کورونا وائرس: پاکستان کی سپریم کورٹ کو ’اخراجات سے زیادہ خدمات کے معیار پر تشویش‘

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کی سپریم کورٹ کے سربراہ نے کہا ہے کہ عدالت کو کورونا کی وبا سے نمٹنے کے سلسلے میں کیے گئے اخراجات سے زیادہ خدمات کے معیار پر تشویش ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے یہ ریمارکس منگل کو اسلام آباد میں اس ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران دیے جو پاکستان میں کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے انتظامات کے بارے میں لیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کا پانچ رکنی لارجر بینچ اس معاملے کی سماعت کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عدالت نے سماعت کے دوران سوال اُٹھایا ہے کہ اس بیماری کی روک تھام کے لیے صرف ایک ہی چینی کمپنی سے کیوں سارا سامان خریدا جا رہا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے اور ہماری معیشت کا شمار افغانستان,یمن اور صومالیہ سے کیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ ملک کے عوام غربت کی لکیر سے نیچے جا رہے ہیں اور یہ کہ ’ملکی وسائل پورے عوام کے لیے ہوتے ہیں نہ کہ صرف دو فیصد لوگوں کے لیے‘۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم پیسے سے کھیل رہے ہیں اور لوگوں کی زندگیوں کا ہمیں احساس نہیں ہے‘۔

سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے جو اخراجات ہوئے ہیں ان کے بارے میں جواب دینے کے لیے این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل کمرۂ عدالت میں موجود ہیں جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’عدالت کی تشویش اخراجات سے متعلق کم اور سروسز کے معیار پر زیادہ ہے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ کورونا کے مشتبہ مریض کا سرکاری لیب سے ٹیسٹ مثبت اور پرائیویٹ سے منفی آتا ہے اور سپریم کورٹ کے لاہور کے رجسٹری برانچ کے ملازمین کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’لاہور میں ایک شخص رو رہا تھا کہ اس کی بیوی کو کورونا نہیں لیکن ڈاکٹر چھوڑ نہیں رہے تھے‘۔

چیف جسٹس نے قرنطینہ مراکز کی صورتحال کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’وہاں پر دس، دس لوگ ایک ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا پر قرنطینہ سنٹرز کی حالت زار کی ویڈیوز چل رہی ہیں جن میں مشتبہ مریض ویڈیوز میں تارکین وطن کو کہہ رہے ہیں کہ وہ باہر مر جائیں لیکن پاکستان نہ آئیں‘۔

پاکستان بھر میں شاپنگ مالز کھولنے کا حکم

اس سے قبل پیر کو سماعت کے بعد عدالت نے پاکستان بھر میں شاپنگ مالز کو کھولنے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ ہفتے اور اتوار کے روز بھی چھوٹی مارکیٹیں کھلی رہیں گی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ دو دن کاروبار بند رکھنے کا حکم آئین کی شق چار, 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے پیر کے روز کورونا از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے تھے کہ کیا حکومتیں ہفتے اور اتوار کو تھک جاتی ہیں اور یا پھر کورونا نے حکومت سے کوئی معاہدہ کر رکھا ہے کہ وہ ہفتہ اور اتوار کے علاوہ باقی دنوں میں نہیں پھیلے گا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ہفتہ اور اتوار کے روز سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہوتا ہے؟

عدالت کا کہنا ہے کہ کورونا کے حوالے سے قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کروانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، ایس او پیز پر عملدرآمد کروانا ہے لوگوں کو ڈرانا نہیں ہے۔

سماعت کے دوران عدالت کا کہنا تھا کہ پاکستان ایسا ملک نہیں جو بظاہر کورونا وائرس سے زیادہ بری طرح متاثر ہو۔ عدالت نے سیکریٹری صحت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس نے بظاہر پاکستان میں وبا کی صورت اختیار نہیں کی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاکھوں افراد کے مالی حالات ایسے ہیں کہ وہ صرف عید پر ہی نئے کپڑے سلواتے ہیں لہذا ان کی خواہشات کا بھی احترام کرنا ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ دکانداروں کو نہ تو ڈرانا ہے اور نہ ہی ان سے رشوت لینی ہے۔

