بلوچستان: 14 اگست کے موقع پر پرچم وغیرہ فروخت کرنے والے نشانے پر، حالیہ تشدد کی وجوہات کیا ہیں؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
- وقت اشاعت
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گذشتہ چار پانچ روز کے دوران بم حملوں کے واقعات پیش آئے ہیں۔ ان حملوں میں پاکستان کے یومِ آزادی کی مناسبت سے پرچم وغیرہ فروخت کرنے والے سٹالز اور دکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ، اس سے متصل ضلع مستونگ، کراچی سے متصل ضلع لسبیلہ کے صنعتی علاقے حب اور تربت وغیرہ میں ایسے حملے کیے گئے۔
ان واقعات میں ایک بچی ہلاک اور 20 کے قریب لوگ زخمی ہوئے جبکہ ان واقعات کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے قبول کی گئی ہے۔
ان حملوں کے پیچھے کیا سوچ اور عوامل کارفرما ہوسکتے ہیں؟
سکیورٹی امور کے ماہر اور طویل عرصے تک بلوچستان میں پولیس کے انسپیکٹر جنرل رہنے والے ڈاکٹر شعیب سڈل کا کہنا ہے کچھ ماہ سے بلوچستان میں بدامنی بڑھنے کے پیچھے اندرونی اور بیرونی دونوں عوامل کارفرما ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک 14 اگست سے منسلک سرگرمیوں پر حملوں کی بات ہے تو اس کا مقصد خوف و ہراس پیدا کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو عناصر یہ حملے کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ لوگ 14 اگست کی مناسبت سے تقریبات میں شرکت نہ کریں اور اپنے گھروں پر جھنڈے نہ لگائیں۔
بلوچستان میں ماضی میں بھی شورشیں ہوتی رہی ہیں لیکن 70 کی دہائی میں ہونے والی بغاوت کے بعد یہ سلسلہ سنہ 2000 سے شروع ہوا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دیگر حملوں کے ساتھ ساتھ 14 اگست کی تقریبات اور ان کی تیاریوں سے متعلق سرگرمیوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔
2008 سے قبل تک یہ اتنے بڑھ گئے تھے کہ بلوچستان میں لوگوں کی 14 اگست کی مناسبت سے تقریبات میں شرکت میں کمی آئی تھی لیکن بعد میں ان تقریبات کو منانے اور ان میں لوگوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کے لیے حکومت، بالخصوص سکیورٹی اداروں کی جانب سے خصوصی اقدامات کیے جاتے رہے۔
ان تقریبات میں لوگوں کی شرکت کو بڑھانے کے لیے ملک بھر سے معروف گلوکاروں کو بھی مدعو کیا جاتا رہا۔ سکیورٹی کے بڑے پیمانے پر انتظامات کے ساتھ یہ تقریبات بلوچستان بھر میں اب ماضی کے مقابلے بہت زیادہ اہتمام کے ساتھ منعقد کی جا رہی ہیں۔
رواں سال اگرچہ شہری علاقوں میں بم دھماکوں کے واقعات کم پیش آئے لیکن سکیورٹی فورسز پر کئی علاقوں میں حملوں کے متعدد واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGovernment of Balochistan
کیچ، واشک، بولان اور ہرنائی میں جانی نقصان کے حوالے سے بعض بڑے واقعات بھی پیش آئے جن کی ذمہ داریاں مختلف عسکریت پسند تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔
سنہ 2000ء سے قبل بلوچستان قدرے پرامن تھا اور یہاں عام جرائم کی شرح دوسرے صوبوں کے مقابلے میں انتہائی کم تھی، لیکن 2000 کے بعد بم دھماکوں، سرکاری تنصیبات اور سکیورٹی فورسز پر حملوں، اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔
اُس دور کی حکومت کی جانب سے بلوچستان میں گوادر کی بندرگاہ سمیت بعض دیگر میگا پراجیکٹس اور معدنیات کے منصوبوں پر اعلانات کے ساتھ ساتھ ان پر کام کا آغاز بھی کیا گیا۔
اس حکومت نے ابتدا میں شورش کا ذمہ دار سخت گیر مؤقف کے حامل چند سرداروں کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ’چونکہ یہ ترقی مخالف ہیں اس لیے وہ بدامنی پھیلا کر ترقی کے عمل کو روکنا چاہتے ہیں کیونکہ ترقی آنے سے ان کی اجارہ داری ختم ہوجائے گی۔‘
تاہم بلوچستان کے قوم پرست حلقوں کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کیا جاتا رہا اور وہ اُس دور کی حکومت اور اس کی پالیسیوں کو حالات کی خرابی کا ذمہ دار ٹھہراتے رہے۔ ان کا یہ مؤقف ہے کہ حکومت، بلوچستان کے وسائل کو یہاں کے لوگوں کی مرضی کے خلاف استعمال کرنا چاہتی ہے جس کی وجہ سے بے چینی ہے۔
