آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
گلگت بلتستان: سکردو روڈ پر مسافر وین پر پہاڑی تودہ گرنے سے 14 افراد ہلاک
گلگت بلتستان انتظامیہ کے مطابق سکردو روڈ پر مسافر وین پر پہاڑی تودہ گرنے سے 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ فہرست کے مطابق اس میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے چھ اہلکاروں کے علاوہ ماں بیٹا اور دو سگے بھائی بھی شامل ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق راولپنڈی سے سکردو سفر کرنے والی مسافر گاڑی جلکوٹ سے سکردو روڈ پر اس وقت اچانک حادثے کا شکار ہوئی جب مسافر گاڑی لینڈ سلائیڈنگ کا شکار ہوئی۔
سفر کے آغاز پر گاڑی میں 16کل افراد سوار تھے جن میں سے دو حادثے کے مقام سے پہلے اپنی منزل پر اتر گئے تھے جس وجہ سے وہ محفوظ رہے تھے۔
ہلاک ہونے والوں میں سے تین افراد کا تعلق ضلع کوھستان سے ہے جو کہ آپس میں قریبی عزیز بتائے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سکردو کے مقامی ہسپتال کے مطابق یہ انتہائی خوفناک حادثہ تھا۔ جس میں ان کے پاس کئی افراد کی لاشوں کے اعضا کپڑوں اور بوریوں میں بھر کر لائے گئے تھے۔
سکردو سے صحافی وزیر مظفر حسین کے مطابق حادثہ ہفتے کی رات کسی وقت پیش آیا تھا جس کے بعد سے روڈ بند کر دیا گیا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ رات کے اندھیرے کی وجہ سے کوئی بھی مسافر گاڑی پر موجود ملبے کے قریب نہیں گیا تھا اور جب صبح کی روشنی پھیلی تو اس کے بعد لوگوں نے قریب جا کر دیکھا تو انھیں پتا چلا کہ ملبے تلے مسافر ویگن دبی ہوئی ہے۔
گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق اس سال بارشیں زیادہ ہوئی ہیں جبکہ روڈ کا تعمیراتی کام بھی جاری ہے جس کے باعث پہاڑ کی کٹائی بھی ہوتی رہتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’لگتا ہے کہ اس وجہ سے پہاڑ کمزور ہوئے ہیں اور یہ حادثہ پیش آیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سکردو روڈ پر 80 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ باقی ماندہ کام بھی جلد مکمل ہو جائے گا۔
فیض اللہ فراق نے بتایا کہ سکردو روڈ پر اس سال ریکارڈ حادثات ہوئے ہیں اور اس حادثے سے پہلے دو مسافر گاڑیاں دریا میں گرنے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں جبکہ یہ ایسا تیسرا بڑا حادثہ ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اس سال سکردو روڈ پر حادثات میں کم از کم 120 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔
صحافی وزیر مظفر حسین کے مطابق سکردو روڈ انتہائی خطرناک ہو چکا ہے۔ سڑک کی تعمیر کا کام تین سال سے جاری ہے اور اس دوران پہاڑوں کی کٹائی کرنے کے لیے دھماکے بھی کیے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی لوگوں کی جانب سے اس طرح درجنوں شکایات موجود ہیں کہ اس سڑک پر سفر کرتے وقت پہاڑ سے چھوٹی موٹی لینڈ سلائیڈنگ ہوتی رہتی ہے اور سکردو روڈ پر سفر کریں تو اس وقت واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ پہاڑ ہل رہے ہیں۔
صحافی وزیر مظفر حسین کا کہنا تھا کہ حالیہ حادثہ جس مقام پر ہوا ہے اس مقام پر اس سال جون کے ماہ میں ہم لوگ خود بھی لینڈ سلائیڈنگ میں تین روز تک پھنسے رہے تھے۔