انڈیا کو کلبھوشن تک قونصلر رسائی کی تیسری پیشکش کی جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان کی وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ انڈیا کو اس کے مبینہ جاسوس کلبھوشن جادھو تک تیسری مرتبہ قونصلر رسائی کی پیشکش کرے اور کلبھوشن جادھو کے لیے وکیل مقرر کرنے کے حوالے سے انڈین حکومت کے جواب کا انتظار کرے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جمعرات کو وزارت قانون کے سیکریٹری کی جانب سے عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی۔

اس بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل ہیں۔

بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ گذشتہ سماعت کے دوران عدالت نے جو حکم جاری کیا تھا کیا اس پر عمل درآمد ہوا؟

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے بینچ کو بتایا کہ چھ اگست 2020 کو مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو اور انڈین حکومت کو اس بارے میں آگاہ کر دیا گیا تھا تاہم اُنھوں نے کہا کہ ابھی تک حکومت کو انڈین وزارت خارجہ کی طرف سے جواب موصول نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیے

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست کے لیے وکیل مقرر کرنے کی سہولت سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہتا۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل کرنے کے لیے تیار ہے۔ اٹارنی جنرل نے الزام عائد کیا کہ انڈیا نظرثانی کے معاملے پر رکاوٹ بن رہا ہے۔

اُنھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے کلبھوشن کے لیے وکیل مقرر کرنے کا حکم دے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اس کے علاوہ دوسرا کیا آپشن ہے جس پر خالد جاوید خان کا کہنا تھا کہ دوسری آپشن کے طور پر انڈیا کے جواب کا مزید انتظار کیا جا سکتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے مجرم کو فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف وکیل مقرر کرنے کے حوالے سے آرڈیننس جاری کیا لیکن انڈیا نے آرڈیننس کے تحت کلبھوشن کے لیے وکیل مقرر کرنے کی پیشکش کا جواب نہیں دیا۔

اُنھوں نے کہا کہ انڈیا بین الاقوامی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد سے بھاگ رہا ہے۔

بینچ کی طرف سے یہ سوال کیا گیا کہ اگر انڈیا یا کلبھوشن جادھو اس سہولت سے فائدہ ہی نہیں اٹھانا چاہتے تو پھر نظرثانی درخواست کا سٹیٹس کیا ہوگا؟

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ انڈیا کلبھوشن کیس کی پیروی سے انکار بھی نہیں کر رہا۔

اُنھوں نے کہا کہ انڈیا نے پاکستان میں کاغذات دیکھنے یا حصول کے لیے ایک وکیل مقرر کیا۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ انڈیا نے بیرسٹر شاہ نواز نون کو وکیل مقرر کیا لیکن ان کے پاس وکالت نامہ نہیں تھا۔

خالد جاوید کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل آفس نے ان کو بلایا لیکن ان کے پاس نہ وکالت نامہ تھا نہ اتھارٹی لیٹر۔ اُنھوں نے کہا کہ بیرسٹر شاہنواز نون کے پاس وکالت نامہ نہ ہونے کے اعتراض کے بعد پھر اُنھوں نے دوبارہ اٹارنی جنرل آفس سے رابطہ نہیں کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان لیگل پریکٹیشنر ایکٹ کے تحت انڈیا کا کوئی وکیل یہاں آکر وکالت نہیں کر سکتا جبکہ انڈیا میں بھی یہی قانون ہے۔ بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سزا کے خلاف نظرثانی کا معاملہ مؤثر ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ مناسب نہ ہو گا کہ شفاف ٹرائل کے اصولوں کے تحت انڈیا کو وکیل مقرر کرنے کے حوالے سے دوبارہ پیشکش کی جائے؟

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وہ اس بات پر متفق ہیں کہ عالمی عدالت کے فیصلے پر عمل کے لیے انڈیا کو ایک اور موقع دیا جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان انڈیا کو کمانڈر جادھو تک قونصلر رسائی کے لیے ایک اور پیشکش کرنے کو تیار ہے۔

بعد میں اس درخواست کی سماعت چھ اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔

سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی گذشتہ سماعت کے فیصلے کے بارے میں دفتر خارجہ کے ذریعے انڈیا اور کلبھوشن جادھو کو آگاہ کیا گیا تاہم اُنھوں نے کہا کہ ایک ماہ گزرنے کے باوجود انڈیا نے جواب نہیں دیا۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ انڈیا کے پاس آپشن یہی ہے کہ وہ یہاں آکر کیس کی پیروی کرے کیونکہ اب عالمی عدالت انصاف میں جانے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ اُنھوں نے کہا کہ انڈین سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق کوئی غیر ملکی وہاں پر کیس نہیں لڑ سکتا۔ اُنھوں نے کہا کہ جب وہ اپنے ملک میں کسی اور کو اجازت نہیں دیتے تو پاکستان میں بھی یہی قانون ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے گذشتہ سماعت کے دوران عدالت نے حکم دیا تھا کہ کمانڈر جادھو کو ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کے تحت حاصل حقوق سے آگاہ کیا جائے۔

عدالت نے کلبھوشن جادھو کو عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی جانب توجہ دلانے کی ہدایت بھی کر رکھی ہے جبکہ کلبھوشن کو حکومتی آرڈینینس کے تحت حاصل حقوق کے استعمال سے آگاہ کرنے کا بھی حکم دیا گیا تھا۔

انڈین نیوی کے افسر کلبھوشن جادھو کو 3 مارچ 2016 کو غیر قانونی طور پر پاکستان داخل ہونے پر گرفتار کیا گیا۔

‏‎22 جولائی 2016 کو کلبھوشن جادھو نے انڈین ایجنسی را کی ایما پر دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا اور اُنھوں نے مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان میں جاسوسی کا بھی اعتراف کیا۔

کلبھوشن جادھو کو پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل کر کے موت کی سزا سنائی تھی۔