آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
میرپور زلزلہ: مرنے کے خوف سے 30 فٹ اونچائی سے چھلانگ لگانے والا نوجوان
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، جہلم
- وقت اشاعت
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر میرپور میں واقع میرپور یونیورسٹی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں تھرڈ ایئر کے طالب علم 22 سالہ محمد مزمل منگل کی سہ پہر آنے والے زلزلے سے متاثرہ ان زخمیوں میں شامل ہیں جنھیں طبی امداد کے لیے جہلم کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال لایا گیا تھا۔
محمد مزمل کو جب ہسپتال لایا گیا تو وہ مکمل طور پر ہوش و حواس میں تھے۔ بی بی سی نے جب ان سے پوچھا کہ جس وقت زلزلہ آیا تو وہ کہاں پر تھے اور انھیں یہ چوٹیں کیسے آئیں؟
انھوں نے بتایا کہ وہ مظفر آباد کے رہائشی ہیں اور ایک نجی پلازے کی تیسری منزل پر کرائے کے کمرے میں رہتے ہیں۔ محمد مزمل کا کہنا تھا کہ منگل کے روز یونیورسٹی میں پڑھائی ختم کرنے کے بعد وہ واپس اپنے کمرے میں آئے اور کھانا کھانے کے بعد سو گئے۔
انھوں نے بتایا کہ ’نیند کے دوران جب پہلے زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے تو میں سمجھا مجھے کوئی لوری دے رہا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مزمل نے بتایا کہ جب زلزلے کے جھٹکوں میں شدت آئی تو وہ جلدی سے بستر سے نکلے اور نیچے اترنے کے لیے سیڑھیوں کی طرف بڑھے۔ اس دوران ان کی نظر اس پلازے کے قریب واقع دیگر عمارتوں پر پڑی جو بری طرح ہچکولے کھا رہی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ صورت حال دیکھ کر ان کے دل میں خوف پیدا ہوا کہ کہیں وہ اس عمارت کے ملبے تلے دب کر ہی نا مارے جائیں۔ مزمل کے مطابق ان کے ذہن میں خیال آیا کہ اگر وہ سیڑھیوں سے نیچے اترے تو ہو سکتا ہے کہ ان کا یہ وہم حقیقت میں تبدیل ہو جائے۔
اور اسی خوف کی وجہ سے انھوں نے ایک لمحے کی بھی تاخیر کیے بنا کمرے کی کھڑکی سے چھلانگ لگا دی اور پھر انھیں ہوش نہیں رہا کہ وہ کہاں پر ہیں۔
مزمل کو ڈسٹرکٹ ہسپتال جہلم لانے والے ان کے دوست کا کہنا تھا کہ جس جگہ محمد مزمل نے چھانگ لگائی وہ عمارت کا عقبی حصہ تھا اور وہاں پر گاڑیوں کی ورکشاپ تھی۔
انھوں نے بتایا کہ جس جگہ مزمل گرے تھے، وہاں سے محض ایک فٹ کے فاصلے پر ایک گاڑی کی مرمت کے لیے اس کے پرزے الگ کیے گئے تھے، اور اگر مزمل ان پرزوں پر گر جاتے تو ان کا زندہ بچ پانا ممکن نہ ہوتا۔
مزمل کے مطابق جس کھڑکی سے انھوں نے چھلانگ لگائی وہ زمین سے تقریباً 30 فٹ اونچائی پر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ابھی تک اپنے والدین کو اس صورت حال کے بارے میں نہیں بتایا، تاہم اپنے چچا زاد بھائیوں کو اس بارے میں ضرور آگاہ کیا ہے۔
ڈسٹرکٹ ہسپتال جہلم کے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ڈاکٹر ظہور کیانی کے مطابق اس واقعے میں مزمل کے دونوں پیروں کی ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ مزمل کے گھٹنوں میں بھی کچھ زخم آئے ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق محمد مزمل کا جسمانی وزن چونکہ زیادہ نہیں تھا، اس وجہ سے انھیں دیگر چوٹیں نہیں آئیں۔
ہڈیوں کے ماہر ڈاکٹر تفسیر گوندل کے مطابق اگر علاج جاری رہا تو دو سے تین ماہ کے دوران مزمل بغیر کسی سہارے کے چلنے کے قابل ہو جائیں گے۔