کیا لاہور کے ایکسپو سینٹر فیلڈ ہسپتال میں گندگی مریضوں کے ٹیسٹ مثبت آنے کا سبب بن رہی ہے؟

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو لاہور
  • وقت اشاعت

لاہور کے ایکسپو سینٹر فیلڈ ہسپتال کے غسل خانے میں پانی کھڑا ہے اور یہاں داخل تمام افراد کورونا کے مصدقہ مریض ہیں، اس پانی میں کورونا وائرس کی موجودگی کا امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا نہ ہی وہ جتنی بار غسل خانے میں جاتے ہیں اس سے بچ پاتے ہوں گے۔

تو سوال یہ ہے کہ ایسے میں پھر کیا ان کا ٹیسٹ کبھی منفی آ پائے گا؟ اور کیا ان کا یہ خوف درست ہے کہ وہ کبھی لاہور کے ایکسپو سنٹر فیلڈ ہسپتال سے باہر نہیں نکل پائیں گے؟

یہ خدشات اس فیلڈ ہسپتال میں زیر علاج محمد احمد کے بھی ہیں۔ جو یہاں موجود بہت سے دیگر مریضوں سے مختلف نہیں۔

لاہور کے ایکسپو سنٹر میں رکھے گئے 400 سے زائد کورونا کے مریضوں کی ایک بڑی تعداد نے گذشتہ چند روز سے مسلسل احتجاج کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ مناظر بڑی تعداد میں دیکھنے کو ملے۔

جمعے کے روز احتجاج کے دوران مشتعل مظاہرین نے ایکسپو سنٹر سے باہر نکلنے کی کوشش میں داخلی گیٹ بھی توڑ دیا۔

یاد رہے کہ 1050 بستروں پر مشتمل ایکسپو سنٹر کا یہ فیلڈ ہسپتال محض نو روز کے اندر قائم کر دیا گیا تھا۔

احتجاج کرنے والوں کی شکایات بظاہر معمولی نوعیت کی نظر آتی ہیں جیسا کہ کوڑا نہیں اٹھایا جا رہا، صفائی نہیں کی جاتی، کھانا وقت پر نہیں یا ملتا ہی نہیں، ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود نہیں ہوتے اور ایئر کنڈیشنر نہیں چلتا۔

محمد احمد کو یہ بھی خوف ہے کہ ان کے تین کمسن بچے، اہلیہ اور والدہ کو دوسرے ہسپتال کے جس وارڈ میں رکھا گیا تھا اس میں تمام دن کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے شخص کی لاش پڑی رہی۔

مجھے سے گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ ’اندازہ کریں بچے کتنے ڈر گئے ہوں گے۔ معلوم نہیں اب وہ کس حالت میں ہوں گے۔ آگے ان کے ساتھ معلوم نہیں کیا ہو گا۔‘

ان کی والدہ ذیابیطس کی مریضہ ہیں اور بچے بہت چھوٹے ہیں۔ سب سے بڑے بچے کی عمر پانچ برس ہے۔

ان سمیت ان کے خاندان کے نو افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد انھیں دو مختلف ہسپتالوں میں قرنطینہ میں زیرِ علاج رکھا گیا ہے۔

خواتین میو ہسپتال میں ہیں جبکہ احمد، ان کے والد اور تین بھائی ایکسپو سنٹر میں قائم میں فیلڈ ہسپتال میں ہیں۔ اور یہاں وہ اکیلے نہیں جو خوفزدہ ہیں۔

مریضوں کی بنیادی شکایت کیا ہے؟

ان تمام شکایات کے پیچھے بڑا خوف یہ ہے کہ وہ اس ایکسپو سنٹر فیلڈ ہسپتال سے نکل نہیں پا رہے۔

ایک مریض محمد عرفان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہاں اتنا گند ہے کہ اگر یہاں کوئی پورا سال بھی رک جائے اس کا ٹیسٹ منفی نہیں آنے والا۔‘

