آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملوں کے بدلے میں پاکستان گرجا گھر جلایا گیا؟
گذشتہ روز سوشل میڈیا میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی اور دعویٰ کیا گیا کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائس چرچ میں دو مسجدوں پر دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان میں بھی ایک گرجا گھر کو آگ لگا دی گئی ہے۔
آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے برینٹن ٹیرنٹ نے گذشتہ جمعے کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں حملے کر کے پچاس افراد کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کر دیا تھا۔ اس نے اس گھناونے عمل کو سوشل میڈیا سائٹس پر لائیو نشر بھی کیا۔
لیکن ایک وائرل ویڈیو میں کچھ لوگوں کو ایک گرجا گھر کے دروازے کے اوپر لگے صلیب کو توڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو میں ہجوم کے جانب سے اللہ اکبر کے نعرے بھی سنے جا سکتے ہیں۔
اس ویڈیو میں چرچ کے قریب سے دھواں بھی نظر آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس ویڈیو کو فیس بک، ٹوئٹر اور وٹس ایپ کے صارفیں شیئر کر رہے ہیں۔
لندن سے ٹوئٹر صارف تھیا ڈکسن اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر لکھتی ہیں: ’نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملوں کے ردعمل میں اسلام پسندوں نے پاکستان میں چرچ کو جلا دیا۔ بی بی سی اسے کیوں نہیں دکھا رہا ہے۔‘
بی بی سی نے جب اس ویڈیو کے بارے میں تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ پاکستان میں چرچ کو جلانے کا دعوی جھوٹا ہے اور یہ ویڈیو پاکستان سے نہیں بلکہ مصر کی ہے، جہاں 2013 میں کئی قبطی گرجا گھروں کو جلایا گیا تھا۔
کرائسٹ چرچ کی النور اور لِن وڈ مسجدوں میں دہشت گرد حملے میں پچاس افراد ہلاک اور پچاس کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔
نیوزی کی وزیر اعظم جاسنڈآ آرڈرن نے مسجدوں پر حملوں کو دہشتگردی اور اسے نیوزی لینڈ کی تاریخ کا سیاہ ترین دنوں میں سے ایک قرار دیا تھا۔
ریورس امیج سرچ سے پتا لگا کہ یہ ویڈیو 2013 میں مصر میں بنائی گی۔ بیس سیکنڈ کا کلپ سات منٹ کی ویڈیو میں سے کاٹا گیا ہے۔
مصر میں 2013 میں عیسائی مخالف مظاہروں میں تقریباً پچیس قبطی گرگا گھروں کو جلانے کی کوشش کی گئی تھی۔
2013 میں جب مصری فوج نے اخوان المسلیمون کی حکومت کو ختم کر کے صدر محمد مورسی کو جیل میں ڈال دیا تو اس کے بعد مصر میں قبطی آرتھوڈاکس گرجا گھروں پر حملے کیے گئے تھے۔ مصر میں مسلم شدت پسندوں نے عیسائیوں کو اخوان المسلیمون کی حکومت کے خاتمے کا جزوی طور پر ذمہ دار قرار دیا تھا۔
مصر کے قبطی پوپ کی طرف سے فوجی حکمران جنرل سیسی کے اقدامات کی تعریف پر انھیں قتل کی دھمکیاں بھی ملیں اور اس کے علاوہ متعدد عیسائی شہریوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔
مصر میں عیسائیوں کی اکثریت قبطی ہیں اور وہ قدیمی مصری باشندوں کی اولادیں ہیں۔
مصر کی دس فیصد عیسائی آبادی صدیوں سے سنی اکثریت کے ساتھ پرامن طریقے سے رہ رہی ہے۔