بلوچستان میں بدامنی کے جو واقعات رونما ہوتے رہے ان کی ذمہ داری مختلف کالعدم عسکریت پسند تنظیمیں قبول کرتی رہیں جن کا کہنا ہے کہ ان کی ان کارروائیوں کا مقصد بلوچستان کو علیحدہ کرنا ہے۔
شورش میں اضافے کے بعد حکومت کی جانب سے بیرونی مداخلت کا الزام بھی عائد کیا گیا اور یہ کہا جانے لگا کہ ان عناصر کو بیرونی بالخصوص انڈیا کی حمایت حاصل ہے جو مبینہ طور پر افغان انٹیلیجنس ادارے این ڈی ایس کو استعمال کر کے پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے۔
افغان حکام کی جانب سے ایسے الزامات کو مسترد کیا جاتا رہا ہے۔
علیحدگی پسند تنظیمیں اور سخت گیر مؤقف کی حامل قوم پرست جماعتیں بھی ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہیں اور ان کا یہ کہنا ہے کہ ’یہ تحریک بلوچستان کے لوگوں کی اپنی تحریک ہے۔‘
بلوچستان میں امن و امان کے مسائل کی بڑی وجوہات کیا؟
سابق انسپیکٹر جنرل پولیس بلوچستان ڈاکٹر شعیب سڈل کے مطابق بلوچستان ایک وسیع و عریض صوبہ ہے اور اس کا بڑا حصہ بی (B) ایریا پر مشتمل ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
واضح رہے کہ بلوچستان انتظامی لحاظ سے دو حصوں اے ایریا اور بی ایریا میں تقسیم ہے۔
اے ایریا زیادہ تر شہری علاقوں پر مشتمل ہے جہاں آبادی کا بڑا حصہ آباد ہے۔ ان علاقوں کا انتظامی کنٹرول پولیس کے پاس ہے اور یہ علاقہ رقبے کے لحاظ سے اندازاً بلوچستان کے مجموعی رقبے کا 10 فیصد علاقہ بنتا ہے۔
بلوچستان کا بی ایریا دیہی علاقوں پر مشتمل ہے جو کہ رقبے کے لحاظ سے 90 فیصد علاقہ بنتا ہے۔ ان علاقوں میں اے ایریا کے مقابلے میں آبادی کم اور منتشر ہے، اور یہ علاقے لیویز فورس (قبائلی پولیس) کے کنٹرول میں ہیں۔
ڈاکٹر شعیب سڈل کہتے ہیں کہ جب تک اتنا بڑا بی ایریا رکھا جائے گا تو اس وقت تک ریاست کی رٹ کمزور رہے گی۔
شعیب سڈل کہتے ہیں کہ انڈیا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات روز بروز خراب ہو رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’وہاں سے یہاں کے حالات کو خراب کرنے کے لیے فنڈنگ ہوتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جو جنگجو گروہ تقسیم اور منتشر ہوئے تھے ان کو نئے سرے سے اکٹھا کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مناسب انسدادِ شورش مہم کی ضرورت ہے جو پولیس کی قیادت میں ہونی چاہیے۔ لیکن ان کے بقول جب پولیس ایک بڑے علاقے میں سرے سے ہے ہی نہیں تو وہاں ایسی کوئی مہم کیسے چلے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بہتری کے لیے طویل المدتی اور قلیل مدتی مؤثر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر شعیب سڈل کا کہنا ہے کہ کچھ وقت سے بد امنی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، اس تناظر میں یہ دیکھنا چاہیے کہ کہاں کوئی ایسا خلا پیدا ہوا جس کی وجہ سے ان میں اضافہ ہوا اور اس خلا کو پر کرنے کے لیے کیا اقدامات کرنے چاہییں۔
اگرچہ ڈاکٹر شعیب سڈل بی ایریا کو ریاستی رٹ کی کمزوری قرار دیتے ہیں لیکن بلوچستان کے اے ایریا کے مقابلے میں بی ایریا میں عام جرائم کی شرح کم ہے، جبکہ پولیس کے مقابلے میں لیویز فورس کی نفری اور وسائل بھی انتہائی کم ہیں۔
سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں جب بلوچستان میں جام محمد یوسف کی حکومت تھی تو لیویز فورس کو ختم کر کے پولیس میں ضم کیا گیا، مگر 2008 میں نواب اسلم رئیسانی کی قیادت میں بننے والی مخلوط حکومت نے لیویز فورس کو دوبارہ بحال کر دیا۔
لیکن وزیر اعلیٰ جام کمال خان کی قیادت میں موجودہ حکومت نے ایک مرتبہ پھر پولیس کے علاقوں میں اضافہ کرتے ہوئے کوئٹہ، گوادر اور لسبیلہ کے اضلاع کو مکمل اے ایریا قرار دیا۔
تاہم 2008 میں بحالی کے بعد نہ صرف لیویز فورس کے وسائل میں اضافہ کیا گیا بلکہ اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے۔