جب وہ بات کر رہے تھے تو فون پر پس منظر میں کسی کو چیختے ہوئے سنا جا سکتا تھا۔

محمد عرفان نے بتایا کہ ’حال نمبر ایک کا ایک ائیر کنڈیشنر دو گھنٹے سے نہیں چل رہا۔ یہ مریض چیخ رہے ہیں کہ اسے چلاؤ ورنہ سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔‘

احتجاج کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ زیادہ تر مظاہرین کو ’یہ شکایت تھی کہ یہ صفائی کا نظام درست نہ ہونے کی وجہ سے ان کے ٹیسٹ بار بار منفی آ رہے ہیں۔‘

تاہم کچھ مریض یہ الزام بھی عائد کرتے نظر آئے کہ انتظامیہ دانستاً انھیں بتاتی ہے کہ ان کا ٹیسٹ منفی ہے اور ان کو گھر نہیں جانے دیا جا رہا۔

محمد عرفان کے مطابق ’یہاں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو 25 دن سے ادھر ہی ہیں۔ ان کے دو ٹیسٹ مسلسل منفی نہیں آئے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟‘

'سرکاری ٹیسٹ اور نجی لیبارٹری کے ٹیسٹ میں فرق کیوں ہے؟'

ایک ویڈیو جو سوشل میڈیا ہر سامنے آئی اس میں ایک مریض نے دعوٰی کیا کہ ’جس کا سرکاری طور کیا گیا ٹیسٹ مثبت آتا ہے وہی اگر نجی لیبارٹری کے عملے کو بلا کر ٹیسٹ کروائے تو منفی آ جاتا ہے۔‘ ویڈیو میں انھوں نے نجی لیبارٹری کا عملہ ہسپتال کے باہر موجود بھی دکھایا تھا۔

مگر سوال یہ ہے کہ فیلڈ ہسپتال کی انتظامیہ کیوں چاہے گی کہ وہاں موجود مریض صحت یاب ہو کر گھروں کو نہ جائیں؟ اگر وہ ایسا نہ چاہتی تو مریضوں کو شکایات کیوں ہیں؟

ڈاکٹر اسد اسلم میو ہسپتال لاہور کے سی ای او ہیں اور ایکسپو سنٹر مرکز کا انتظام میو ہسپتال کے پاس ہے۔ لاہور میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کو ہسپتالوں میں منتقل کرنے کی ذمہ داری بھی انہی کے پاس ہے۔

ایکسپو سنٹر کے احتجاج کے بارے میں سوال پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر اسد اسلم نے بتایا کہ ’یہ احتجاج نہیں تھا۔ بنیادی طور پر یہ لوگ گھروں کو جانا چاہتے ہیں۔ مگر ہم کورونا کے مصدقہ مریضوں کو کیسے گھر جانے دیں۔ وہ جا کر مزید افراد میں وائرس پھیلا دیں گے۔‘

کیا واقعی مریضوں کو ٹیسٹ کے نتائج غلط بتائے جا رہے ہیں؟

ڈاکٹر اسد اسلم کے مطابق یہ تاثر درست نہیں ہے کہ ٹیسٹ دانستاً مثبت بتائے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دو مسلسل ٹیسٹ منفی آنا ضروری ہے جس کے بعد مریض کو گھر جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ لیکن ایک ہی مریض کا نجی لیبارٹری سے ٹیسٹ منفی کیسے آ جاتا ہے اگر اس کا پہلا ٹیسٹ مثبت آیا ہو؟

ڈاکٹر اسد اسلم کے مطابق ’ہم ایک دن میں دو منفی ٹیسٹ نہیں مانتے۔ ایک مریض کا ٹیسٹ ایک مرتبہ منفی آنے کے کم از کم دو روز بعد پھر سے منفی آئے تو اس کو کورونا سے پاک مانا جائے گا۔‘

