ڈان ڈاٹ کام کے خلاف شکایات: ’ادارے کی غلطی ہوئی تو اسے صحیح کیا جائے گا‘

    • مصنف, سحر بلوچ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

سوشل میڈیا پر ڈان ڈاٹ کام سے منسلک چند نئے اور سابق ملازمین کی شکایات سامنے آنے کے بعد ڈان اخبار کے ایڈیٹر ظفر عباس نے کہا ہے کہ شکایت کنندہ سے بات کی جا رہی ہے اور اگر ادارے کی غلطی ثابت ہوئی تو اسے صحیح کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ سوشل میڈیا پر اٹھایا گیا ہے اور اکثر اداروں میں ایسے معاملات سے اندرونی سطح پر نمٹا جاتا ہے اور حل نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

حال ہی میں ڈان کی ویب سائٹ سے منسلک چند نئے اور سابق ملازمین نے ادارے میں ان کے ساتھ مبینہ طور پر روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک سے متعلق شکایات کی ہیں۔

ٹوئٹر پر الزامات لگائے گئے کہ کس طرح انھیں مبینہ طور پر کئی گھنٹے کام کرنے کے باوجود چھٹی نہیں ملتی اور یہ کہ کام کی پابندی کرنے والے سے مزید کام لیا جاتا ہے۔

بات یہیں نہیں رکی بلکہ ایک شخص نے یہ بھی کہا کہ کس طرح اس وجہ سے ان کے ذہن میں خودکشی کا خیال آیا جسے انھوں نے ترک کیا۔

اسی ادارے سے جُڑے نئے اور سابق ملازمین نے اس سے ملتے جلتے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

ظفر عباس کا موقف

ڈان اخبار کے ایڈیٹر ظفر عباس کا کہنا ہے کہ ہر ادارے میں اس طرح کے مسائل سامنے آتے رہتے ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے ہر ادارے کا اپنا ایک طریقہ کار ہوتا ہے اور اس معاملے میں بھی ادارے میں اندرونی سطح پر انکوائری ہو رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ سوشل میڈیا پر اٹھایا گیا ہے اور اکثر اداروں میں ایسے معاملات سے اندرونی سطح پر نمٹا جاتا ہے اور حل نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس معاملے پر بھی شکایت کرنے والوں سے بات چیت ہو رہی ہے اور انھیں پوری امید ہے کہ اس کا حل نکال لیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ادارہ غلطی پر ہوگا تو وہ اسے صحیح کرنے کی کوشش کرے گا اور اگر ادارہ شکایت کنندہ کو اس بات پر آمادہ کر پایا کہ ان سے غلطی ہوئی ہے تو امید ہے کہ وہ بھی مان جائیں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈان ڈاٹ کام کس طرح چلتا ہے یا اس کے مسائل میں وہ براہ راست شامل نہیں ہیں۔

سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے ظفر عباس سے اس معاملے میں مداخلت کے لیے کہا ہے جس پر ان کا کہنا تھا کہ ’میں آفس کے معاملات پر کبھی بھی پبلک پلیٹ فارم پر ردعمل نہیں دوں گا۔ لیکن اگر شکایت کنندہ میرے پاس آتا ہے تو میں نہ صرف ان کی بات سنوں گا بلکہ اسے حل کرنے کے لیے اپنی پوری کوشش کروں گا۔‘

ان شکایات کے نتیجے میں یہ بات بھی زیرِ بحث رہی کہ اس طرح کے واقعات کے نتیجے میں شکایات کہاں کی جائیں؟ اور کیا تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ پر کام کرنے والی ملازمین کے لیے یونین کا حصہ بننے کے لیے کوئی طریقہ کار وضح ہے؟

یونین کمزور صحیح، لیکن موجود ہے

پاکستان ہیرلڈ ورکرز یونین کے جنرل سیکریٹری رشاد محمود نے بی بی سی کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ صحافی برادری کے لیے یونین سازی ان تمام تر مشکلات سے نمٹنے کا اہم راستہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یونین بنانے کے لیے کم از کم دس لوگوں کی رضامندی ہونی چاہیے جس کے بعد یونین کا قیام کیا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے یونین کے بنیادی آئین میں کوئی قدغن نہیں ہے کہ کون اس یونین کا حصہ بن سکتا ہے اور کون نہیں‘۔

