تحریک انصاف رہنما کی پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی میں تقرری منسوخ: تشدد کے ملزم حقوقِ نسواں کے ’علمبردار‘ کیسے بن جاتے ہیں؟

    • مصنف, ترہب اصغر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

کیا انسانی حقوق اور حقوقِ نسواں کے تحفظ کے لیے تعینات کیے گئے افسروں اور عہدیداروں کے چناؤ کا کوئی معیار ہے یا ایسے عہدے محض سیاسی بنیادوں پر بانٹے جاتے ہیں؟

پاکستان کے سوشل میڈیا پر یہ سوال اُس وقت اٹھایا گیا جب صوبہ پنجاب کے شہر ساہیوال میں حکمران جماعت تحریک انصاف کے ایک مقامی رہنما کو پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی (پی ڈبلیو پی اے) کا کوارڈینیٹر مقرر کیا گیا اور یہ بات سامنے آئی کہ وہ خود حال ہی میں ایک خاتون سرکاری ملازم پر مبینہ تشدد کے الزام میں ضمانت پر رہا ہیں۔

سوشل میڈیا پر گذشتہ ماہ کے اواخر میں متاثرہ خاتون کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں انھوں نے الزام لگایا تھا کہ تحریک انصاف کے مقامی رہنما نوید اسلم نے ان کے دفتر میں داخل ہو کر انھیں تھپڑ مارا اور انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق یہ واقعہ ساہیوال کے پوسٹ آفس میں 24 ستمبر کو پیش آیا۔ اس روز سینیئر پوسٹ ماسٹر نے پولیس کو فون کر کے اپنے دفتر بلایا اور الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کے مقامی رہنما نوید اسلم نے ان کے کمرے میں داخل ہو کر ان کے ساتھ بدتمیزی کی اور ان کے منھ پر تھپڑ مارا ہے، جس کے بعد نوید اسلم کے خلاف مقامی پولیس کی جانب سے مقدمہ درج کر کے انھیں گرفتار کر لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

نوید اسلم خاتون افسر پر تشدد کرنے کے الزام سے انکار کرتے ہیں اور وہ فی الحال اس مقدمے میں ضمانت پر رہا ہیں۔ عدالت میں معاملے کی اگلی سماعت 19 نومبر کو ہو گی۔

ابھی یہ مقدمہ چل ہی رہا تھا کہ پی ڈبلیو پی اے کی جانب سے 16 نومبر کو نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا جس کے تحت نوید اسلم کو محمکے کی سربراہ کنیز فاطمہ چڈھر کا کوارڈینیٹر مقرر کر دیا گیا۔

جب یہ بات سوشل میڈیا کی زینت بنی اور میڈیا پر رپورٹ ہوئی تو متعدد حلقوں نے اس تقرری کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کم از کم جب تک معاملہ عدالت میں ہے تب تک یہ قدم نہیں اٹھانا چاہیے تھا جبکہ کئی لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ تحریک انصاف کی خواتین کے حقوق کے حوالے سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے۔

اس سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے ہی روز نوید اسلم کی تعیناتی منسوخ کر دی گئی۔

تو کیا اس تعیناتی سے قبل نوید اسلم کی کوئی جانچ پڑتال ہوئی تھی اور کیا پی ڈبلیو پی اے کی سربراہ کو ان کی تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری کرتے وقت معلوم تھا کہ اس شخص کے خلاف خاتون افسر پر مبینہ تشدد کا مقدمہ چل رہا ہے؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کنیز فاطمہ چڈھر نے کہا کہ نوید اسلم کو تعینات کرنے کا فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا تھا تاہم انھیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ ان کے خِلاف کوئی کیس چل رہا ہے۔

پی ڈبلیو پی اے کی سربراہ نے نوید اسلم کا دفاع کرتے ہویے کہا کہ نوید اسلم ان کی جماعت کے بہت پرانے کارکن ہیں اور پندرہ سال سے پارٹی کے ساتھ ہیں۔

کنیز فاطمہ کے مطابق نوید اسلم کا موقف ہے کہ خاتون افسر جھوٹ بول رہی ہیں اور ان کا الزام عدالت میں ابھی ثابت نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اسے بہت پرانا جانتے ہیں اور وہ تحمل مزاج شخص ہے۔' ان کے مطابق خاتون ہونے کے ناطے ایسا نہیں ہے کہ ہر جگہ مرد کی غلطی ہے، خواتین بھی غلطی پر ہو سکتی ہیں۔‘

