تعزیر کے ذریعے ٹیکس کیسے وصول کر پائے گی اور یہی اس وقت ملک میں ٹیکس کی وصولی میں سب سے بڑا مسئلہ ہے۔'
انھوں نے بتایا کہ دوران ملازمت ان سے بڑے بڑے صنعت کاروں نے کہا کہ وہ ٹیکس کیوں دیں جب ہم اپنی حفاظت کے لیے سیکورٹی گارڈ کو خود ادائیگی کرتے ہیں، سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں اور کوئی انفراسٹرکچر نہیں۔
کیا حکومت موجودہ سال کا ٹیکس وصولی کا ہدف پورا کر پائے گی
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے ایک سال میں آٹھ ہزار ارب کا ٹیکس اکٹھا کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم ان کی حکومت اپنے پہلے دو مالی سالوں میں ٹیکس وصولی میں بہت کم اضافہ کر پائی۔
نواز لیگ کے اقتدار کے آخری سال میں 3800 ارب سے زائد جمع ہونے والا ٹیکس گذشتہ برس کے اختتام پر بمشکل چار ہزار ارب تک جا پہنچا۔ حکومت نے رواں برس چار ہزار 900 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
اس ہدف کے حصول کے بارے میں ماہر ٹیکس امور اشفاق تولہ نے کہا کہ یہ عملی طور پر ممکن نظر نہیں آتا۔
انھوں نے کہ اس وقت کی معاشی ٹیم اتنی خاص نہیں ہے کہ وہ اس بڑے ہدف کو حاصل کر لے۔ انھوں نے کہا کہ یہ بھی بڑا عجیب ہے کہ جنھیں ’چور اور بد عنوان‘ کہا گیا انھوں نے اپنے دور میں ٹیکسوں کی وصولی کو 1900 ارب روپے سے 3800 ارب تک پہنچا دیا۔
اشفاق تولہ نے کہا کہ انگریزی زبان میں اچھی پریزنٹیشن دینے سے ٹیکس کا ہدف پورا نہیں ہو گا، اس کے لیے کراچی میں جوڑیا بازار، طارق روڈ، صدر، لاہور میں لبرٹی مارکیٹ، پشاور میں قصہ خوانی بازار میں ہونے والے کاروبار کے بارے میں مکمل علم ہونا چاہیے۔
رحمت اللہ وزیر نے کہا ابھی تک ٹیکس وصولی میں چار فیصد کا اضافہ نظر آیا ہے جب کہ ہدف حاصل کرنے کے لیے ملک کی ٹیکس وصولی میں 22 فیصد سے زائد اضافے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ موجودہ برس میں مقرر کیا جانے والا ہدف حاصل ہو پائے گا۔
اس حوالے سے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے ریونیو ڈاکٹر وقار مسعود سے جب رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ مصروف ہیں اور وقت میسر ہونے پر اس کے بارے میں تفصیلاً گفتگو کریں گے۔


























