وادی کاغان: دریائے کنہار کے گرد بڑھتی تعمیرات ’ماحول میں تبدیلی اور ٹراؤٹ کی قلت‘ کا باعث

کاغان
    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت

’ایک دور تھا جب ہم چند منٹوں میں پانچ ٹراؤٹ مچھلیوں کا شکار کر کے اپنی روزی روٹی کما لیتے تھے۔ اب تو صبح، شام پانچ پانچ گھنٹے کھڑے ہوتے ہیں تب بھی ایک مچھلی ہاتھ نہیں آتی۔ لگتا ہے کہ ٹراؤٹ مچھلی اب دریائے کنہار میں بہت ہی کم رہ گئی ہے۔‘

یہ کہنا تھا پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی وادی کاغان میں 30 سال سے مچھلی کے شکاری محمد بشیر کا۔

ضلع مانسہرہ کے محمد بشیر کا شمار ان شکاریوں میں ہوتا ہے جو دریائے کنہار میں مچھلی کے شکار پر حالیہ دنوں پابندی لگنے سے قبل روزانہ پانچ مچھلیوں کے شکار کا اجازت نامہ (پرمٹ) محمکہ فشریز سے حاصل کرتے تھے۔

محمد بشیر کا کہنا ہے کہ وادی کاغان میں سیاح صرف نظارے کرنے ہی نہیں آتے بلکہ سیاحوں کی ایک بڑی تعداد ٹراؤٹ اور دیگر مچھلیوں سے بھی لطف اندوز ہونے کو آتی ہے۔

ان میں مقامی لوگوں کے علاوہ غیر ملکی بھی ہوتے ہیں اور یہ سیاح فارم کی ٹراؤٹ اور دیگر مچھلی کو پسند نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھیے

دریا

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم سیاحوں کو قدرتی ماحول سے ’دنیا کی لذیذ ترین مچھلی‘ شکار کر کے پیش کریں تو ’وہ خوش ہو کر ہمیں دل کھول کر انعام دیتے ہیں۔‘

مگر انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ چند سالوں سے مچھلیوں کی کمی کے باعث ایسے سیاحوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور نتیجے میں ان کا اور ان جیسے دیگر افراد کا روزگار بھی متاثر ہوا ہے۔

محمد بشیر کا کہنا تھا کہ ’15، 20 سال پہلے انھوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ وقت بھی آئے گا کہ دریائے کنہار میں ٹراؤٹ نہیں ملے گی مگر یہ اب ہوچکا ہے۔‘

مچھلی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے

محمد بشیر سمیت کئی مچھیروں کے خیال میں ٹراؤٹ مچھلی کی آبادی میں کمی کی وجہ ’دریا کے ساتھ بہت زیادہ تعمیرات ہیں۔‘

دریا

'لوگوں نے دریائے کنہار کے اندر بھی تعمیرات قائم کر دی ہیں۔ عمارتوں کا جال بچھ چکا ہے۔ شاید ہی کسی عمارت کا اپنا نکاسی آب کا مناسب انتظام ہو۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’سب نے اپنے گندے پانی رُخ دریا کی طرف کیا ہوا ہے جس سے دریا اور اس کے صاف، تازہ اور ٹھنڈے پانی کی مچھلی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔'

ماہرین ماحولیات کے مطابق وادی کاغان اور دریائے کنہار میں ٹراؤٹ کی قلت ’ماحولیات کی تباہی‘ کی نشان دہی کرتی ہے۔ لیکن اب حکام کے کچھ اقدامات سے اس نقصان کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ وادی کاغان کے نظم و نسق کے ذمہ دار ادارے کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے وادی کا ماحولیاتی سروے مکمل کرنے کے بعد وہاں پاکستان کے سرکاری ادارے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی 2005 میں تعمیر کردہ کثیر المنزلہ عمارت کو سیل کردیا ہے۔ اتھارٹی کے مطابق یہ عمارت محفوظ جنگلات، دریائے کنہار کے قدرتی بہاؤ اور اس میں موجود مچھلیوں کے بہاؤ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

دریا

تاہم این ایچ اے بالاکوٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر شمس الرحمٰن نے دوٹوک انداز میں کہا کہ این ایچ اے نے ’کوئی بھی غیر قانونی کام نہیں کیا‘۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ساڑھے چار کنال کے رقبے کے اندر موجود یہ عمارت اسسٹنٹ ڈائریکٹر کا دفتر تھی لیکن اب وزیر اعظم عمران خان کی پالیسی کے مطابق اس کو تجارتی بنیادوں پر گیسٹ ہاؤس میں تبدیل کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے وادی کاغان میں 500 ایسی تجارتی اور نجی عمارتیں جنھوں نے مانسہرہ ناران جل کھڈ روڈ پر، جبکہ مزید 50 ایسی عمارتیں جنھوں نے دریائے کنہار میں تجاوزات قائم کر رکھی ہیں، کی نشان دہی کی ہے۔

اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر مظہر شاہ کے مطابق باقی عمارتوں کو نوٹسز جاری کردیے گے ہیں۔ اعلیٰ سطح پر فیصلہ ہوا ہے کہ روڈ اور دریا میں کی گئی ہر قسم کی تجاوزات کو ہر صورت میں ختم کیا جائے گا۔

