تبلیغی جماعت: آج سے شروع ہونے والا تبلیغی اجتماع ماضی کے اجتماعات سے کیسے مختلف ہو گا؟

،تصویر کا ذریعہTwitter
- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
پاکستان میں ہر سال صوبہ پنجاب کے علاقے رائیونڈ میں تبلیغی جماعت کا اجتماع منعقد ہوتا ہے جس میں اس اجتماع کی انتظامیہ کے مطابق ملک اور بیرون ملک سے لاکھوں افراد شرکت کرتے ہیں۔
رواں برس مارچ میں جب تبلیغی جماعت کے ارکان رائیونڈ کے تبلیغی سینٹر سے اپنے مقرر کردہ علاقوں تک تبلیغ کی غرض سے پہنچے تو پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی آ چکی تھی، اور تبلیغی جماعت کے اراکین میں کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہونے لگی تھی۔
ملک میں آج سے دوبارہ اس اجتماع کا آغاز ہونے جا رہا ہے تاہم کورونا وائرس کی صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے اجتماع کی انتظامیہ اور ضلعی انتظامیہ کے مابین بعض معاملات طے پائے ہیں۔
طے پانے والے معاملات کی روشنی میں دیکھا جائے تو آج سے شروع ہونے والا رائیونڈ اجتماع گذشتہ اجتماعات سے کافی مختلف ہو گا۔
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر اس دفعہ اجتماع میں شرکا کی زیادہ بڑی تعداد کی شرکت پر پابندی لگائی گئی ہے۔ اجتماع انتظامیہ کے مطابق مارچ میں ہونے والے مجمعے میں دو لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی تھی۔
اس مرتبہ شرکا کی تعداد کو کم کر کے 50 ہزار تک رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے اور بیرون ملک سے آنے والے افراد پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق انڈیا سے صرف پانچ علما خصوصی اجازت کے بعد اجتماع میں شرکت کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس بارے میں ڈی سی لاہور مدثر زیاض نے بی بی سی کو بتایا کہ 'کورونا وائس کی وجہ سے اجتماع کی انتظامیہ نے خود ہی رضاکارانہ طور پر اس بات پر آمادگی کا اظہار کر دیا تھا کہ ہم شرکا کی تعداد کم سے کم رکھیں گے۔ جس کے بعد ہم امید کر رہے ہیں کہ جو جماعت میں شامل ٹولیوں کی تعداد کم ہو گی اور 30 ہزار کے قریب افراد شرکت کریں گے
اس کے علاوہ دو مرحلوں پر مشتعمل اجتماع کو اس دفعہ ایک مرحلے تک ہی محدود کر دیا گیا ہے۔ جس کے بعد صرف آٹھ حلقے اجتماع میں شرکت کریں گے۔ جس میں کراچی، پشاور، لاہور، سوات، ملتان، ڈیرہ اسماعیل خان، بلوچستان،فیصل آباد شامل ہیں۔
اس کے علاوہ کسی بھی شخص کو انفرادی طور پر اجتماع میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہو گی جبکہ اجتماع گاہ کی چار دیواری کے اندر ہی تمام ضروریات کا انتظام کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈی سی لاہور مدثر ریاض کا یہ بھی کہنا تھا کہ اجتماع میں داخل ہونے والے شخص کو ایک دفعہ اندر جانے کے بعد تین دن سے پہلے باہر آنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ این سی او سی اور محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ کورونا ایس او پیز بھی اجتماع کے شرکا کو دے دی گئی ہیں جن کا خیال رکھتے ہوئے یہ اجتماع تین دن تک جاری رہے گا۔
ایس اور پیز کے تحت اجتماع گاہ میں ٹھہرنے اور سونے کی ترتیب کے مطابق دو بستر کی بیچ میں ایک بستر کے درمیان فاصلہ رکھا جائے گا۔ شرکا آپس میں بھی چار فٹ کے فاصلے پر بیٹھیں گے۔
اجتماع کے پنڈال کو چاروں طرف سے بند رکھا گیا ہے۔ اجتماع میں شرکت کے لیے ضلعی مرکز سے خاص پرچہ ساتھ لانے والے پر ہی شرکت کی اجازت دی جائے گی جبکہ پنڈال میں داخل ہونے کے لیے ماسک لازمی قرار دیا گیا۔
اجتماع کے اختتام پر شرکا کا ایک ساتھ نکلنا منع ہو گا۔ یعنی اجتماع سے جماعتوں کا خروج نہیں ہو گا بلکہ حسب ترتیب اپنے اپنے علاقوں اور مراکز کے مطابق جماعتیں نکلیں گی۔
یاد رہے کہ رائیونڈ اجتماع کی تمام تر انتظامی ذمہ داریاں ان کی اپنی انتظامی ٹیموں کے سپرد ہوتی ہیں۔ جبکہ ضلعی انتظامیہ اور سکیورٹی نافذ کرنے والے ادارے ان کے معاملات ان کے ساتھ مل کر دیکھتے ہیں۔
اجتماع میں پارکنگ اور پہرہ دینے کی خدمات ادا کرنے والے افراد کا قیام پنڈال سے باہر کیا جائے گا۔ جبکہ اجتماع گاہ کے اندر کھانے کی چار کنٹینیں ہوں گی۔ جہاں سے شرکا کھانا لے کر اپنی مختص کی گئی جگہ پر جا کر کھا سکیں گے۔
اس کے علاوہ عارضی ہسپتال کا قیام اور ریسکیو حکام کو ڈیوٹی پر مامور کیا گیا ہے تاکہ کسی ناخوشگوار صورتحال پیش آنے کی صورت میں ان کی خدمات حاصل کی جا سکیں۔
شرکا کو اجتماع کے بعد اپنے آپ کو قرنطینہ کرنا ہوگا
معمول کے مطابق رائیوئڈ اجتماع کے اختتام پر مختلف اضلاع میں جانے والی ٹولیاں پہلے ضلعی مرکز میں جاتی ہیں اور پھر انھیں آٹھ سے دس افراد کی چھوٹی ٹولیوں میں تقسیم کر کے مختلف علاقوں کی مساجد میں تبلیغ کے لیے بھیجا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن اس سال ایسا نہیں کیا جائے گا۔ ڈی سی لاہور مدثر ریاض کا اس بارے میں کہنا تھا کہ ہم اجتماع کے تین دن کے دوران اجتماع کے شرکا میں کورونا وائرس کی موجودگی دیکھنے کے لیے رینڈم ٹیسٹنگ کریں تا کہ ہمیں صورتحال کا اندازہ ہو سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اجتماع کی انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں اور ان کی جانب سے ہر قسم کا تعاون کیا جا رہا ہے۔ اس لیے اجتماع میں شریک ہر ایک شخص کی تفصیلات بھی رکھی گئی ہیں تاکہ پچھلی دفعہ کی طرح ہمیں کسی قسم کی مشکل کا سامنا ہو۔ جبکہ ان سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب شرکا رائیونڈ سے روانہ ہوں تو انھیں خود سے اپنے آپ کو کم از کم دس دن تک اپنے گھر میں ہی قرنطینہ کرنا لازمی ہوگا۔

























