میرپور: ’زلزلہ پروف انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی زیادہ نقصان کا سبب بنی‘

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے میرپور میں 24 ستمبر کو آنے والے زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ تھم نہیں رہا۔ جمعرات کی صبح بھی اسی علاقے میں ایک اور زلزلہ محسوس کیا گیا اور امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق اس کی شدت 4.7 اور گہرائی صرف 10 کلومیٹر تھی۔

اس علاقے میں 24 ستمبر کو آنے والا زلزلہ بھی اس گہرائی پر آیا تھا تاہم اس کی شدت کچھ زیادہ یعنی 5.8 تھی۔

ان زلزلوں کو دیکھا جائے تو بظاہر یہ اپنی شدت کے لحاظ سے اتنے تباہ کن محسوس نہیں ہوتے تاہم اگر ضلع میرپور میں اس زلزلے سے ہونے والی تباہی کو دیکھیں تو صورتحال کچھ مختلف دکھائی دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کے محکمہ موسمیات کے سائزمک ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر نجیب احمد عامر نے بی بی سی کو بتایا کہ کشمیر کے ضلع میرپور میں آنے والا زلزلہ اگرچہ ماڈریٹ یا درمیانی شدت کا تھا لیکن احتیاطی تدابیر نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کو زیادہ جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

میرپور زلزلے سے کیا نقصان ہوا؟

صحافی اورنگزیب جرال کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر آپریشن سعید قریشی کے مطابق اب تک زلزلے سے کشمیر میں 38 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ اس کے علاوہ ایک شخص پاکستانی ضلع جہلم میں بھی ہلاک ہوا ہے۔

ان میں سے سب سے زیادہ 33 ہلاکتیں میرپور اور گردونواح میں ہوئیں جبکہ بھمبر میں پانچ افراد مارے گئے۔ اس کے علاوہ 600 سے زیادہ افراد زلزلے سے جڑے مختلف واقعات میں زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے 160 شدید زخمی ہیں۔

حکام کے مطابق اس زلزلے سے ضلع میرپور میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور جہاں 1619 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے وہیں سات ہزار سے زیادہ کو جزوی نقصان پہنچا۔

زلزلے سے منگلا ڈیم تو محفوظ رہا تاہم اس سے نکلنے والی نہر اپر جہلم میں شگاف پڑ گئے۔ اس کے علاوہ بھمبر میں منڈا ڈیم کو نقصان پہنچا ہے۔ میرپور کو جاتلاں سے ملانے والی مرکزی شاہراہ بری طرح ٹوٹ پھوٹ گئی ہے جبکہ بھمبر اور میرپور کے درمیان ایک پل کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

نقصان زیادہ کب ہوتا ہے اور میرپور میں زیادہ نقصان کیوں ہوا؟

محکمہ موسمیات کے ماہر کے مطابق عموماً درمیانی اور گہری نوعیت کے زلزلوں سے نقصانات کا امکان کم ہی ہوتا ہے تاہم شیلو ٹائپ کے زلزلوں سے نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ یہ زمین میں زیادہ گہرائی تک نہیں ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کم گہرائی میں آنے والے زلزلوں میں زمین کے اوپر جھٹکے زیادہ شدت سے محسوس کیے جاتے ہیں۔

زلزلہ پیما مرکز اسلام آباد کے ڈائریکٹر زاہد رفیع کے مطابق میرپور میں حالیہ زلزلے سے نقصانات کی وجوہات میں درمیانی شدت کے زلزلے کا بہت کم گہرائی میں ہونا شامل ہے۔

یہ زلزلہ صرف 10 کلومیٹر گہرائی میں آیا جس کا مطلب زمین کی سطح پر شدید جھٹکے ہیں۔ ان کے مطابق اتنی کم گہرائی میں کوئی بھی درمیانہ زلزلہ، جس کی شدت 5.8 ہو، کافی شدید سمجھا جاتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حالیہ زلزلہ جس مقام پر آیا وہاں آبادی تھی مگر وہاں پر انفراسٹرکچر کی تعمیر کے وقت اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا کہ کیا وہ مقام ایسی عمارتوں کے لیے موزوں ہے بھی یا نہیں۔