یاد رہے کہ ڈان ڈاٹ کام کے اکثر ملازمین کو ایک تیسری کمپنی کے ذریعے نوکری پر رکھا جاتا ہے۔

کئی صحافی ایسے اداروں سے منسلک ہیں جو تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ کے ذریعے لوگوں کو ملازمت پر رکھتے ہیں۔ یعنی ایک ادارہ کسی کو نوکری پر رکھنے کے لیے ادارے سے باہر ایک کمپنی کو یہ ذمہ دیتا ہے کہ وہ اُن کے لیے لوگوں کو ملازمت پر رکھے۔‘

رشاد محمود کے مطابق ایسا کرنے کے پیچھے اکثر اداروں کا مقصد ’ٹیکس بچانا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں کنٹریکٹر کے ذریعے لوگوں کو لایا جاتا ہے‘۔

اکثر ایسے کنٹریکٹ میں اداروں کی مرضی کے تحت صحافیوں کو سوائے تنخواہ کے کوئی دیگر سہولیات نہیں دی جاتیں۔

اسی کے نتیجے میں کئی صحافیوں کو یونین سازی بھی نہیں کرنے دی جاتی اور اکثر اوقات کنٹریکٹ میں بھی لکھ دیا جاتا ہے کہ وہ کسی قسم کے گروہ کا حصہ نہیں بن سکتے اور صحافتی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے کسی یونین کے رکن کے طور پر کام نہیں کرسکتے۔

اس بارے میں رشاد محمود کا کہنا ہے کہ صحافتی یونین کا زور بھی بہت حد تک کم ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق بہت سے صحافی مختلف دھڑوں اور بینرز کے تحت بٹ گئے ہیں جبکہ بہت سی صحافتی تنظیموں پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ ’یونین سے جُڑے لوگ بِک جاتے ہیں، لوگوں سے فائدہ لے لیتے ہیں اور لوگوں کے مقدمات کا اس طرح سے تعاقب نہیں کرتے جیسے پہلے کرتے تھے‘۔

رشاد محمود کا کہنا تھا کہ ’ان باتوں میں کافی حد تک صداقت ہے۔ 1970 اور 1980 کی دہائی میں جس طرح کا رعب اور جذبہ دیکھنے میں آتا تھا ویسا شاید اب نہ ہو۔ لیکن یونین اپنی جگہ موجود ہیں اور کئی ایسی یونین اب بھی موجود ہیں جو لوگوں کے مقدمات کے لیے لڑتی ہیں۔‘

اگر کسی صورتحال میں یونین کچھ نہ کر پائے تب کیا کیا جاسکتا ہے؟

رشاد محمود کہتے ہیں ’ملک کے قانون کے تحت ایسے تمام لوگ اپنا مقدمہ عدالت کے ذریعے لڑ سکتے ہیں۔ اس کی شرط یہ ہے کہ پہلے درخواست دائر کریں اور چاہے آپ تھرڈ پارٹی کنرٹیکٹ پر ہیں یا نہیں ہیں، یونین کے رکن ہیں یا نہیں ہیں، اگر آپ صحافی ہیں اور آپ کے ساتھ مسئلہ ہے تو یونین آپ کا مقدمہ لڑے گی۔ شرط یہ ہے کہ سول عدالت یا کسی بھی عدالت کے ذریعے مقدمہ کی درخواست جمع کروائیں۔‘

’تاخیر سے جانا عام بات ہے‘

سابق بینکر نور الوریٰ بتاتی ہیں کہ عام طور پر کسی بھی بینک کے اوقاتِ کار صبح 9 سے شام 5:30 یا 6 بجے تک ہوتے ہیں لیکن اگر کوئی بھی لڑکی یا خاتون اس وقت دفتر سے نکل رہی ہو تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ آج یہ 'جلدی نکل کر جا رہی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ تاخیر تک بیٹھنا عام ہے اور اس پر آپ سوال نہیں اٹھا سکتے۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر آپ کو وقت پر جانا ہے تو آپ بالکل جا سکتے ہیں لیکن پھر آپ کو سال کے آخر پر تنخواہوں میں اچھے اضافے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

