#RagraVsTagra: انڈیا میں ’شیئر دا لوڈ‘ تو پاکستان میں ’رگڑا‘ عورت ہی کیوں لگائے؟

    • مصنف, کومل فاروق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 4 منٹ

ٹی وی ہو یا سوشل میڈیا، پاکستان کے زیادہ تر اشتہاروں میں خواتین گھر کے کام کاج کرتی نظر آئیں گی۔ ایسے اشتہارات دیکھ کر ذہن میں یہ خیال ضرور آتا ہے کہ صفائی ستھرائی کے اشتہاروں میں مرد کام کرتے کیوں نظر نہیں آتے؟ جو اِکا دُکا مرد نظر آتے ہیں وہ بھی اکثر گھر کے کام نہیں کر رہے ہوتے۔

حال ہی میں پاکستان کے معروف سابق فاسٹ بولر وسیم اکرم بھی ایسے ہی ایک اشتہار میں نظر آئے۔ کپڑے دھونے والے سرف کے اس اشتہار کے آغاز میں وسیم اکرم کہتے ہیں ’بیسٹ (بہترین) بننے کے لیے کھلاڑی لگاتے ہیں میدان میں رگڑا اور مائیں لگاتی ہیں ان کے کالر پہ رگڑا۔‘

اس اشتہار کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ایک بحث چھڑ گئی کہ اگر انڈیا میں سرف کے اشتہار میں مرد خواتین کا ہاتھ بٹاتے نظر آتے ہیں تو پاکستانی اشتہارات میں ایسا کچھ کیوں نہیں دکھایا جاتا۔

ٹوئٹر پر سماجی کارکن نگہت داد نے لکھا ’ایریئل اپنے #RagraVsNewArielTagra اشتہار کو فروغ دے رہا ہے اور وسیم اکرم کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ پاکستان میں کپڑے دھونا یقیناً ماؤں اور عورتوں کی ذمہ داری ہے۔ اسی ایریئل نے انڈیا میں سنہ 2015 میں #ShareTheLoad مہم چلائی اور گھر میں برابری کی شروعات کی۔‘

یہ بھی پڑھیے

اس کے جواب میں شیری رحمان نے ٹویٹ کیا ’جی! اسے بدلنے کی ضرورت ہے۔ مجھے یاد ہے میں نے اشتہار دیکھ کر اس کی تردید کی۔ کھل کر کہوں تو یہ ناگوار بات ہے کہ ایک آدمی عورتوں کو نصیحت کر رہا ہے کہ کپڑے کیسے دھونے چاہییں، جیسے یہ صرف ان کی ذمہ داری ہے۔‘

صفائی کی مصنوعات کے اشتہارات میں مردوں کی غیر موجودگی کی کیا وجہ ہے، ہم نے یہ سوال ایڈورٹائیزنگ اور مارکیٹنگ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد سے کیا۔

اشتہاروں میں مردوں کی غیرموجودگی کیوں؟

اس بارے میں ایڈورٹائیزر لبینہ راج بھائی کہتی ہیں کہ ’تشہیری ایجنسیاں کچھ بدلنے کے بجائے صرف وہ دکھانا چاہتی ہیں جو معاشرے میں پہلے سے ہی موجود ہوتا ہے کیونکہ ان کو ڈر ہے کہ چیز نہیں بکے گی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’کمپنیاں کہتی ہیں کہ اگر آپ وہ نہیں دیں گے جو ہمیں چاہیے تو ہم دوسری ایجنسی کے پاس چلے جائیں گے۔‘

لبینہ کا خیال ہے کہ ’اس کی ایک اور بڑی وجہ یہ ہے کہ بہت کم عورتوں کو آئیڈیا دینے کا موقع ملتا ہے۔ ہر وقت مرد ہی آئیڈیا دیتے ہیں۔ ان کے دماغ میں یہی بیٹھا ہوا ہوتا ہے کہ ہماری بیویاں اور مائیں یہی کرتی ہیں تو یہی سچ ہے۔‘

