آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کورونا وائرس: مختلف ممالک شہریوں کو ’اپریل فولز ڈے‘ منانے سے کیوں روک رہے ہیں؟
بدھ کو دنیا بھر میں اپریل فولز ڈے منایا گیا اور منایا جا رہا ہے لیکن جرمنی، تھائی لینڈ اور انڈیا کے حکام نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ سوشل میڈیا پر کورونا وائرس سے متعلق کوئی مذاق نہ کریں۔
یکم اپریل کو منائے جانے والے اپریل فولز ڈے پر عموماً لوگ ایک دوسرے کو بیوقوف بنانے کے لیے مذاق کرتے ہیں۔ لیکن ایک ایسے وقت میں جب دنیا کے بیشتر ممالک کورونا وائرس کی وبا کا شکار ہیں، دنیا کے مختلف مملک نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر انھوں نے اپریل فولز ڈے کے مذاق کے نام پر کورونا سے متعلق کوئی غلط معلومات یا خبر سوشل میڈیا پر شیئر کی تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
انڈیا کی ریاست مہاراشٹر کے وزیر داخلہ انیل دیشمک نے ٹوئٹر پر جاری کیے گئے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’جو کوئی بھی سوشل میڈیا پر غلط افواہیں یا خبریں پھیلائے گا اس کے خلاف سائبر کرائم قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔‘
اسی طرح تھائی لینڈ کی حکومت کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں شہریوں کو یہ کہا گیا کہ ’یہ کہنا کہ آپ کو کورونا ہے جبکہ ایسا نہ ہو، ملک کے قانون کے خلاف ہے۔‘ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’دنیا بھر میں لوگ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث مشکلات کا شکار ہیں، اس لیے یہ وجہ کافی ہے کہ لوگوں کو دوسروں کا خیال کرنا چاہیے اور اس سے متعلق مذاق نہیں کرنا چاہیے۔‘
جبکہ جرمنی کے وزیر صحت کا کہنا ہے کہ ’کورونا کوئی مذاق نہیں ہے۔‘
اسی طرح گوگل نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اس سال اپریل فولز ڈے پر اپنے صارفین کے ساتھ کسی قسم کا مذاق نہیں کرے گا۔ ہر سال یکم اپریل کو انٹرنیٹ صارفین کو محظوظ کرنے کے لیے گوگل ایک منفرد فیچر متعارف کروانے کا اعلان کرتا ہے، جو کہ درست نہیں ہوتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گوگل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اگلے سال ہم اس روایت کو دوبارہ زندہ کریں گے جب دنیا اب سے زیادہ روشن ہو گی۔‘
کورونا کے بارے میں مذاق کیوں نہ کریں؟
میڈیا میٹرز فار ڈیماکریسی (ایم ایم ایف ڈی) کی بانی صدف خان نے بی بی سی کی سارہ عتیق سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کے دور میں معلومات اور خبروں کی فراوانی ہے اور لوگ بہت جلد غلط خبروں پر یقین کر لیتے ہیں۔
کورونا وائرس کی وبا کے پھیلنے کے بعد سے حکومتوں اور صحت کے ماہرین کو ایک بڑا چیلنج اس وبا کے حوالے سے غلط معلومات اور افواہوں سے نمٹنا ہے۔ اس صورت حال میں اپریل فولز ڈے پر مذاق کے نام پر لوگ ایسی معلومات شیئر کر سکتے ہیں جو ان کے لیے تو مذاق ہو لیکن شاید دوسرے اسے سچ سمجھ لیں جس سے افراتفری بھی پھیل سکتی ہے۔
لیکن صدف کا کہنا ہے کہ ’حکومتوں کی جانب سے لوگوں کو یہ بتانا کہ وہ کس بارے میں مذاق کریں اور کس بارے میں نہیں، انفرادی آزادی کے تصور کے خلاف ہے۔ اس کے خلاف سخت سزاؤں کے بجائے حکومتوں کو چاہیے کہ وہ لوگوں میں یہ آگاہی پیدا کریں کہ وہ ان تک پہنچنے والی خبروں پر آنکھیں بند کر کے یقین کرنے کے بجائے اس خبر کے ذرائع کی تصدیق کریں اور صرف مصدقہ معلومات ہی پر یقین کریں اور ان کو آگے شیئر کریں۔‘
صدف کا کہنا ہے کہ یہ اچھی بات ہے کہ پاکستان کی حکومت کی جانب سے اس دن سے متعلق ایسے سخت اقدامات نہیں اٹھائے گئے جیسا کہ چند دیگر ممالک نے اٹھائے ہیں لیکن پھر بھی لوگوں کو اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے صرف تصدیق شدہ خبریں اور معلومات ہی شیئر کریں۔