عمران خان اور شہباز شریف کا دورۂ کراچی اور سوشل میڈیا پر بحث: ’سیاسی رہنماؤں کے وعدے بس وعدے ہی ہوتے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
رواں برس مون سون میں ہونے والی بارشوں نے یوں تو پاکستان کے کئی علاقوں میں تباہی مچائی ہے لیکن ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے حالات انتہائی سنگین ہیں۔ کچی بستیوں سے لے کر پوش علاقوں تک کے مکین بےبسی کی تصویر بنے اہنے اپنے حلقے کے منتخب نمائندوں سے لے کر صوبے اور ملک کی قیادت کو ڈھونڈتے نظر آتے ہیں۔
اس موقع پر دورہ کراچی کو لے کر ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے کارکنان و سوشل میڈیا پر موجود مداحوں کے درمیان خاصی بحث ہوتی بھی نظر آ رہی ہے۔
ایک طرف کچھ صارفین صوبہِ سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور بھٹو خاندان کی عدم موجودگی کی شکایت کرتے نظر آ رہے ہیں تو دوسری جانب کئی افراد یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ کراچی سے انتخابات جیتنے والے وزیرِ اعظم عمران خان خود کہاں ہیں؟
اگرچہ وزیرِ اعظم کراچی کی صورتحال کی نگرانی کر رہے تھے کی اور اس بارے میں وقتاً فوقتاً ٹویٹس کرتے نظر آئے۔۔۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
27 اگست کو کی گئی ٹویٹ میں وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کراچی کے لوگوں کو درپیش مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے اور وہ امدادی کارروائیوں کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہے ہیں اور صورتحال سے باقاعدہ طور پر باخبر رہنے کے لیے قدرتی آفات سے نمٹنے کے این ڈی ایم اے کے چیئرمین اور گورنر سندھ سے مستقل رابطے میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس دوران پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جانب سے بھی ایسے اعلانات کیے گئے کہ وزیراعظم عمران خان صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور سیلاب سے مستقل بچاؤ کے لیے جلد ایک منصوبے کا اعلان کریں گے۔
لیکن اس کے باوجود ان کی عدم موجودگی کو محسوس کیا گیا اور کئی صارفین کہتے نظر آئے کہ ’وزیراعظم عمران خان مشکل وقت میں سندھ نہ آ کر بہت بڑی غلطی کر رہے ہیں۔ لوگ تو مشکل سے نکل جائیں گے مگر یہ ہمیشہ یاد رکھیں گے کہ کون ان کے ساتھ کھڑا تھا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
کئی صارفین تو اس موقع پر صدر عارف علوی کی گذشتہ سال بارشوں کے دوران کشتی میں شہریوں کو ریسکیو کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز شئیر کرتے پوچھتے نظر آئے کہ کراچی کی عوام ڈاکٹر عارف علوی کو تلاش کر رہے ہیں اگر کسی صاحب کو ملیں تو برائے مہربانی کراچی پہنچا دیا جائے۔‘
فہد بٹ نامی صارف کا کہنا تھا ’دو سال پہلے جب کراچی میں دو فٹ بارش ہوئی تھی، تب عارف علوی اپنی پراڈو پہ کشتی ڈال کے لائے تھے۔ اب پی ٹی آئی کے کراچی میں 14 ایم این ایز ہیں۔ شہر بارش سے تباہ ہو رہا ہے اور عارف علوی صدر ہیں لیکن ان میں سے کوئی شکل دکھانے بھی نہیں آتا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
صدر کا تو پتا نہیں لیکن وزیرِ اعظم کے منتظر افراد کو خوشخبری سنا دیں کہ بلآخر عمران خان جمعرات کے روز کراچی پہنچ رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ کی قیادت کو ڈھونڈنے والوں کو یہ بھی بتا دیں کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف بھی بدھ کے روز کراچی پہنچیں گے۔
اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے صدر طوفانی بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کریں گے اور پارٹی عہدیداروں اور کارکنان سے کراچی اور سندھ میں سیلاب کی صورتحال اور امدادی کاررائیوں پر بریفنگ لیں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
سندھ حکومت، پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی عدم موجودگی اور مسلم لیگ اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے دورہ کراچی کو لے سوشل میڈیا پر خاصی بحث چل رہی ہے اور گذشتہ رات شہباز گل کی ٹویٹ کے بعد اس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر کے دورہ کراچی کے اعلان پر تنقید کرتے ہوئے شہباز گل کا کہنا تھا ’جیسے ہی وزیراعظم کا کراچی جانے کا پروگرام فائنل ہوا شہباز شریف صاحب نے فورا ایک دن پہلے کا ٹکٹ کٹوا لیا۔ اب وہاں جا کر ڈرامہ بازی کریں گے۔‘
انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ’وزیراعظم جو اقدامات کرنے جا رہے ہیں شہباز شریف ان کا ایک دن پہلے اعلان کریں گے۔ یہ فلم کچھ پرانی نہیں ہو گئی؟ اور اگر نیب نے بلا لیا تو فورا کمر درد شروع۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 5
کئی صارفین یہ بھی کہتے نظر آئے کہ کراچی میں بارشوں کے وقت صوبائی حکومت، پی پی پی اور مسلم لیگ پہلے تو سرے سے غائب تھے لیکن اب جیسے ہی فوج اور لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کراچی کو صاف کر لیا ہے تو ناصرف صوبائی حکومت اور پی پی پی بارش میں باہر نکل آئیں ہیں بلکہ دوسری پارٹیوں کے رہنماؤں حتیٰ کے وزیرِ اعظم کو بھی کراچی کی یاد آ گئی ہے۔
نورین حیدر نامی صارف پوچھتی نظر آئیں کہ بلاول بھٹو زرداری کراچی سے تو غائب ہوئے ہی تھے مگر اب ٹوئٹر سے بھی غائب ہو گئے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 6
خیر وزیرِ اعظم کے دورہ کراچی کو لے کر صحافی حامد میر کی ایک پول بھی گردش میں ہے جس میں انھوں نے پوچھا ہے کہ وزیرِ اعظم کو دورہ کراچی کے موقعے پر پہلا کام کیا کرنا چاہیے؟
اس پر کئی منچلے کہتے نظر آئے کہ وائپر سے سمندر کی لہریں واپس سمندر میں دھکیلیں تاکہ پانی باہر شہر میں نہ گھس جائے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 7
حامد میر کے پول پر تبصرہ کرتے ہوئے کلثوم نامی صارف کہتی ہیں ’ایک ہفتے بعد کراچی آکر ہیلی کاپٹر میں گھوم کر واپس چلے جانا چاہیے کیونکہ ان کے وعدے صرف وعدے ہی ہوتے ہیں۔‘



























