گل مرجان خان کا لوکل سرٹیفیکیٹ منسوِخ: ’پی ٹی ایم کے جلسے کے انعقاد پر یہ انتقامی کارروائی ہے‘

سردار گل مرجان کبزئی

،تصویر کا ذریعہGul Marjan

،تصویر کا کیپشنگل مرجان کا کہنا تھا کہ لورالائی انتظامیہ کے نزدیک شاید ان کا دوسرا قصور یہ ہوسکتا ہے کہ ان کے گھر پر ’جلسے میں شرکت کے لیے جو مہمان آئے تھے ان کی غیر آئینی اور غیر قانونی گرفتاری ممکن نہیں ہوئی‘
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
  • وقت اشاعت

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع لورالائی میں حکام نے ایک قبائلی و سیاسی رہنما پر حکومت اور قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کے لیے باغیانہ الفاظ کے استعمال اور عوام کو اکسانے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کا لوکل سرٹیفیکیٹ اور انھیں جاری کیے گئے اسلحے کے لائسنس منسوخ کر دیے ہیں۔

لورالائی سے تعلق رکھنے والے گل مرجان خان کے نام ڈپٹی کمشنر لورالائی کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’آپ ایک سرکاری ملازم رہے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد پینشن لے رہے ہیں اور ایک سرکاری نوکر ہوتے ہوئے آپ نے نہ صرف مملکت پاکستان اور ملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف باغیانہ اور نازیبا الفاظ استعمال کیے بلکہ عوام کو اکسانے کی کوشش کی۔‘

اشتہار میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ گل مرجان خان نے مبینہ طور پر ایسا کب کیا جبکہ گل مرجان نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا اور ان کے خلاف یہ ’انتقامی کارروائی پشتون تحفظ موومنٹ کا جلسہ منعقد کروانے اور اپنے گھر میں قیام پذیر جلسے کے شرکا کی گرفتاری کی کوشش کو ناکام بنانے کی وجہ سے کی جا رہی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

ڈپٹی کمشنر لورالائی کی جانب سے مقامی اخبارات میں جو اشتہار شائع ہوا ہے اس میں سردار گل مرجان پر بغاوت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اشتہار میں انہیں مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’آپ نے اس سے قبل پولیس چھاپے کے دوران وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے ممنوعہ بور کے اسلحہ استعمال کرنے کی کوشش کی جس کا مقدمہ بھی درج کیا جا چکا ہے۔‘

ڈپٹی کمشنر نے ان الزامات کی بنیاد پر ان کے علاوہ ان کے خاندان کو بھی لورالائی سے جاری ہونے والے لوکل سرٹیفیکیٹس کو منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اشتہار میں سیٹیزن شپ ایکٹ 1952 کے تحت دھوکہ دہی اور دروغ گوئی کی بنیاد پر قانونی کارروائی کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

لوکل سرٹیفیکیٹ کیا ہے؟

لوکل سرٹیفیکیٹ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کسی فرد کو جاری کی جانے والی وہ دستاویز ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ فرد اس ضلعے کا مستقل رہائشی ہے۔

بلوچستان میں مقیم شہریوں کو کسی بھی ضلعے میں سکونت کی تصدیق کے حوالے سے دو طرح کے سرٹیفیکیٹس جاری کیے جاتے ہیں جن میں لوکل سرٹیفیکیٹ اور ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ شامل ہیں۔

اشتہار کا عکس

یہ دونوں سرٹیفیکیٹس کسی بھی ضلع کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کیے جاتے ہیں۔

لوکل سرٹیفیکیٹ کسی بھی ضلع میں مقیم وہاں کے پشتون اور بلوچ قبائل سمیت دیگر قبائل سے تعلق رکھنے والے مقامی افراد کو جاری کیے جاتے ہیں۔

بلوچستان کے مختلف اضلاع یا صوبائی سطح پر ملازمتیں، پیشہ ورانہ تعلیم کی نشستیں، وفاقی ملازمتوں میں بلوچستان کے کوٹے پر ملازمتیں اور دیگر سرکاری مراعات اسی سرٹیفیکیٹ کی بنیاد پر ملتی ہیں۔

سردار گل مرجان خان کون ہیں؟

سردار گل مرجان خان لورالائی کے ایک قبائلی اور سیاسی رہنما ہیں۔ ان کا تعلق کاکڑ قبیلے کے ذیلی شاخ کبزئی سے ہے جس سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر لوگ ضلع ژوب میں آباد ہیں۔

سردار گل مرجان خود اپنے خاندان اور قبیلے کے افراد کے ہمراہ لورالائی میں رہائش پذیر ہیں۔

ان کے خلاف ڈپٹی کمشنر کی جانب سے اس کارروائی کے علاوہ تین فروری کو لورالائی میں ایک بڑے جلسے کے انعقاد اور اس میں تقریر کرنے پر بھی مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

یہ جلسہ عام ممتاز دانشور اور شاعر پروفیسر ارمان لونی کی پہلی برسی کی مناسبت سے پشتون تحفظ موومنٹ کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا تھا۔