وادی کاغان کی بحالی کا منصوبہ

وادی کاغان

محکمہ فشریز مانسہرہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر فہیم اختر کے مطابق وادی کاغان میں تیزی سے تعمیر ہوتی ہوئی عمارتوں کے بعد مشاہدہ کیا جا رہا ہے کہ ماحولیات کو نقصان پہچنے کی وجہ سے ٹراؤٹ کی تعداد کم ہورہی ہے جو اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ نہ صرف یہ پُرفضا ماحول بلکہ دریائے کنہار بھی متاثر ہورہا ہے۔‘

فہیم اختر کے مطابق ٹراؤٹ صاف اور تازہ پانی کی مچھلی ہے مگر وادی کاغان میں موجود عمارتیں دریا کا پانی آلودہ کررہی ہیں۔

'جب دریا کا پانی آلودہ ہوگا تو ٹراؤٹ کے لیے سانس لینا ممکن نہیں ہوگا۔'

فہیم اختر کے مطابق ٹراؤٹ کے لیے مناسب درجہ حرارت آٹھ سے سولہ ڈگری تک ہے۔ اس سے کم اور زیادہ درجہ حرارت میں اس کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ وادی کاغان کا قدرتی درجہ حرارت بھی حال میں بڑھا ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماحولیات میں تبدیلی آ رہی ہے اور اس کا بڑا سبب تعمیرات میں بڑھتا ہوا اضافہ ہے۔

مظہر شاہ کا کہنا تھا کہ اتھارٹی نے تجاوزات کرنے والی عمارتوں کے تمام مالکان کو نوٹسز جاری کردیے ہیں۔ ’مالکان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ آنے والے سیزن میں سیاحوں کی آمد سے پہلے ہر قسم کی تجاوزات کو ختم کردیں ورنہ ضلعی انتظامیہ کی مدد سے اتھارٹی خود یہ کام کرے گی۔‘

166 کلو میٹر طویل دریائے کنہار نہ صرف وادی کاغان کی خوبصورتی ہے بلکہ یہ دریائے جہلم کے لیے بھی پانی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔

دریائے کنہار
،تصویر کا کیپشندریائے کنہار

مظہر شاہ کا کہنا تھا کہ وادی کاغان کا قدرتی ماحول اس کی خوبصورتی ہے۔ سیاح صرف پر فضا مقام ہی کے لیے نہیں بلکہ قدرتی ماحول کی ٹراؤٹ اور دیگر مچھلی سے بھی لطف اندوز ہونے کو بھی وادی کاغان کا رُخ کرتے ہیں۔

ٹراؤٹ مچھلی کی تعداد دو سال بعد بڑھنے کی امید

محمد بشیر کا کہنا تھا کہ غیر قانونی ٹراؤٹ کے شکار پر صرف پانچ ہزار روپے جرمانہ ہے۔

'بڑے لوگ بڑی گاڑیوں میں بیٹھ کر آتے ہیں اور اوپر کے علاقے میں جا کر شکار کرتے ہیں۔ اس دوران اگر انھیں پکڑ لیا جائے تو بالکل بھی خفا نہیں ہوتے۔ پانچ ہزار روپے محکمہ فشریز کے اہلکاروں کے حوالے کر دیتے ہیں، مچھلی سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور چلتے بنتے ہیں۔'

انھوں نے مزید الزام عائد کیا کہ اکثر اوقات شکار کرنے والے دریا میں مچھلی شکار کرنے کے لیے کرنٹ چھوڑتے ہیں، دھماکے کرتے اور کمیکل استعمال کرتے ہیں جس سے لاتعداد چھوٹی بڑی مچھلیاں ہلاک ہوجاتی ہیں۔

محمد بشیر کا کہنا تھا کہ اگر حکومت چاہتی ہے کہ ٹراؤٹ کا غیر قانونی شکار کم یا ختم ہو تو پھر جرمانہ کم از کم ایک لاکھ روپے کیا جانا چاہیے۔

دریا

وہ کہتے ہیں کہ محکمہ فشریز کے اہلکاروں کی تعداد کو بڑھانا چاہیے تاکہ اتنے بڑے علاقے کی نگرانی کی جا سکے۔

دوسری جانب فہیم اختر کا کہنا تھا کہ غیر قانونی شکار ایک بڑا مسئلہ ہے اور اس کے سدباب کے لیے کمشنر ہزارہ کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں ٹراؤٹ کے شکار پر دو سال کی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

مظہر شاہ کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پچاس ہزار ٹراؤٹ مچھلی کے بچے دریا میں چھوڑنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

'ہمیں امید ہے کہ دو سال کے اندر ہم لوگ وادی کاغان کا قدرتی ماحول بحال کردیں گے جس سے ٹراؤٹ کی آماجگاہیں بھی بحال ہوجائیں گی۔ اس کے بعد اگر شکار پر سے پابندی ہٹائی جاتی ہے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا بلکہ اس سے فائدہ پہنچے گا۔'

ان کا کہنا تھا کہ جن مقامی لوگوں کا مچھلی کے شکار کے ساتھ روزگار وابستہ تھا ان لوگوں کو ٹراؤٹ مچھلی کے فارمز پر روزگار فراہم کردیا گیا ہے۔

'امید ہے کہ شکار پر پابندی سے ان کے روزگار پر کوئی فرق نہیں پڑے گا بلکہ دو سال بعد کاغان کی بحالی کے بعد وہ بہتر انداز میں اپنا روزگار جاری رکھ سکیں گے۔'