’یہاں لوگوں نے جو شروع سے کیا ہے وہ ہی کلچر بن گیا ہے۔ اب وہ چاہے غلط ہی کیوں نہ ہو۔ اگر اس کلچر سے کوئی بھی تجاوز کرتا ہے تو اس کو الگ کر دیا جاتا ہے یا مراعات ملنے کے وقت ان کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

بینکنگ کے شعبے میں 12 سالہ تجربہ رکھنے والی نور اب اپنے بیٹے کی پیدائش کے بعد بینکنگ کی ملازمت چھوڑ چکی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ دفتر کی جانب سے بچے کے لیے کسی ڈے کیئر سینٹر یا کسی بھی طرح کی کوئی دیگر سپورٹ نہ ہونے کے باعث وہ اب اپنے کیریئر کو چھوڑ چکی ہیں۔

’شکایت ضرور کریں‘

پاکستان میں جتنے بھی کمرشل یا انڈسٹریل اداروں کے ملازمین ہیں وہ اپنی شکایات لے کر لیبر عدالتوں میں جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی بھی ادارہ جس کی ایک سے زیادہ صوبوں میں برانچیں یا محکمے ہوں اس کے ملازمین اپنی شکایات نیشنل انڈسٹریل ریلیشن کمیشن میں جمع کروا سکتے ہیں۔ این آئی آر سی ایکٹ 2012 کے تحت شکایات درج کروائی جاسکتی ہیں۔

ہر صوبے میں لیبر عدالتیں موجود ہیں۔ جیسے کہ سندھ میں آٹھ لیبر عدالتیں ہیں جن میں سے پانچ کراچی میں ہیں، ایک حیدرآباد، ایک سکھر اور ایک لاڑکانہ میں ہے۔

اسی طرح این آئی آر سی کی عدالتیں بھی دو کراچی اور ایک سکھر میں ہے۔ ساتھ ہی ہر شہر جیسے کہ پشاور، لاہور، ملتان، کوئٹہ میں بھی ایک ایک عدالت موجود ہے۔

این آئی آر سی جہاں انڈسٹریل ایکٹ 2012 کے تحت کام کرتی ہے وہیں لیبر عدالتیں اپنے اپنے صوبائی قوانین کے تحت کام کرتی ہیں۔

جیسے کہ سندھ میں سندھ انڈسٹریل ایکٹ 2013 موجود ہے اور اسی طرح یہ قانون دیگر تین صوبوں میں بھی موجود ہے۔

لیبر قوانین تمام صنعتی و تجارتی اداروں پر لاگو ہوتے ہیں جن میں بینک اور میڈیا کے ادارے بھی شامل ہیں۔

کراچی میں ایڈووکیٹ ہائی کورٹ اور لیبر قوانین کے کنسلٹنٹ و ایڈوائزر منان باچا کا کہنا ہے کہ ’جن اداروں میں یونین موجود ہیں وہ افراد یونین کے ذریعے بھی عدالت جاسکتے ہیں اور انفرادی طور پر بھی عدالت میں مقدمے کی درخواست دائر کرسکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ادارہ مقامی ہے یعنی ایک صوبے میں ہے تو ملازمین لیبر عدالت میں جاسکتے ہیں۔ اور اگر ایک سے زیادہ صوبوں میں ہے تو وہ پھر این آئی آر سی سے رجوع کرسکتے ہیں۔‘

منان نے بتایا کہ لیبر عدالتوں کے جج اور پریزائیڈنگ افسر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہوتے ہیں جن کی تعیناتی ہائی کورٹ کرتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اسلام آباد کسی صوبے کے دائرے میں نہیں آتا اس لیے وہاں صرف این آئی آر سی کو اختیارات حاصل ہیں اور شہر میں انڈسٹریل ایکٹ 2012 کا اطلاق ہوتا ہے۔

منان کہتے ہیں ’اکثر لوگ مقدمے کی درخواست دائر کرنے کے بعد اپنے ادارے کی طرف سے زور دینے پر درخواست واپس لے لیتے ہیں یا پریشر کے نتیجے میں ذہنی امراض کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں ’ایسی حق تلفیوں کی شکایت کریں۔ جو لوگ آپ کے دن کا اتنا سارا وقت اور آپ کی توانائی کا استعمال کرتے ہیں اُن کو جواب دینا لازم ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ آپ کے بعد آنے والوں کو کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ یہاں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔‘