فوجی عدالتیں: سپریم کورٹ نے 196 سزا یافتہ افراد کی رہائی کا فیصلہ معطل کر دیا

پاکستان کی عدالت عظمی نے پشاور ہائی کورٹ کے اس حالیہ فیصلے کو معطل کر دیا ہے جس میں فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے 196 افراد کی سزاؤں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔
سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے مجرموں کے خلاف مقدمات کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔
جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے منگل کے روز وفاق کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی جس کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بیچ سے استدعا کی کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کیا جائے۔
یاد رہے کہ جون 2020 میں پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے فوجی عدالتوں کی طرف سے مختلف الزامات کے تحت سزاؤں کے خلاف دائر اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 196 افراد کی سزائیں کالعدم قرار دے دی تھیں، جبکہ مزید ایک سو سے زیادہ مقدمات کا ریکارڈ طلب کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منگل کے روز سپریم کورٹ میں اس معاملے میں ہونے والی سماعت کے دوران جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ فوجی عدالتوں سے ٹرائل کے بعد مجرمان کو سزا ہوئی ہے تو ہر کیس کے اپنے شواہد اور حقائق ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہPESHAWAR HIGH COURT
اُنھوں نے ایڈشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا مجرمان پشاور ہائی کورٹ کے رہائی کے فیصلے کے بعد جیلوں میں ہیں؟ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو اگاہ کیا کہ مجرمان جیلوں میں ہیں تاہم اُنھوں نے عدالت سے استدعا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کیا جائے۔
وفاق کی درخواست پر آئندہ سماعت 24جولائی کو ہوگی۔
پشاور ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں کیا ہے؟
جون میں مختصر فیصلہ سنانے کے بعد پشاور ہائی کورٹ نے رواں ماہ یعنی جولائی میں 426 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا تھا جس میں 196 افراد کی گرفتاریوں سے لے کر حراستی مراکز میں ان کی قید اور فوجی عدالتوں میں ان کے مقدمات کی سماعت کا ذکر ہے۔
پشاور ہائی کورٹ میں فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے تقریباً 300 سے زیادہ افراد کی اپیلیں زیرِ سماعت تھیں لیکن پشاور ہائی کورٹ نے صرف اُن اپیلوں پر فیصلہ سنایا تھا جن کے مکمل ریکارڈ عدالت کو فراہم کر دیے گئے تھے۔
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ملزمان کو شفاف ٹرائل کا موقع نہیں دیا گیا، یہاں تک کہ ملزمان کو اپنا وکیل رکھنے کا موقع بھی فراہم نہیں کیا جو کہ آئین کے آرٹیکل 10 اور 10 اے کی خلاف ورزی ہے۔
اس فیصلے میں لکھا گیا تھا کہ یہ مشاہدے میں آیا ہے کہ درخواست گزاروں یا جنھیں سزا سنائی گئی انھیں دنیا سے الگ تھلگ رکھا گیا، یہاں تک کہ انھیں خاندان کے افراد، والدین اور وکیلوں تک بھی اس وقت تک رسائی فراہم نہیں کی گئی جب تک کہ حراست کے دوران ان کا فیصلہ نہیں سنا دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس فیصلے میں مزید کہا گیا تھا کہ پاکستان آرمی کے رول 82، 83 اور 87 جنھیں رول 23 اور 24 کے ساتھ پڑھا جا سکتا ہے، میں واضح طور پر لکھا ہے کہ جس شخص کے خلاف مقدمہ فوجی عدالت میں زیر سماعت ہو، اسے دفاع کے لیے وکیل کرنے کی اجازت ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
پشاور ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں لکھا گیا کہ مقدمے کا سارا انحصار ملزمان یا جنھیں سزا سنائی گئی ہے ان کے اعترافی بیان پر مشتمل ہے جو ان ملزمان سے حراست کے دوران جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے لیا گیا ہے جو (جوڈیشل مجسٹریٹ) اس کا مجاز نہیں تھا۔
پشاور ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ جنھیں سزا سنائی گئی ہے ان کے خلاف براہ راست نہ تو کوئی شکایت کہیں سامنے لائی گئی ہے، نہ کوئی ایف آئی آر درج ہے اور نہ ہی کوئی ایسی تفتیش سامنے لائی گئی ہے جس سے ملزمان یا جنھیں سزا سنائی گئی ہے ان کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کو تقویت مل سکتی، اس لیے یہ واضح ہوتا ہے کہ تمام کارروائی آرمی ایکٹ/رول کے خلاف کی گئی ہے اور دیگر بنیادی حقوق اور انصاف کے تقاضوں پر عمل کرنا تو دور کی بات ہے۔
























