حسین اصغر: بیرونی قرضوں کی تحقیقات کے لیے قائم انکوائری کمیشن کے سربراہ کون ہیں؟

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

وفاقی حکومت نے گذشتہ دس سال کے دوران بیرونی قرضوں کی تحقیقات کے لیے قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے ڈپٹی چیئرمین حسین اصغر کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیشن تشکیل دیا ہے۔

یہ کمیشن سابق حکمران جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے، لیے گئے بیرونی قرضوں کے استعمال سے متعلق تحقیقات چھ ماہ میں مکمل کرکے رپورٹ حکومت کو بھجوائے گا۔

اس کمیشن کی سربراہی کے لیے ڈاکٹر شعیب سڈل کا نام بھی زیر غور تھا تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے دونوں ادوار میں اُن کے پارٹی کی قیادت کے ساتھ قریبی رابطوں کی وجہ سے اُنھیں اس کمیشن کی سربراہی نہیں دی گئی۔

اس انکوئری کمیشن کے خدوحال ابھی سامنے نہیں آئے تاہم اس کمیشن میں ایف بی آر کے علاوہ سکیورٹی اینڈ سٹاک ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے اہلکار شامل ہیں اس کے علاوہ فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ایک افسر کو بھی اس کمیشن کا حصہ بنایا گیا ہے۔

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے گذشتہ دس سال کے دوران 24 ہزار ارب روپے کے غیر ملکی قرضے حاصل کیے گئے جبکہ مختلف ترقیاتی منصوبوں پر اتنی رقم خرچ نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

صحافی اور تجزیہ کار حامد میر کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو اس انکوائری کمیشن کے قیام سے گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ اُنھیں اس کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

اُنھوں نے کہا کہ بیرون ممالک یا مالیاتی اداروں سے لیے جانے والے قرضوں کی تفصیلات وزارت خزانہ کے پاس ہوتی ہے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ اس وزارت کے پاس ان منصوبوں کی تمام تفصیلات موجود ہیں جو بیرونی قرضوں کے استعمال سے تکمیل کیے گئے یا وہ تکمیل کے مراحل میں ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ اگر انکوائری کمیشن غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے تو وزیر اعظم عمران خان کو لینے کے دینے پڑ جاییں۔

اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ دس سال کے دوران کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں امریکہ سے رقم موصول ہوئی ہے اس کا تمام ریکارڈ بھی موجود ہے اور کمیشن یہ معاملہ بھی اپنے سامنے رکھے گا۔

حزب مخالف کی دو بڑی جماعتوں کو سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ یہ کمیشن عدالت عظمیٰ کے احکامات کی روشنی میں قائم نہیں کیا گیا بلکہ عمران حان خود اس کمیشن کی نگرانی کریں گے۔

یہ انکوائری کمیشن تحقیقات میں کسی ماہر کی خدمات بھی حاصل کرسکتا ہے۔ اس کمیشن کے پاس کسی شخص کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہوگا تاہم اس کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں نیب یا ایف آئی اے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مجاذ ہے۔

اقتصادی امور پر نظر رکھنے والے صحافی مشتاق گھمن کا کہنا ہے کہ بیرون ممالک یا مالیاتی اداروں سے حاصل ہونے والے قرضوں کا معاملہ اقتصادی امور کی ڈویژن دیکھتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ بیرون ممالک یا مالیاتی اداروں سے حاصل کیا گیا قرضہ سٹیٹ بینک آف پاکستان میں امریکی ڈالرز کی شکل میں آتا ہے جہاں سے وزارت خزانہ پاکستانی روپوں کی شکل میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز جاری کرتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ منصوبے بروقت مکمل نہ ہونے کی وجہ سے ان پر اخراجات بڑھ جاتے ہیں لیکن قرضوں کی رقم کسی شخص کے ذاتی اکاونٹ میں جانے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی قیادت پر الزام لگاتی ہے کہ جاتی عمرہ کی طرف جانے والی سڑک غیر ملکی قرضوں سے حاصل کی جانے والی رقم سے تعمیر کی گئی جبکہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کی بنی گالہ میں رہائش کے ادرگرد تعمیر ہونے والی دیوار بھی سرکاری خزانے سے تعمیر کی گئی ہے۔

