’ملا عمر ایرانی پاکستان میں پولیس سے فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک‘

- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
- وقت اشاعت
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے تربت میں فائرنگ کے ایک واقعے میں تین ایرانی شہری مارے گئے جن میں ایران کو انتہائی مطلوب شخص ملا عمر ایرانی بھی شامل ہیں۔
تربت پولیس نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا تینوں افراد پولیس سے مبینہ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوگئے۔
ہلاک ہونے والے تینوں افراد کی شناخت ہو گئی ہیں اور ان میں ملاعمر ایرانی اور ان کے دو بیٹے حسن اور حسین شامل ہیں۔
ملاعمر ایرانی اور ان کے بیٹوں کی ہلاکت کا واقعہ تربت شہر میں پیش آیا ہے۔
پولیس اہلکار نے بتایا کہ تینوں افراد ایک گاڑی میں آرہے تھے کہ پولیس نے ان کو سیٹلائٹ ٹاﺅن کے علاقے میں روکنے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی شناخت ملاعمر ایرانی اور ان کے دو بیٹوں حسن اور حسین کے ناموں سے ہوئی۔
تربت بلوچستان کے ایران سے متصل سرحدی ضلع کیچ کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ یہ شہر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب مغرب میں اندازاً 8 سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
ملاعمر ایرانی کون تھے ؟
ملا عمر ایرانی کا تعلق ایران کے صوبہ سیستان سے تھا۔ ایران کی نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق ملا عمر ایرانی کا تعلق کالعدم تنظیم جیش العدل سے تھا۔
واضح رہے کہ جیش العدل گذشتہ چند برسوں کے دوران ایران کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز پر کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے۔
ملا عمر ایرانی، کا شمار حکومت ایران کی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں ہوتا تھا۔
بعض ذرائع کے مطابق وہ گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے ضلع کیچ میں رہائش پزیر تھے۔
ملاعمر ایرانی کی ہلاکت کا واقعہ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کے دورہ پاکستان کے دو روز بعد پیش آیا ہے۔
ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ایران نے چند سال قبل ملا عمر ایرانی کو پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی علاقے میں ایک میزائل حملے میں نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔
بعض دیگر اطلاعات کے مطابق ملاعمر ایرانی کے ایک بھائی کو ایران میں پھانسی دی گئی تھی جبکہ ایک اور بھائی ایرانی سکیورٹی فورسز سے فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے تھے۔

