جدید بنانے کے لیے دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ لیویز فورس کی ایک بڑی نفری کو فوج نے بھی تربیت دی جس کے باعث ماضی کے مقابلے میں لیویز فورس کئی گنا زیادہ تربیت یافتہ ہے۔
کیا حالات صرف سکیورٹی کے ناقص انتظامات کی وجہ سے خراب ہیں؟
سیاسی مبصرین کے مطابق اگرچہ مسلح تنظیموں کی وجہ سے سکیورٹی کے مسائل ہیں لیکن بلوچستان میں بے چینی کی وجوہات سیاسی بھی ہیں، اس لیے بلوچستان کے سیاسی حلقوں کی جانب سے بلوچستان کے سیاسی مسائل کو سیاسی اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے۔
ڈاکٹر شعیب سڈل بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انسدادِ شورش کے ساتھ ساتھ سیاسی اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں جو تنظیمیں اور گروہ مسائل کا باعث بن رہے ہیں، ان میں نوجوان طبقہ شامل ہو رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPAcific Press
انھوں نے کہا کہ ان سے معاملات اسی طرح طے ہوسکتے ہیں کہ ان کے جو جائز حقوق ہیں وہ ان کو دینے ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ فورس کے استعمال سے مذاکرات کی راہ ہموار تو کی جاسکتی ہے لیکن مسائل کو حل صرف مذاکرات کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔
مذاکرات کا نکتہ نیشنل ایکشن پلان میں بھی شامل
بلوچستان میں چند سال قبل تک سرکاری حکام جن لوگوں کو حالات کی خرابی کا ذمہ دار سمجھتے تھے ان کے لیے وہ ناراض بلوچ کی اصطلاح استعمال کرتے تھے۔
پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد نواز شریف کے سابق دور میں حالات کی بہتری کے لیے جو نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا، اس میں بلوچستان میں حالات کی بہتری کے لیے ’ناراض بلوچوں‘ سے مذاکرات کا نکتہ بھی شامل تھا۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر عامر رانا کا کہنا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان میں مذاکرات کا جو نکتہ ہے اس پر بھی عمل کی ضرورت ہے۔
اگرچہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان سے پہلے کی حکومت میں بیرون ملک مقیم بعض بلوچ رہنماﺅں سے رابطے ہوئے لیکن تاحال مذاکرات کے حوالے سے کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
عامر رانا کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے سے بلوچستان میں بد امنی کی کارروائیاں بڑھی ہیں اور اس میں بہت سارے ایسے رجحانات سامنے آرہے ہیں جو 'باہر' کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’جو مذہبی عسکریت پسند ہیں، ان کا ایک خاص طریقہ ہوتا ہے۔ وہ کس کو ہدف بناتے ہیں، اس کا صاف پتہ چل جاتا ہے‘، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب کچھ عرصے سے آئی ای ڈی حملوں کا جو رجحان سامنے آیا ہے وہ مختلف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جو کارروائیاں بڑھی ہیں، وہ قوم پرست عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے بڑھی ہیں جس سے نمٹنے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں لیکن اس کو سنجیدگی کے ساتھ سیاسی حوالے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
عامر رانا نے بتایا کہ پرامن بلوچستان کے پروگرام کو مؤثر اور کامیاب بنانے کے لیے حکومت کے حامی سرداروں اور قبائلی شخصیات کے اثر و رسوخ سے آزاد کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کے بقول حکومت کے حامی سرداروں اور قبائلی شخصیات نے ’جعلی سرینڈر کروائے جس کے باعث سیاسی حوالے سے جو پیش رفت ہونی تھی وہ رک گئی‘۔
عامر رانا کہتے ہیں کہ سیاسی حل کی طرف جانا ہی ہوگا کیونکہ اگر اس کا سیاسی حل نہیں نکالا گیا تو یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ قوم پرست عسکریت پسندی کا جو مسئلہ ہے وہ آپریشنل کارروائیوں سے کچھ وقت کے لیے تھم جائے گا لیکن کچھ وقت کے بعد پھر اس میں شدت آئے گی اور اس طرح یہ مسئلہ جاری رہے گا۔
