حسین اصغر کون ہیں؟

اس انکوائری کمیشن کے سربراہ حسین اصغر کا تعلق پولیس گروپ سے ہے اور وہ حال ہی میں صوبہ پنجاب کے محکمے انسداد رشوت ستانی کے سربراہ کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان حسین اصغر سے لاہور میں متعدد ملاقاتیں بھی کرچکے ہیں۔

حسین اصغر نے اپنی ریٹائرمنٹ سے چند ہفتے قبل پاک پتن مزار کی اراضی فروحت کرنے یا لیز پر دینے سے متعلق سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے احکامات کی روشنی میں کی گئی انکوائری میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ میاں نواز شریف کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔

پاک پتن مزار اراضی واحد ایسا مقدمہ ہے جس میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی عدالت میں پہلی مرتبہ پیش ہوئے تھے۔

حسین اصغر کا شمار پولیس کے اچھے افسران میں کیا جاتا ہے لیکن اُنھیں شہرت اسی وقت ملی جب سپریم کورٹ نے اُنھیں محتلف مقدمات کی تحقیقات کے لیے لامحدود اختیارات دیے تھے۔ چاہے وہ مقدمہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں حج انتظامات میں ہونے والی بدعنوانی کا ہو یا پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور میں ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان کیس کا اور یا پھر پاک پتن اراضی کی فروخت کا معاملہ ہو۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں جب حسین اصغر حج انتظامات میں ہونے والی بدعنوانی کی تحقیقات کر رہے تھے تو اس وقت کی حکومت نے ان کا تبادلہ بطور آئی جی گلگت بلتسان کردیا تھا تاہم اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ان کا تبادلہ منسوخ کردیا تھا اور ساتھ یہ ہدایات بھی دی تھیں کہ سپریم کورٹ سے پوچھے بغیر حسین اصغر کا تبادلہ نہ کیا جائے۔

افتخار چوہدری کی ریٹائرمنٹ کے بعد حسین اصغر کو کوئی قابل ذکر پوسٹنگ نہیں ملی تھی۔

سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے دور کے آخری ایام میں پاک پتن مزار اراضی کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے اُنھیں لامحدود احتیارات دیے گئے تھے تاہم میاں ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کے بعد جب سپریم کورٹ کو حسین اصغر کے محتلف اداروں میں مداخلت کی شکایات موصول ہونے لگیں تو عدالت عظمیٰ نے اُنھیں دیے گئے اختیارات واپس لے لیے۔

سپریم کورٹ کی طرف سے اختیارت واپس لینے کے بعد حسین اصغر کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں کی گئی اور وہ پنجاب کے انسداد رشوت ستانی کے محکمے کے سربراہ کی حیثیت سے ریٹائر ہو گئے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق حسین اصغر ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ رابطے میں رہے اور ان کی ریٹائرمنٹ کے چند ہفتوں کے بعد ہی وزیر اعظم نے حسین اصغر کو ڈپٹی چیئرمین نیب تعینات کردیا۔

نیب کےایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ نیب میں تعیناتی کے دوران حسین اصغر نے شریف برادران کے خلاف متعدد انکوائریاں کھولنا شروع کیں تو انھیں روک دیا گیا اور اُنھیں گریڈ 18 تک کی پوسٹنگ اور ٹرانسفر کے علاوہ ان افسران کی کارکردگی پر نظر رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ نیب حکام سے اس ضمن میں رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔

حسین اصغر کے بارے میں حزب مخالف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے متعدد رہنماوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ حسین اصغر تفتیش کے دوران کسی کی سفارش نہیں مانتے۔