پاکستان: سپریم کورٹ کا اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے خصوصی بینچ بنانے کا فیصلہ

    • مصنف, سحر بلوچ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان کی سپریم کورٹ نے اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات کے پیشِ نظر سنہ 2014 میں دیے گئے اپنے ایک حکم کو برقرار رکھتے ہوئے ایک خصوصی بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح کا بینچ بنانے کا فیصلہ سپریم کورٹ نے اقلیتی برادری سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت کے دوران دیا تھا۔

اسی حوالے سے جسٹس عمر عطا بندیال نے چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ سے بینچ تشکیل کرنے کے بارے میں مشاورت کی درخواست کی ہے۔

پاکستان کی اقلیتی جماعتیں اور ان کے ترجمان خصوصی بینچ کی تشکیل کو خوش آئند قرار دیتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ ان سماعتوں کے دورانیے اور ان کے کسی خاص نتائج تک نہ پہنچنے کے بارے میں شکایت بھی کرتے ہیں۔

دوسری طرف قانونی ماہرین یہ کہتے ہیں کہ ان سماعتوں کے درمیان وقفے کی وجہ نظام کے مسائل ہیں جس کے وجہ سے مضبوط فیصلے بھی دیر کا شکار ہو جاتے ہیں۔

یہ بینچ کیوں بنایا گیا ہے؟

اس خصوصی بینچ کا کام اقلیتی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف بڑھتے ہوئے واقعات کا نوٹس لینے کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت سے جواب طلبی بھی ہو گا جس کے نتیجے میں ہر ماہ وفاقی حکومت خصوصی بینچ کے تحت ہونے والی سماعت کے دوران رپورٹ پیش کرے گی۔

یہ خصوصی بینچ کیا کرے گا؟

ستمبر سنہ 2013 میں پشاور کے آل سینٹس چرچ میں دو دھماکوں کے نتیجے میں مسیحی برادری کے 81 افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد اس وقت کے چیف جسٹس، جسٹس تصدق حسین جیلانی نے جون سنہ 2014 میں از خود نوٹس لیتے ہوئے 32 صفحات پر مشتمل حکم جاری کرتے ہوئے ایک خصوصی بینچ تشکیل کرنے کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی حکم میں وفاقی حکومت کو پابند کیا تھا کہ وہ ایک سپیشل ٹاسک فورس تشکیل دے جس کا کام سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر پاکستان کی مختلف اقلیتوں کے بارے میں توہین آمیز باتوں کی روک تھام کے علاوہ ملزمان کے خلاف قانونی کاروائی کرے۔

اس حکم میں سپیشل پولیس فورس کے نفاذ پر بھی بات کی گئی جس کا مقصد اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی عبادت گاہوں کی حفاظت کرنا ہے۔

اس کے علاوہ اقلیتوں کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے قومی کونسل تشکیل کرنے کا حکم بھی دیا گیا جس کا کام صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کے لیے تجاویز پیش کرنا ہو گا۔

ساتھ ہی سکول اور کالجوں کے نصاب میں مذہبی ہم آہنگی بڑھانے کے لیے ایسی تمام نفرت انگیز باتوں کو نکالنے کا بھی حکم دیا جس سے اقلیتوں کی دل آزاری ہو۔

اب تک کی سماعتوں میں کیا ہوا؟

اسی فیصلے کے نتیجے میں کئی سماعتیں ہوئیں جن میں مندر اور گردواروں پر غیر قانونی قبضوں سے متعلق مقدمات بھی شامل ہیں لیکن یہ سماعتیں انھیں معاملات تک محدود رہی ہیں۔

