آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’ٹیوب ویل میں نہانے پر تشدد‘ کا نشانہ بننے والا مسیحی نوجوان ہلاک
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
پنجاب کے ضلع قصور کی تحصیل چونیاں میں 25 فروری کو تشدد کے نتیجے میں زخمی ہونے والا انیس سالہ مسیحی نوجوان سلیم مسیح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
سلیم مسیح کے بڑے بھائی ندیم مسیح کا دعویٰ ہے کہ جب ان کے بھائی شدید زخمی تھے تو انھوں نے بتایا تھا کہ ان پر تشدد ٹیوب ویل میں نہانے کی وجہ سے کیا گیا۔
ندیم مسیح کے مطابق سلیم مسیح نے انھیں بتایا کہ وہ پہلے بھی اس ٹیوب ویل پر نہائے تھے جس پر وہاں موجود لوگوں نے انھیں منع کیا تھا اور کہا تھا کہ انھیں ٹیوب ویل میں نہانے کی اجازت نہیں۔
ندیم مسیح کے مطابق 25 فروری کو جب ان کے بھائی دوبارہ اس مقام پر نہانے گئے تو وہ تمام لوگ اکھٹے ہو گئے اور سلیم کو بے رحمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صوبہ پنجاب کے انسانی حقوق اور اقلیتی امور کے وزیر اعجاز مسیح نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ سلیم مسیح کے جنازے میں شریک ہوئے تھے۔ جہاں مسیحی برادری نے ان کو بتایا کہ واقعہ ٹیوب ویل میں نہانے کی وجہ سے پیش آیا۔
انھوں نے کہا ’لیکن یہ ایک طرف کا مؤقف ہے جبکہ دوسری طرف کا مؤقف ابھی سامنے نہیں آیا ہے، جس کے لیے ابھی تفتیش ہو رہی ہے۔ فرائض میں غفلت برتنے پر مقامی ایس ایچ او کو معطل جبکہ دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔‘
ڈی ایس پی چونیاں شمس الحق درانی کے مطابق واقعے میں ملوث کچھ ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ دیگر کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ واقعے کی تفتیش ہورہی ہے، جس وجہ سے اس وقت اس پر مزید بات نہیں کی جا سکتی ہے۔
پولیس تھانہ الہ آباد میں سلیم مسیح کے والد عفور مسیح کی درخواست پر زخمی ہونے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ سلیم مسیح رفع حاجت کے لیے کھیتوں میں گئے تھے جہاں پر ان کو باندھ کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
پولیس کے مطابق سلیم مسیح کے ہلاک ہو جانے کے بعد اب قتل کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔
سلیم مسیح کے بڑے بھائی ندیم مسیح نے بتایا کہ وہ سات بھائی تھے، جن میں سے سلیم مسیح سمیت دو وفات پا چکے ہیں جبکہ ان کی ایک بہن بھی ہے۔
یہ خاندان بگھیانہ خورد کے علاقے کا رہائشی ہے۔ ندیم مسیح نے بتایا کہ سب بھائی ٹرکوں پر لوڈنگ اور ان لوڈنگ کا کام کرتے ہیں اور سلیم مسیح بھی یہی کام کرتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ جس دن یہ واقعہ پیش آیا وہ خود مزدوری پر تھے لیکن ان کے والد عفور مسیح موقع پر پہنچ گئے تھے، جو سلیم مسیح کو لے کر مقامی ہسپتال گئے اور پولیس کو بھی اطلاع دی۔
انھوں نے بتایا کہ پولیس نے موقع سے کچھ لوگوں کو گرفتار بھی کر لیا تھا مگر بعد میں انھیں چھوڑ دیا گیا۔
ندیم مسیح کے مطابق مقامی ہسپتال میں سلیم مسیح کا معمولی علاج کیا گیا جبکہ وہ شدید زخمی تھے۔ بعد میں انھیں قصور کے ڈسڑکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لے جایا گیا جہاں پر ڈاکٹروں نے انھیں فوراً جنرل ہسپتال لاہور ریفر کر دیا۔
ندیم مسیح کے مطابق ایک دن تو جنرل ہسپتال لاہور میں سلیم مسیح کو بیڈ ہی نہیں ملا اور جب دوسرے دن ڈاکٹروں نے دیکھا تو فوراً آپریشن کا کہا۔
’ڈاکٹر نے جب آپریشن کیا تو بتایا کہ ان کے پیٹ پر کوئی وزنی چیز رکھی گئی ہے، جس وجہ سے ان کے گردے فیل ہو چکے ہیں۔ اسی طرح ان کے جسم کے مختلف اعضا بھی شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھے۔ آپریشن تو کر دیا گیا مگر اسی رات وہ دم توڑ گیا۔‘