تحریکِ طالبان کے سربراہ مفتی نور ولی پر اقوام متحدہ کی پابندیاں عائد

اپنی کتاب میں مفتی نور ولی نے اعتراف کیا تھا کہ طالبان گروہ اور تنظیمیں ماضی میں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے تحریک ہی کی چھتری تلے ڈاکہ زنی، بھتہ خوری، اجرتی قتال جیسی کارروائیوں میں ملوث رہیں۔

،تصویر کا ذریعہPakistani Taliban

    • مصنف, عزیزالله خان
    • عہدہ, بي بي سي
  • وقت اشاعت

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے موجودہ سربراہ مفتی نور ولی محسود کو شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ اور القاعدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔

اس سے پہلے امریکہ نے مفتی نور ولی محسود کا نام گذشتہ سال عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

القاعدہ اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی پابندیوں کی فہرست میں شمولیت سے ان کے اثاثے منجمد ہوچکے ہیں جبکہ ان کے سفر کرنے اور اسلحہ رکھنے پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق یہ پابندیاں انفرادی طور پر اور تنظیمی سطح پر عائد کی جاتی ہیں۔ اس وقت اس فہرست میں 261 افراد اور 89 تنظیمیں یا گروہ شامل ہیں۔ تازہ ترین اضافہ گذشتہ روز مفتی نور ولی محسود کا ہوا ہے جن کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے بتایا گیا ہے۔ ’

مفتی نور ولی محسود کون ہیں؟

پاکستان میں شدت پسند کارروائیوں میں ملوث کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سابق سربراہ مولوی فضل اللہ کی ہلاکت کے بعد سال 2018 میں مفتی نور ولی محسود کو اس تنظیم کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

مولوی فضل اللہ 13 جون 2018 کو امریکی ڈرون حملے کا نشانہ بنے تھے جس کے بعد 23 جون کو تحریک طالبان کی شوریٰ نے باہمی مشاورت کے بعد مفتی نور ولی محسود کو تنظیم کی رہبری کی ذمہ داریاں سونپی کی تھیں۔

نور ولی محسود کو فروری سال 2018 میں خالد سجنا کی ہلاکت کے بعد حلقہ محسود کے جنگجوؤں کا امیر مقرر کیا گیا تھا۔ مفتی نور ولی سابق امیر بیت اللہ محسود کے قریبی ساتھی تھے اور ماضی میں تحریک کی اہم ذمہ داریاں سنبھالتے آ رہے ہیں۔

مفتی نور ولی ایک مصنف اور مسلح جہادی

نور ولی محسود جنوبی وزیرستان کے علاقے تیارزہ میں پیدا ہوئے۔ طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں جب پاکستانی افواج نے آپریشن ضربِ عضب شروع کیا تو مفتی نور ولی محسود نے اس محاذ میں پاکستانی افواج کے خلاف لڑائی میں شرکت کی تھی۔

امریکی ڈرون نے سال 2014 میں جنوبی وزیرستان کے علاقے سروکئی میں نور ولی محسود کے ایک ٹھکانے کو بھی نشانہ بنایا تھا تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے تھے اور آٹھ طالبان مارے گئے تھے۔

مفتی نور ولی محسود نے حال ہی میں 690 صفحات پر مبنی 'انقلاب محسود، ساؤتھ وزیرستان - فرنگی راج سے امریکی سامراج تک' نامی ایک تفصیلی کتاب لکھی تھی۔

اس کتاب میں پہلی مرتبہ تحریکِ طالبان پاکستان کی جانب سے پیپلز پارٹی کی رہنما اور سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو پر کارساز، کراچی اور راولپنڈی میں حملوں کی بھی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ اس سے قبل طالبان اس سے انکار کرتے رہے ہیں۔

مفتی نور ولی محسود کے بقول اس کا مقصد یہ تھا کہ شدت پسند ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ سکیں اور انھیں مستقبل میں نہ دہرائیں۔ ایک اور وجہ ان کے بقول تجزیہ نگاروں، محققین اور مؤرخین کی 'تصحیح' کی جاسکے۔

طالبان

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمفتی نور ولی ناراض گروہوں کو راضی کرنے اور اتحاد قائم کرنے کے لیے انھوں نے تمام گروہوں سے بات چیت کی ہے اور وفود بھیجے

تحریک طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کیا کہتے ہیں؟

بی بی سی کا ایک نامعلوم مقام سے کالعدم تنظیم تحریک طالبان اور پھر اس کے بعد جماعت الاحرار کی ترجمانی کرنے والے احسان اللہ احسان سے رابطہ ہوا ہے۔

احسان اللہ احسان ہتھیار ڈالنے کے بعد پاکستان میں سکیورٹی فورسز کی تحویل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

وہ مفتی نور ولی محسود کے ساتھ ملاقاتیں کر چکے ہیں۔

اپنے ٹیکسٹ پیغامات میں ان کا کہنا تھا کہ مفتی نور ولی محسود کو تنظیم کے اندر اور جہادی حلقوں میں مفتی ابو منصور عاصم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان سے وزیرستان میں تنظیمی امور کے سلسلے کئی ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ مفتی نور ولی دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔

احسان اللہ احسان کا کہنا تھا کہ مفتی نور ولی محسود کو صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد اور کراچی کے مدارس سے پڑھنے کی وجہ سے اردو پر کافی دسترس حاصل ہے۔

انھوں نے کہا کہ ناراض گروہوں کو راضی کرنے اور اتحاد قائم کرنے کے لیے مفتی نور ولی محسود نے تمام گروہوں سے بات چیت کی ہے اور وفود بھیجے، جس کے نتیجے میں حکیم اللہ محسود گروپ کے کچھ سرکردہ لوگ دوبارہ ٹی ٹی پی میں شامل ہوئے ہیں اور ان کی کوششیں اب بھی جاری ہے۔

حال ہی میں شہر یار گروپ نے دوبارہ تنظیم میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے اور مفتی نور ولی محسود کو اپنا رہنما تسلیم کیا ہے۔ شہریار گروپ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد علیحدہ ہوگیا تھا جبکہ شہریار محسود اس سال فروری کے مہینے میں افغانستان میں ایک حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

احسان اللہ احسان کے مطابق مفتی نور ولی محسود، مولانا ولی الرحمان محسود کے انتہائی قریبی ساتھیوں اور رازداروں میں سے تھے اور وہ حلقہ محسود (محسود طالبان) کے حربی امور کے قاضی بھی رہ چکے ہیں۔