ان کے مطابق متاثرہ علاقے میں کسی قسم کا کوئی بھی زلزلہ پروف انفراسٹرکچر تعمیر نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔

زلزلے کی شدت کیسے ناپی جاتی ہے؟

زلزلے کی شدت کو ناپنے کے لیے کچھ عرصہ قبل تک تو صرف ریکٹر سکیل استعمال کیا جاتا تھا تاہم اس کی مدد سے بڑے زلزلوں کی صحیح شدت ناپنے میں ناکامی کے بعد اب مومنٹ میگنیچیوڈ سکیل زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔

زلزلے کی شدت ایک سے دس کے درمیان متعین کی جاتی ہے۔ اگر زلزلہ ایک سے تین کی شدت کا ہو تو معمولی کہلاتا ہے۔ تین سے سات تک درمیانہ جبکہ سات سے زیادہ کا زلزلہ شدید نوعیت کا ہوتا ہے۔

زلزلے کی شدت ناپنے کے لیے جو معیار استعمال کیا جاتا ہے وہ لوگریتھمک ہوتا ہے یعنی ایک درجے کا فرق شدت میں دس گنا اضافہ لاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر زلزلے کی شدت سکیل پر پانچ ہو تو یہ چار شدت کے زلزلے سے دس گنا زیادہ طاقتور ہوگا اور اس میں 31 گنا زیادہ توانائی کا اخراج ہو گا۔

دوسری طرف زلزلے کو زمین میں اس کی گہرائی سے بھی ناپا جاسکتا ہے۔ اگر زلزلہ 50 کلومیٹر تک ہو تو اسے شیلو یا کم گہرائی، 50 سے 300 کلومیٹر تک انٹرمیڈیٹ یا درمیانی گہرائی اور 300 کلومیٹر سے زیادہ ہو تو اسے ڈیپ یا انتہائی گہرائی میں آنے والا زلزلہ شمار کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں اتنے زلزلے کیوں آتے ہیں؟

سرکاری اور غیر سرکاری ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ فالٹ لائن پر واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان کا دو تہائی علاقہ ممکنہ طور پر زلزلے کے خطرے میں رہتا ہے۔

جیالوجیکل سروے آف پاکستان، اسلام آباد کی ڈائریکٹر ڈاکٹر روبینہ فردوس کے مطابق ابتدائی معلومات سے معلوم ہوا ہے کہ میرپور میں زلزلہ جہلم کی فالٹ لائن میں سٹرائیک سلپ کی وجہ سے آیا ہے۔ سٹرائیک سلپ میں زمین کے دو حصے اپنی جگہ سے الٹ سمت میں حرکت کرتے ہیں۔

یہ فالٹ لائن کوہالہ اور مظفر آباد کے درمیانی علاقے تک جاتی ہے جبکہ منگلا ڈیم بھی فالٹ لائن کے اوپر واقع ہے۔

انھوں نے بتایا کہ سٹرائیک سلپ کی صورت میں زیرِ زمین فالٹ پلیٹ ایک دوسرے کے ساتھ سے گزرتی ہیں۔ ان میں ایک حصہ آگے نکل جاتا ہے اور دوسرا پیچھے رہ جاتا ہے۔

اسی طرح فالٹ کی دیگر اقسام بھی ہیں۔ دوسری قسم نارمل فالٹ میں زیر زمین فالٹ نیچے کی جانب سے گزرتی ہے جبکہ ریورس فالٹ میں فالٹ پلیٹیں اوپر کی جانب چلتی ہیں۔

ڈاکٹر روبینہ فردوس کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا بڑا حصہ انڈین پلیٹ پر واقع ہے جبکہ یہاں سے یوریشین (یورپ اور ایشیا) اور عرب پلیٹیں بھی گزرتی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ فالٹ لائن کا مطلب زیرِ زمین پلیٹوں کا ٹوٹ کر مختلف حصوں میں تقسیم ہوجانا ہے جو زمین کے نیچے حرکت کرتے رہتے ہیں۔ یہ حصے دباؤ جمع کرتے رہے ہیں۔