اگر ایسا نہیں ہوتا یعنی کسی مریض کا ٹیسٹ 14 روز قرنظینہ میں گزارنے کے بعد ایک مرتبہ منفی آئے لیکن دوسری مرتبہ مثبت آ جائے تو اسے پانچ دن مزید قرنظینہ میں گزارنے ہوں گے۔ اس کے بعد پھر دو ٹیسٹ مسلسل منفی آنا ضروری ہوں گے۔

ڈاکٹر اسد اسلم کے مطابق ایکسپو سنٹر سے 199 مریض صحت یاب ہو کر گھروں کو جا چکے ہیں جبکہ 430 لوگ فی الوقت یہاں زیرِ علاج ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں مریضوں کو اپنے خرچ پر نجی لیبارٹری سے ٹیسٹ کروانے کی اجازت دی گئی لیکن اب ختم کر دی گئی ہے۔

تو کیا گندگی مریضوں کے مثبت ٹیسٹ آنے کا سبب ہے؟

ایکسپو سنٹر سے جو ویڈیوز اور تصاویر باہر آئی ہیں ان میں دیکھا جا سکتا ہے کہ غسل خانے کے فرش پر پانی تیر رہا ہے اور مریض اسی میں چل کر ہاتھ دھونے کی جگہ اور لیٹرین تک جا رہے ہیں۔

کچھ کو اسی میں کھڑے ہو کر ہاتھ، منہ حتیٰ کہ پاؤں دھوتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ مریض محمد احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں غسل خانے جانے کے بعد ’ہر مرتبہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ کورونا میرے سارے جسم کے ساتھ چپک گیا ہے۔‘

انھیں ڈر ہے کہ اگر یوں ہی رہا تو ’یہاں تو کوئی بھی کبھی بھی کورونا سے پاک نہیں ہو پائے گا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی میں خود کو کیسے بچاؤں۔‘

ڈاکٹر اسد اسلم کا کہنا ہے کہ ’صفائی کا نظام مؤثر طریقے سے کام کر رہا ہے لیکن کوڑا اٹھانے سے پہلے باہر ہی اکٹھا کیا جائے گا اب اس وقت کوئی اس کی تصویر بنا لے تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ فیلڈ ہسپتال ایک ایکسپو سنٹر میں قائم کیا گیا ہے تو فرش پر قالین ویسے نہیں بچھائے جا سکتے اور اس کا فرش اس نوعیت کا ہے کہ اسے دھویا نہیں جا سکتا۔ 'لیکن اس کو جراثیم سے پاک اور صاف ضرور کیا جاتا ہے۔‘

کیا ڈاکٹر اور طبی عملہ موجود نہیں؟

ایکسپو سینٹر میں موجود مریض محمد عرفان کے مطابق رات کے وقت میں مناسب تعداد میں ڈاکٹرز فیلڈ ہسپتال میں موجود نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے احتجاج کے بعد اب یہاں ڈاکٹرز نظر آ رہے ہیں۔‘

تاہم میو ہسپتال کے سی ای او ڈاکٹر اسد اسلم کے مطابق سنٹر پر ہر وقت مناسب تعداد میں ڈاکٹرز موجود ہوتے ہیں۔

’ہم نے فیلڈ ہسپتال کے لیے نئے ڈاکٹروں کی بھرتی کی ہے جو مختلف اوقات میں ہر وقت موجود ہوتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں تین ہالز ہیں۔ ہر ہال میں 300 سے زائد مریضوں کی گنجائش ہے۔ ہر 30 بستروں کے لیے 84 ڈاکٹرز کی ضرورت ہوتی ہے جو چھ گھنٹے کی شفٹ میں کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مریض جن میں شدید علامات ظاہر ہوں انھیں فوری طور میو ہسپتال منتقل کر دیا جاتا ہے۔

’اس فیلڈ ہسپتال میں زیادہ تر ایسے مریض میں جن میں علامات یا تو نہیں ہیں یا معمولی نوعیت کی ہیں۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان مریضوں کے جب تک کورونا سے پاک ہونے کی تصدیق نہیں ہو جاتی انھیں گھر جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ورنہ ’یہ مریض چار سو سے زیادہ خاندانوں کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔‘