نواز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر کی لندن میں وفات: مریم کا والد کو پاکستان نہ آنے کا مشورہ

نواز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر کی لندن میں وفات

،تصویر کا ذریعہCourtesy PMLN

وقت اشاعت

سابق وزیر اعظم نواز شریف اور سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر جو اتوار کے روز لندن میں انتقال کر گئی تھیں ان کی میت کو اپنے شوہر کے پہلو میں دفن کرنے کے لیے پاکستان لے جایا جائے گا۔

شریف خاندان کے ذرائع کے مطابق بیگم شمیم اختر کا نماز جنازہ پہلے لندن میں ادا کیا جائے گا جس کے بعد ان کا جسد خاکی پاکستان لے جایا جائے گا۔

خاندانی ذرائع کے مطابق ان کی تدفین میاں شریف کی قبر کے کے ساتھ ہی جاتی امرہ میں کی جائے گی۔ جبکہ شریف سٹی گراونڈ لاہور میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گی۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں کلثوم نواز کی نماز جنازہ بھی ادا کی گئی تھی۔

شریف خاندان یا مسلم لیگ ن کی طرف سے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف جو اس وقت لندن میں مقیم اپنی والدہ کے جنازے میں شرکت کے لیے پاکستان آئیں گے یا نہیں تاہم ٹویٹر پر ان کی صاحبزادی مریم نوام کی جانب سے والد کو پاکستان نہ آنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

مریم

،تصویر کا ذریعہ@MaryamNSharif

واضح رہے کہ نواز شریف گزشتہ سال علاج کی غرض سے چار ماہ کی اجازت لے کر لندن آئے تھے اور اس کے بعد سے لندن ہی میں مقیم ہیں۔مسلم ن کے رہنما عطا تاڑر کے مطابق وزیر قانون راجہ بشارت کے قانون کے تحت شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو جیل میں اکٹھا کیا گیا اور اجازت کے بعد ہی لندن میں ان دونوں کی میاں محمد نواز شریف سے ان کی ٹیلی فون کے ذریعے بات کروائی گئی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ دونوں بھائیوں کی جب آپس میں بات ہوئی تو شہباز شریف آبدیدہ ہو گئے اور دونوں اس وقت کو یاد کرنے لگے جب ان کے والد فوت ہوئے تھے لیکن جلا وطنی کے باعث وہ پاکستان ان کی تدفین کے لیے نہیں آسکے تھے۔

عطا تارڑ

،تصویر کا ذریعہTWITTER

ان کے مطابق بیگم شمیم کا جسد خاکی پاکستان لانے میں دو سے تین دن لگ سکتے ہیں۔ جبکہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی پرول پر رہائی کے لیے تقریبا چودہ سے پندرہ دن کی درخواست دی جائے گی تاکہ وہ نماز جنازہ اور تدفین کے انتظامات کر سکیں اور تعزیعت کے لیے آنے والوں سے ملاقات کر سکیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مسلم لیگ نواز کے رہنما عطا تارڑ نے شمیم اختر کی وفات کی اطلاع دینے کے بعد بی بی سی سے گفتگو میں بتایا ہے کہ ’وفات کے وقت اتوار کی صبح وہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹ میں تھیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ بیگم شمیم کی موت کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہے تاہم وہ کچھ عرصے سے علیل تھیں۔

واضح رہے کہ اتوار کو حزب اختلاف جماعتیں پاکستان ڈیموکریٹک اتحاد کے زیر اہتمام پشاور میں جلسہ کر رہی ہیں جس میں لیگی رہنما شرکت کر رہے ہیں۔

نواز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر کی لندن میں وفات

،تصویر کا ذریعہCourtesy PMLN

عطا تارڑ کا مزيد کہنا تھا کہ اس خبر کی اطلاع سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو جیل میں دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ دونوں رہنما بدعنوانی کے الزام میں زیر حراست ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے نوازشریف اور شہباز شریف کی والدہ کی وفات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