مولانا فضل الرحمان کے احتجاجی مارچ کا آغاز

وقت اشاعت

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا مولانا فضل الرحمان کا ’آزادی‘ مارچ تصاویر میں

آزادی مارچ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف جمعیت علمائے اسلام کے احتجاجی مارچ کا آغاز صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی سے ہوا جو بذریعہ سڑک سفر کرتا ہوا پنجاب اور اسلام آباد میں داخل ہو گا۔
آزادی مارچ
،تصویر کا کیپشنکراچی سے اتوار کو پشتون آبادی کے اکثریتی علاقے سہراب گوٹھ سے یہ کارواں مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں روانہ ہوا جو سپر ہائی وے سے ہوتا ہوا حیدر آباد پہنچے گا جہاں سے مزید قافلے اس میں شامل ہوں گے۔
آزادی مارچ
،تصویر کا کیپشنیہ قافلہ نیشنل ہائی وے پر مٹیاری، نواب شاہ، نوشہرو فیروز اور خیرپور سے ہوتا ہوا سکھر پہنچے گا جہاں رات کو قیام ہو گا اور اگلے دن یعنی پیر 28 اکتوبر کو پنوں عاقل اور گھوٹکی سے ہوتا ہوا کموں شہید سے پنجاب کی حدود میں داخل ہو گا۔
آزادی مارچ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنجمعیت علمائے اسلام کے صوبائی سیکریٹری جنرل راشد سومرو کا کہنا ہے کہ ان کا 100 فیصد انحصار اپنے کارکنوں پر ہے۔
آزادی مارچ
،تصویر کا کیپشناس سے پہلے سنیچر کو حکومت کی مذاکراتی ٹیم اور رہبر کمیٹی کے درمیان مارچ کے حوالے سے ایک معاہدہ طے پایا تھا۔
آزادی مارچ
،تصویر کا کیپشنوفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے سنیچر کی رات اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاہدے کے تحت اپوزیشن اسلام آباد کے ایچ نائن گراؤنڈ میں جلسہ کرے گی اور ڈی چوک یا بلیو ایئریا کی طرف نہیں آئے گی۔
آزادی مارچ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام اور دیگر اپوزیشن جماعتیں آئین کے دائرے میں رہ کر اپنا احتجاج کریں گی جبکہ حکومت آزادی مارچ کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی اور تمام راستے کھلے ہوں گے۔
آزادی مارچ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنپرویز خٹک کے مطابق انھیں یقین ہے کہ جمعیت علمائے اسلام اور ان کے ساتھی آئین اور قانوں کے دائرے میں رہ کر احتجاج کریں گے اور سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کریں گے۔
آزادی مارچ

،تصویر کا ذریعہAFP/ Getty

،تصویر کا کیپشنپرویز خٹک نے کہا تھا کہ اپوزیشن کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ ریڈ زون میں نہیں جائیں گے اور احتجاج پر امن ہو گا۔
آزادی مارچ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناس سے قبل حکومت اور اپوزیشن کے درمیان آزادی مارچ کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔ حکومت نے عدالتی فیصلوں کے مطابق پریڈ گراؤنڈ کے علاوہ کسی بھی جگہ پر آزادی مارچ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا اور اسلام آباد کی مختلف شاہراہوں پر سٹرک کنارے کنٹینر پہنچا دیے تھے۔