روایتی صنفی ذمہ داریوں کو چیلنج کیوں نہیں کیا جا رہا؟

اشتہار کا آئیڈیا دینے کے حوالے سے ایجنسیوں کو ملنے والی تخلیقی آزادی کے بارے میں لبینہ راج بھائی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں اشتہار بنوانے والی کمپنی کہتی ہے ہم پیسے دے رہے ہیں تو ہم جو چاہ رہے ہیں وہی ہونا چاہیے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ بہت کم کیس ایسے ملیں گے جس میں کمپنی قائل ہو جائے اور کہے کہ ایک تخلیقی آئیڈیا پر کام شروع کیا جائے۔ اسی لیے آپ کو زیادہ تر پاکستانی اشتہار ایک جیسے ہی لگیں گے کیونکہ اشتہار بنوانے والے کی ذہنیت نہیں بدل رہی۔

’آپ ٹی وی پر ڈرامے یا اشتہار دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ وہ ایک مخصوص قسم کی ذہنیت کے حامل افراد کے لیے بنائے جاتے ہیں جو بکتا ہے۔‘

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک مارکیٹگ ماہر کا کہنا تھا کہ ’اگر اشتہار میں بچوں کو آئسکریم کھاتے دکھایا جائے تو اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ آئسکریم صرف بچوں کے کے لیے ہیں۔ اسے کوئی بھی کھا سکتا ہے۔‘

انڈیا میں شیئر دا لوڈ تو پاکستان میں ’رگڑا‘ عورت لگائے

انڈیا اور پاکستان کے صارفین کی مشترک اقدار ہونے کے باوجود اشتہاروں میں فرق کے بارے میں ایڈورٹائیزر تہمینہ فاطمہ مرزا کہتی ہیں ’حالانکہ دونوں ممالک کی اقدار مماثلت رکھتی ہیں، انڈیا کے برانڈ سوچ کے اعتبار سے زیادہ ترقی پسند ہیں اور ذہنیت بدلنے کی کوشش میں زیادہ آواز بلند کرتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ہم نے کافی برانڈز کو آئیڈیا دیا ہے کہ روایتی صنفی ذمہ داریاں الٹ گئی ہیں اور مرد اب گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہیں لیکن برانڈ خاص تبدیلی نہیں لانا چاہتے۔‘

’کمپنیوں کو لگتا ہے کہ ان کے گاہک مرد کو کچن میں دیکھ کر بے چین ہو جائیں گے۔ ان کو ڈر ہے کہ یہ دکھا کر وہ اپنے صارفین کھو دیں گے کہ عورتیں گھر کے کام کرنے کے علاوہ اور بہت کچھ کر سکتی ہیں۔‘

پاکستانی کمپنیوں کے ’رسک‘ نہ لینے کے حوالے سے مارکیٹنگ ماہر کا کہنا تھا کہ ’کچھ نیا کرنا ہمیشہ کمپنیوں کے حق میں ہوتا ہے۔

’ایسی چیزیں انھیں ہجوم سے الگ ہونے کا موقع دیتی ہے۔ لیکن یہ صرف تب ہوتا ہے جب معاشرے کے کسی حصے میں اس کی ضرورت ہو۔‘

’اگر صارف عورت ہے تو وہ ترجیح دیں گی کہ ایک عورت ہی اس سے بات کرے۔‘

تو تبدیلی کیسے آ سکتی ہے؟

اس بارے میں لبینہ کہتی ہیں کہ ’آدمی آئیڈیا دیتے اور منظور کرتے ہیں، عورت بیچ میں ہی نہیں آتی اور بات ہمیشہ عورت کی ہی ہو رہی ہوتی ہے۔‘

انھوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خواتین کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تاکہ تخلیقی سوچ کو فروغ دیا جاسکے۔

’ہمارے معاشرے کے ہر طبقے میں مرد طے کرتا ہے کہ عورت کو کیا چاہیے تو عورتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ آئیڈیا منظور کرنے کے عمل میں زیادہ حصہ لے سکیں۔‘