پھر ایک ایسا موقع آتا ہے جہاں پر ان کو کسی مقام پر اپنا دباؤ نکالنے کا موقع ملتا ہے تو پھر اس مقام پر زلزلہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ کبھی زیادہ شدت کے ہوتے ہیں اور کبھی کم۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے۔ یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمالیہ کا وجود بھی لاکھوں سال پہلے زیرِزمین پلیٹوں کے ٹکراؤ کے نتیجے میں ہوا تھا۔ اب بھی ہمالیہ متحرک ہے اور یہ ہر سال ایک سینٹی میٹر بڑھ رہا ہے۔

زلزلے کا زیادہ خطرہ کن شہروں میں؟

ڈاکٹر روبینہ کے مطابق جیالوجیکل سروے آف پاکستان نے ملک کو زلزلوں کے حوالے سے چار زونز میں تقسیم کر رکھا ہے۔

زون ون میں زلزلے کے کم امکانات سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں ڈیرہ غازی خان شامل ہے۔ زون ٹو میں زلزلے کے کچھ امکانات سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں پنجاب کے میدانی علاقے اور وسطی سندھ شامل ہیں۔

زون تھری میں زلزلے کے کافی زیادہ امکانات سمجھتے جاتے ہیں۔ ان میں کراچی، بلوچستان، سکردو، سوات، پشاور، میدانی ہمالیہ کے علاقے آتے ہیں جبکہ زون فور کے اندر انتہائی خطرے کا شکار علاقوں میں پوٹھوہار، کشمیر، ہزارہ، شمالی علاقہ جات، کوئٹہ اور ہمالیہ کے پہاڑی علاقے آتے ہیں۔

کیا زلزلے کی پیش گوئی ممکن ہے؟

ڈاکٹر روبینہ فردوس کا کہنا تھا کہ سونامی اور شدید موسم کی طرح زلزلوں کی پیش گوئی کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ مگر تحقیق سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ کہاں پر متوقع طور پر زلزلہ آسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ زیرِ زمین فالٹ لائنز صرف پاکستان ہی میں ہیں بلکہ دنیا کے اور ممالک میں بھی موجود ہیں۔ ’وہاں پر بھی زلزلے آتے ہیں مگر پاکستان میں زلزلوں سے جتنا جانی و مالی نقصان ہوتا ہے اتنا نقصان ان ممالک میں نہیں ہوتا۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ممالک میں محفوظ عمارتیں اور زلزلہ پروف انفراسٹرکچر تعمیر کیے گئے ہیں۔زلزلے کی صورت میں لوگوں کو حفاظتی تدابیر یاد کرانا مشکل ہوتا ہے اس لیے زلزلے سے متعلق آگاہی ضروری ہے۔

پاکستان میں زلزلے سے متعلق حفاظتی تدابیر

ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ میرپور میں جانی و مالی نقصان کی ایک بڑی وجہ غیر محفوظ عمارتیں تھیں۔ ظاہر ہے کہ زلزلے سے ان ہی علاقوں میں زیادہ نقصان ہوتا ہے جہاں گنجان آبادی، پرانی اور کمزور عمارتیں اور غیر محفوظ تعمیرات ہوں۔

ڈاکٹر روبینہ فردوس کا کہنا تھا کہ اکتوبر 2005 کے زلزلے کے بعد باقاعدہ طور پر بلڈنگ کوڈز تیار کیے گیے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں نیسپاک نے سی ڈی اے کو اس سلسلے میں مشاورت فراہم کی تھی جس میں باقاعدہ طے ہوا تھا کہ اب آئندہ ایسی عمارتوں کے نقشے پاس نہیں ہوں گے جو کہ محفوظ نہیں۔

ڈاکٹر روبینہ فردوس کہتی ہیں کہ یہ لائحہ عمل پورے ملک میں اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ نجیب احمد بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ بلڈنگ کوڈز پر عمل ہونے سے جانی و مالی نقصان کم کیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جس بھی مقام پر ایک مرتبہ زلزلہ آتا ہے تو اس بات کا امکان سمجھا جاتا ہے کہ کبھی نہ کبھی دوبارہ بھی زلزلہ آئے گا جبکہ پاکستان کا بڑا حصہ دو تہائی علاقہ زلزلے کے خطرے میں رہتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگر مستقبل میں کسی چھوٹے بڑے زلزلے سے نقصانات کو کم سے کم کرنا ہے تو اس کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیتے ہوئے محفوظ اور زلزلہ پروف انفراسٹرکچر بنانا ہوگا۔

۔