ارمان لونی گزشتہ سال اس وقت ہلاک ہوئے تھے جب پولیس نے لورالائی شہر میں شدت پسندی کے واقعات کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرے کے بعد ان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی۔

ارمان لونی کے رشتہ داروں اور پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماﺅں نے یہ الزام عائد کیا تھا ان کی ہلاکت پولیس تشدد سے ہوئی لیکن لورالائی پولیس نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔

ارمان لونی

،تصویر کا ذریعہFaceBook

،تصویر کا کیپشنگل مرجان نے جلسہ عام ممتاز دانشور اور شاعر پروفیسر ارمان لونی کی پہلی برسی کی مناسبت سے منعقد کروایا تھا

سردار گل مرجان کبزئی کا موقف کیا ہے؟

سردار گل مرجان نے رابطہ کرنے پر بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے سوائے اس کے کہ ایک جلسہ عام منعقد کروایا جو کہ ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا اور نہ ہی آئندہ کریں گے۔

سردار گل مرجان کا کہنا تھا کہ لورالائی انتظامیہ کے نزدیک شاید ان کا دوسرا قصور یہ ہوسکتا ہے کہ ان کے ’گھر پر جلسے میں شرکت کے لیے جو مہمان آئے تھے ان کی غیر آئینی اور غیر قانونی گرفتاری ممکن نہیں ہوئی۔‘

انھوں نے بتایا کہ ان مہمانوں کی گرفتاری کے لیے سکیورٹی فورسز کی نفری ان کے گھر آئی تھی اور جب رات 12بجے کے بعد دروازے پر دستک ہوئی تو وہ دروازے پر گئے اور ان کے استفسار پر بتایا گیا کہ وہ پولیس والے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دروازہ کھولنے پر انھوں نے دیکھا کہ گھر کے باہر ایس ایچ او کے ساتھ تین چار پولیس اہلکار ہیں لیکن ان سے کچھ فاصلے پر نقاب کیے لوگوں کی ایک بڑی تعداد تھی۔ ان کے استفسار پر ایس ایچ او نے بتایا تھا کہ ’یہ ایجنسیوں کے لوگ ہیں۔‘

سردار گل مرجان کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او نے بتایا کہ ’وہ گھر پر ٹھہرے مہمانوں کو گرفتار کرنے آئے ہیں لیکن میرے پوچھنے پر کہ ان کی گرفتاری کا کوئی وارنٹ ہے انھوں نے کہا کوئی وارنٹ نہیں بس آپ انھیں حوالے کریں۔‘

سردار گل مرجان کے مطابق اسی تکرار کے دوران محلے کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوئی اور ان کی جانب سے نعرے بازی کی گئی جس کے بعد پولیس کے علاوہ دیگر اہلکار چلے گئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ایک جلسہ عام میں شرکت کرنے پر دہشت گردی کے الزامات اور ان کے خلاف ایسی کارروائی افسوناک ہے۔

حکومتی اقدام کی مذمت

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی جانب سے ڈپٹی کمشنر لورالائی کی جانب سے سردار گل مرجان کبزئی کے خلاف اشتہار شائع کرنے کی مذمت کی گئی ہے۔

پارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ملزم کو دفاع کا حق حاصل ہے اور سردار گل مرجان نے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کیا ہوا ہے۔

بیان کے مطابق ’آئین کے تحت بنیادی انسانی حقوق میں انھیں تحریر و تقریر، اجتماع ، اظہارِ رائے اور حکومت وقت پر تنقید و دیگر بنیادی انسانی حقوق حاصل ہیں اور اسی طرح پشتون روایات کے تحت چادر و چاردیواری اور مہمانوں کو تحفظ دینے کا حق بھی حاصل ہے۔‘

آئینی ماہرین اور ہیومن رائٹس کمیشن کا کیا کہنا ہے

آئینی اور قانونی ماہر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر سردار گل مرجان خان نے آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کسی سیاسی سرگرمی میں شرکت کی ہے تو انھوں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر کسی سیاسی سرگرمی کی بنیاد پر ان کے خلاف یہ اشتہار جاری کیا گیا ہے یا ان کے لوکل سرٹیفیکیٹ اور اپنے تحفظ کے لیے حاصل کردہ اسلحے کے لائسنس منسوخ کیے گئے ہیں تو اس کا کوئی جواز نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دوران ملازمت کسی پر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر بعض پابندیاں تو ہیں لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد کسی پر بھی آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر سیاست کرنے اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان بلوچستان چیپٹر کے سربراہ حبیب طاہر ایڈووکیٹ کا بھی کہنا تھا کہ ’سیاست کرنا اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس حق کو آئین پاکستان میں تحفظ بھی حاصل ہے اس لیے اگر کوئی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتا ہے تو ان کے خلاف صرف اس بنیاد پر ایسی کوئی کارروائی کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں بنتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اشتہار میں ان کی شہریت کے حوالے سے جو بات کی گئی ہے وہ بھی حیران کن ہے۔