’جب مجھے معلوم ہوا تو میں نے انکوئری کروائی اور اس کے بعد نوید کو کہہ دیا کہ کیونکہ خواتین پر تشدد کے خلاف کام کر رہے ہیں اس لیے ہمیں آپ کو عہدے سے فارغ کرنا ہو گا۔ جب تک یہ واضح نہیں ہو جاتا کہ آپ نے خاتون افسر کو تھپڑ نہیں مارا، تب تک آپ ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔‘

پہلا واقعہ نہیں

یہ پہلا واقعہ نہیں جب حکمران جماعت کو اس طرح کی کوئی تعیناتی منسوخ کرنی پڑی ہو۔ سنہ 2019 میں جب پی ٹی آئی کے افتخار لونڈ کو سندھ میں انسانی حقوق کا فوکل پرسن لگایا گیا تو یہ بات نکلی کہ ان پر اپنے ملازم پر تشدد کرنے کا الزام تھا جس کا مقدمہ گھوٹکی میں خان پور مہر پولیس نے مقدمہ درج کر رکھا تھا۔

ہسپتال میں داخل ملازم کی تصاویر جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو انھیں بھی انسانی حقوق پر بات کرنے والے تمام حلقوں سمیت اپوزیشن کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

اس کے بعد وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے دوبارہ تحقیقات کرنے کا حکم دیا جس کے نتیجے میں افتخار لونڈ کو عہدے سے ہٹا دیا۔

اس واقعے کے بعد بھی کچھ ایسے ہی سوالات اٹھائے گئے تھے: آیا ایسے عہدوں پر تعیناتی کے کوئی قواعد یا معیار ہوتا ہے، کیا ایسی تقرریوں سے پہلے منتخب کیے جانے والے شخص کا بیک گراؤنڈ چیک کیا جاتا ہے، اور ان عہدوں کی حیثیت کیا ہے؟

جس کے بعد حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے صوبہ پنجاب کے شہر میانوالی میں نمل نالج سٹی کے سنگ بنیاد کے موقع پر گلوکار و اداکار علی ظفر کو اس کا سفیر مقرر کیا گیا۔ جس پر سوشل میڈیا پر اچھا خاصا ردعمل دیا گیا۔

تصدیق کے بغیر تقرری

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انسانی حقوق کی کارکن اور ایچ آر سی پی کی سابق سربراہ زہرہ یوسف نے کہا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جس میں کسی ایسے شخص کو ہی عورت کے تحفظ کی ذمہ داری دے دی جائے جو خود ایسے واقعات میں ملوث ہو۔

’ایسے لوگوں کی تقریریاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ حکومت اور باقی دیگر سیاسی جماعتیں انسانی حقوق، حقوق نسواں اور ان کے تحفظ کے لیے کتنے سنجیدہ ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ جہاں انسانی حقوق کی بات کی جاتی ہے تو وہاں یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ یہ عہدے سیاسی کارکنوں کو اعزازی طور پر دے دیے جاتے ہیں۔ اکثر ایسے افراد کا اپنے اصل کام سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ ان کا پس منظر کیا ہے۔

ان عہدوں کی کیا حیثت ہے؟

اس بارے میں مسلم لیگ ن کی رہنما اور سابق وفاقی وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ کا کہنا تھا کہ فوکل پرسن اور کوارڈینیٹر جیسے عہدے محض سیاسی ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق ’انسانی حقوق یا حقوق نسواں کے بارے میں ہمیں ہمیشہ پارٹی مفادات اور سوچ سے بالاتر ہو کر سوچنا چاہیے کیونکہ یہ حساس معاملات ہوتے ہیں۔ پہلے ہی ہمارے معاشرے میں ان موضوعات سے متعلق اتنے مسائل ہیں اور اگر ہم ان لوگوں کو سیاسی طور پر خوش کرنے کے لیے ایسے عہدوں پر تعینات کریں گے تو اس سے مزید بگاڑ پیدا ہو گا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ایسی تقرریوں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی اور نہ ہی ان پر تعیناتی کے کوئی قواعد موجود ہیں۔

جو لوگ ان عہدوں پر تعینات ہوتے ہیں وہ صرف اپنے علاقے میں اثر روسوخ اور طاقت کے لیے ایسے عہدے لیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعیوں کو دیکھنا چاہیے کہ کسی کو سیاسی طور پر خوش کرنا بھی ہے تو کم از کم ایسے اداروں میں نہ لگائیں اور ان کا پس منظر لازمی چیک کریں۔