ان سماعتوں میں لاہور کتھیڈرل کے ڈین اور پادری شاہد معراج بھی متواتر جاتے رہے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے سربراہان نے 16 نکات تیار کیے تھے جن کو ان سماعت کے دوران پیش کیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا ’پانچ ماہ تک یہ تمام سماعتیں ہوئیں جن میں اقلیتی جماعتوں کو بھی بلایا جاتا تھا۔ میں ہر ماہ ہونے والی سماعت میں گیا۔ اس وقت بھی ہم نے یہی کہا تھا کہ فیصلے تو بہت اچھے آتے ہیں تاہم ان پر عمل در آمد ایک اہم مسئلہ ہے۔‘

انھوں نے کہا ’جو عمل در آمد کرنے والے ادارے ہیں ان کی دلچسپی ان معاملات میں کم ہے اور ان کا رویہ اقلیتی معاملات کو نمٹانے میں سست روی کا شکار رہا ہے اسی لیے ان اداروں کو یاد دہانی کروانے کی بھی ضرورت ہے کہ یہ جس مقصد کے لیے یہ بینچ تشکیل کی گئی اسے نہ بھولیں۔‘

جنوری سنہ 2018 میں لاہور کے رہائشی اور مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے دو خالہ زاد بھائیوں ساجد مسیح اور پطرس میسح کا توہینِ مذہب کا معاملہ سامنے آیا تھا۔

24 سالہ ساجد مسیح نے فروری سنہ 2018 میں ایف آئی اے کی عمارت سے چھلانگ لگائی تھی۔ شدید زخمی حالت میں ہسپتال سے اپنے بیان میں انھوں نے بتایا کہ تشدد کے دوران انھیں اہلکاروں نے اپنے بھائی کا ریپ کرنے کا کہا جس کے بعد انھوں نے یہ قدم اٹھایا۔

شاہد معراج نے بتایا تفتیش اس طرز کی ہوئی کہ بچے نے اپنی جان لینے کو ترجیح دی۔ اگر اس بینچ پر عمل در آمد ہوتا تو یہ معاملہ بھی سنا جاتا۔ اس کیس میں وہ ساری افسوسناک باتیں موجود تھیں جن کی ہم شکایات مختلف فورم پر کرتے رہے ہیں۔‘

20 اپریل سنہ 2018 کو شاہد معراج نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی کہ ان کی برادری کو عیسائی نہیں بلکہ مسیحی کہا جائے۔

ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’اس بینچ کی وقتاً فوقتاً سماعتیں ہوتی رہی ہیں۔ سپریم کورٹ، وفاقی حکومت اور ان سے منسلک اداروں کو اپنے فیصلے میں دی ہوئی ہدایات کا پابند کرنے کے بارے میں یاد دہانی کراتی رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس معاملے میں خاصی دلچسپی لیتے ہوئے ایک ون مین کمیشن بھی بنایا تھا جس میں سابق انسپکٹر جنرل پاکستان ڈاکٹر شعیب سڈّل کو شامل کیا تھا لیکن اس کا انجام کیا ہوا یہ کچھ واضح نہیں۔

ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کے مطابق جسٹس عمر بندیال نے اس لیے ایک سپیشل بینچ تشکیل دینے کی سفارش کی کیونکہ عدالتی فیصلے میں صاف طور پر حکم دیا گیا تھا کہ ایک مستقل بینچ ہونا چاہیے جس کا کام صرف اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف ہونے والے واقعات کی شنوائی ہو۔‘

پاکستان میں موجود اقلیتی برادری مذہبی انتہا پسندی کا براہِ راست شکار رہی ہے حالانکہ سپریم کورٹ کی جانب سے بنائی گئی خصوصی بینچ کو ان معاملات کی روک تھام کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جا رہا ہے لیکن فیصل صدیقی کا خیال ہے کہ ’اس فیصلے کی اہمیت یہ ہے کہ یہ ریاست کو عدالتوں کی ترجیحات بتا رہا ہے کہ اقلیتوں کی حفاظت ہماری ترجیح ہے اور آپ کی بھی ہونی چاہیے لیکن اس پر عمل درآمد ریاست کا کام بھی ہے۔