بینچ کے سربراہ کے استفسار پر کمشنر کراچی نے عدالت کو بتایا کہ چھوٹی مارکیٹیں کھلی ہیں جبکہ شاپنگ مالز بند ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا زینب مارکیٹ، طارق روڈ اور صدر کی مارکیٹ کے علاوہ راولپنڈی کا راجہ بازار چھوٹی مارکیٹیں ہیں۔

بینچ کے سربراہ نے کراچی کے کمشنر سے استفسار کیا کہ کچھ مارکیٹوں کو کیوں بند کیا گیا جس پر کمشنر کراچی کا کہنا تھا کہ ان مارکیٹوں نے ایس او پیز کی پاسداری نہیں کی تھی جس پر اُنھیں بند کر دیا گیا۔ عدالت نے کمشنر کراچی کو حکم دیا کہ جن مارکیٹوں اور دکانوں کو سیل کیا گیا ہے ان کو دوبارہ کھول دیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو چھوٹے تاجر کورونا کی بجائے بھوک سے مر جائیں گے۔

سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مارکیٹیں کھولنے سے متعلق صوبائی حکومت محکمہ صحت سے مشاورت کرے گی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ محکمہ صحت مارکیٹیں کھولنے کے حوالے سے کوئی غیر ضروری رکاوٹ کھڑی نہیں کرے گا۔

بینچ میں موجود جسٹس مظہر عالم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دوسری مارکیٹیں کھولنے کی اجازت دینا اور شاپنگ مالز کو بند رکھنے کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔

صوبہ پنجاب کے ایڈشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے پیر سے ہی شاپنگ مالز کھول دیے جائیں گے۔

’پاکستان میں کورونا اتنا سنگین نہیں جتنی رقم خرچ کی جا رہی ہے‘

سماعت کے دوران قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے یعنی این ڈی ایم اے کے ممبر نے چیف جسٹس کے استفسار پر عدالت کو بتایا کہ اُنھیں حکومت کی طرف سے 25 ارب روپے کی رقم فراہم کی گئی ہے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ صوبوں کو بھی اربوں روے دیے گئے ہیں اور احساس پروگرام اس سے الگ ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق 500 ارب روپے مریضوں پر خرچ کیے جا رہے ہیں، اس سے تو اب تک کورونا کے جتنے بھی مریض آئے ہیں ان میں ہر مریض پر تو کروڑوں روپے خرچ کیے جا چکے ہوں گے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اتنا پیسہ کہاں خرچ کیا جا رہا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر اتنی رقم لگانے کے بعد بھی 700 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے ہیں تو ہماری کوششوں کا کیا فائدہ؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ پیسہ ایسی جگہ پر چلا گیا ہے جہاں ضرورت مندوں کو نہیں مل سکتا۔

چیف جسٹس نے این ڈی ایم اے کے ممبر سے استفسار کیا کہ کورونا کے ایک مریض پر لاکھوں روپے خرچ کرنے کا کیا جواز ہے جس پر این ڈی ایم اے کے ممبر کا کہنا تھا کہ یہ رقم میڈیکل آلات، کٹس اور قرنطینہ مراکز پر خرچ ہوئی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کورونا پاکستان میں اس لیے نہیں آیا کہ کوئی پاکستان کا پیسہ اٹھا کر لے جائے۔

بینچ میں موجود جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں کورونا پر قابو پانے کے لیے پیسہ سوچ سمجھ کر خرچ نہیں کیا جا رہا۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان میں کورونا اتنا سنگین نہیں جتنی رقم خرچ کی جا رہی ہے۔

عدالت نے سیکریٹری صحت کے بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر سال پولن الرجی سے ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں اور اس کے علاوہ دیگر بیماریوں سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد کورونا سے زیادہ ہے۔

عدالت نے کورونا وائرس پر قابو پانے سے متعلق این ڈی ایم اے کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور این ڈی ایم اے کے ممبر کو چیئرمین سے دوبارہ ہدایات لے کر رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

سماعت کے بعد جاری کیے گئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ حکومت کورونا کے علاوہ دیگر بیماریوں اورملک کو درپیش مسائل پر بھی توجہ دے اور کورونا وائرس کی وجہ سے پورا ملک بند نہ کیا جائے۔