کورونا وائرس: پنجاب میں کووِڈ لیبز کے عارضی ملازمین جنھیں گذشتہ ’تین ماہ کی تنخواہیں نہیں ملیں‘

    • مصنف, ترہب اصغر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

’میری پریشانی کا یہ عالم ہے کہ ایک تو میری بیوی حاملہ ہے اور دوسرا میری جیب میں اتنے پیسے نہیں ہیں کہ میں اس کے ضروری ٹیسٹ اور چیک اپ بغیر کروا سکوں۔‘

یہ کہنا ہے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے قائم لیب میں کام کرنے والے ایک ملازم کا جنھیں ’گذشتہ تین ماہ سے تنخواہ نہیں مل رہی۔‘ ایک سرکاری لیب کے سربراہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی ہے کہ کنٹریکٹ پر کام کرنے والے درجنوں ملازمین اپنی تنخواہوں سے محروم ہیں۔

ملک میں كورونا وائرس کی پہلی لہر کا آغاز ہوا تو حکومت کی جانب سے اس سے نمٹنے کے لیے تیاریاں شروع کر دی گئیں تھیں۔ مریضوں کے لیے فیلڈ ہسپتال سے لے کر کورونا وائرس کی تشخص کے لیے لیبارٹریاں بھی قائم کی گئیں۔

ایک طرف ہسپتالوں کے لیے نئے ڈاکٹرز اور عملے کے لیے بھرتیاں ہوئیں تو دوسری طرف کورونا کے مریضوں کی ٹیسٹنگ کے لیے حکومتی لیبارٹریوں میں بھی عملے کو کنٹریکٹ پر رکھا گیا۔

تاہم وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ ان کی اطلاعات کے مطابق ’تمام ملازمین کو وقت پر تنخواہ مل رہی ہے۔۔۔ اگر کوئی دیر ہوئی بھی ہے تو وہ اسے مل جائے گی۔‘

کام لیا جا رہا ہے تو تنخواہ کیوں نہیں دی جا رہی

سرفراز (فرضی نام) نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں گذشتہ تین ماہ سے کورونا لیب میں کام کرنے کے باوجود بھی حکومت پنجاب کی جانب سے تنخواہ نہیں دی جا رہی ہے۔

’تعلیم اور تجربہ ہونے کے باعث مجھے بھی کنٹریکٹ پر تین ماہ کے لیے حکومت پنجاب کی کورونا لیب میں کورونا ٹیسٹنگ کرنے کے لیے بطور کنسلٹنٹ رکھا گیا تھا۔‘

’جب کورونا کی پہلی لہر آئی تو مجھے سمیت دیگر عملے نے دن رات کام کیا۔ جب کورونا کے کیسز عروج پر تھے تو صرف ہماری لیب کے لوگ ایک دن میں آٹھ سے نو ہزار ٹیسٹ کرتے تھے اور اب جب ہم دوسری لہر کی طرف جا رہے ہیں تو اب بھی تقریباً اتنے ہی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

وہ کہتے ہیں کہ ’تین ماہ کے کنٹریکٹ کی معیاد جب مئی کے مہینے میں ختم ہوئی تو اسے دوبارہ بحال کر دیا گیا۔ جب کورونا وائرس کا پھیلاؤ عروج پر تھا تو ہم نے اپنی ڈیوٹی بخوبی سرانجام دی۔ لیکن جیسے ہی حالات تھوڑے بہتر ہوئے تو محکمہ صحت کو لگا کہ شاید اب انھیں ہماری ضرورت نہیں رہے گی۔‘

’یہی وجہ ہے کہ ستمبر میں دوباره ہمارے کنٹریکٹ تجدید نہیں کیے گئے لیکن ہم سے کام لیا جاتا رہا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ہمیں پچھلے تین ماہ سے تنخواہ نہیں دی جا رہی ہے اور ہم مسلسل اپنی جان خطرے میں ڈال کر دن رات تین شفٹوں میں کام کر رہے ہیں کیونکہ حالات دوبارہ خرابی کی طرف جا رہے ہیں۔‘

سرفراز اکیلے نہیں ہیں جو گذشتہ تین ماہ کی تنخواہ سے محروم ہیں۔ ان کی لیب میں کنٹریکٹ پر کام کرنے والے دیگر 20 سے زیادہ ملازمین بھی اس مسئلے کا شکار ہیں، اور اس کے علاوہ بھی کئی لیبز میں کنٹریکٹ پر لوگوں سے کام لیا جا رہا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے سرکاری لیب کے ایک سربراہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی یہ درست ہے کہ لیب میں کنٹریکٹ پر ملازمین کو تنخواہیں نہیں دی رہی ہیں۔ یہ تمام لوگ اپنے روزگار کے تحفظ کے لیے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔

یہ معاملہ اس لیے پیش آیا ہے کیونکہ جب تک ملازمین کے نئے کنٹریکٹ نہیں بنائے جاتے تب تک تنخواہیں بھی نہیں دی جاتیں۔

انھوں نے مزيد کہا کہ یہ بات محکمے اور حکومت کو سمجھنی چاہیے ہے کہ کورونا لیب میں کام کرنے والے لوگ انتہائی خطرناک ماحول میں کام کر رہے ہیں۔

لیب سے منسلک عملے کے ایک رکن کا کہنا تھا کہ ’آج کل مہنگائی کے جو حالات ہیں وہ بھی سب کے سامنے ہیں۔ اگر انھیں وقت پر تنخواہیں بھی نہیں دی جائیں گی تو ان کے لیے مشکلات میں اضافے کے ساتھ ساتھ گھر چلانا بھی مشکل ہو گا۔‘

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پنجاب بھر میں کورونا کے ٹیسٹوں کے لیے 18 سرکاری لیبز کام کر رہی ہیں۔ جبکہ ان میں کنٹریکٹ پر بھرتی کیے جانے والے ملازمین کی تعداد سو سے زائد ہے۔

حاملہ بیوی اور خاندان سے دور رہنے پر مجبور

سرفراز اپنی بیوی کی صحت کی وجہ سے بھی خاصے متفکر ہیں۔

ان کے مطابق وہ روزگار کمانے کے لیے ایسے ماحول میں کام کر رہے ہیں جہاں وائرس کی منتقلی کے خدشات سب سے زیادہ ہیں۔ حالانکہ وہ تمام تر حفاظتی اقدامات اپناتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی وہ مجبور ہیں کہ جب وہ گھر آئیں تو اپنی حاملہ بیوی سے دور رہیں تاکہ وہ ہر لحاظ سے محفوظ رہے۔

اپنے ان خيالات کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’نفسیاتی اور جذباتی طور پر میں محسوس کرتا ہوں کہ ان دنوں میری بیوی کو میری سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ لیکن روزگار کمانے اور کورونا وبا سے لڑنے میں اپنا چھوٹا سا کردار ادا کر رہا ہوں۔‘

’احتياط کے باعث بیوی سے دوری کے علاوہ میں مالی طور پر بھی پریشان ہوں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’میری جیب میں اس وقت صرف نو ہزار روپے بچے ہیں۔ جو تھوڑی بہت بچت کی تھی وہ سب خرچ ہو گئے کیونکہ پچھلے تین ماہ سے میں ان پیسوں میں سے خرچہ کر رہا ہوں۔‘

’گھریلو اخراجات کے علاوہ ڈاکٹروں کی فیس سمیت دیگر ٹیسٹ اور الٹراساؤنڈ بھی اتنے مہنگے ہیں کہ اب سوچتا ہوں کہ آنے والے دنوں میں کیا کروں گا۔‘

کانٹریکٹ پر ملازمين کی تنخواہوں میں دیر ہو جاتی ہے

اس معاملے پر بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ان ملازمین کو مختصر مدت کے لیے رکھا گیا تھا۔

’کنٹریکٹ پر رکھے گئے ملازمین کی جب مزید ضرورت محسوس ہوتی ہے تو ان کے کنٹریکٹ بڑھا دیے جاتے ہیں۔ میری اطلاعات کے مطابق تمام ملازمین کو وقت پر تنخواہ مل رہی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے اس بارے میں ابھی تک کوئی شکایت موصول نہیں۔ سرکار کا کام کرنے والے کسی شخص کی تنخواہ کہیں نہیں جاتی، اگر کوئی دیر ہوئی بھی ہے تو وہ اسے مل جائے گی۔‘

محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈیری ہیلتھ کیئر پنجاب کے ترجمان نے کا اس بارے میں کہنا تھا کہ ’جب کنٹریکٹ دوبارہ سے بحال کیے جاتے ہیں تو اس میں وقت درکار ہوتا ہے کیونکہ معاہدے میں توسیع کے بعد اسے محکمہ فنانس کے پاس بھیجا جاتا ہے۔ اس کے بعد ہی ان کی تنخواہیں ریلیز کی جاتی ہیں۔‘

تین ماہ کی تنخواہیں ابھی تک نہ دی جانے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’جون کے مہینے میں محکمہ صحت نے محکمہ فنانس کو دیے گئے بجٹ میں سے بچنے والے پیسے واپس کر دیے گئے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کورونا کی دوسری لہر کے باعث اب دوبارہ ان سے بجٹ کے لیے سفارش کی گئی ہے۔ ’ایک دو دن میں یہ مسئلہ حل ہو جائے گا اور لیبز کے تمام ملازمین کو تنخواہیں بھی مل جائیں گی۔‘