کارِ سرکار میں مداخلت: امریکی سفارت خانے کا چیف سکیورٹی افسر گرفتار

وقت اشاعت

اسلام آباد پولیس نے ٹریفک حادثے کے بعد امریکی سفارت خانے کے سیکنڈ سیکرٹری چاڈ ریکس کو پولیس کی تحویل سے چھڑانے اور کار سرکار میں مداخلت پر امریکی سفارت خانے کے چیف سکیورٹی افسر کے خلاف مقدمہ درج کرکے اُنھیں گرفتار کرلیا ہے۔

تھانہ سیکرٹریٹ کے انچارج عبدالستار نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم تیمور اقبال نے امریکی سفارت کار کو ٹریفک حادثے کے بعد نہ صرف چھڑانے کی کوشش کی بلکے وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں کو دھکے بھی دیے۔

اُنھوں نے کہا کہ کار سرکار میں مداخلت ایک قابل ضمانت جرم ہے اور پولیس افسر بھی اس میں ضمانت لے سکتا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عبدالستار کا کہنا تھا کہ چونکہ پولیس خود اس مقدمے میں مدعی ہے اس لیے ملزم کو ضمانت کے لیے مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب اسلام آباد میں سیکریٹریٹ چوک کے قریب امریکی سفارت کار کی گاڑی کی ٹکر سے دو موٹرسائیکل سوار زخمی ہو گئے تھے جنھیں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

پولیس حکام کا کہنا تھا کہ سیکرٹریٹ چوک پر امریکہ سفارت خانہ کے سیکنڈ سیکریٹری کی گاڑی نے ایک موٹر سائیکل کو ٹکر ماری، جس سے دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا۔

اس بارے میں مزید جانیے

پولیس کے مطابق گاڑی امریکی سفارتخانے کے سیکنڈ سیکریٹری چاڈ ریکس چلا رہے تھے، جنھیں بعد میں گاڑی سمیت تھانہ سیکریٹریٹ منتقل کیا گیا۔

یاد رہے کہ ایک ماہ کے دوران امریکی سفاتکاروں کی گاڑی کی ٹکر کا یہ دوسرا واقع ہے۔

اس سے پہلے امریکی سفارت خانے کے فوجی اتاشی کرنل جوزف نے اشارہ توڑ کر ایک پاکستانی طالب علم کی موٹرسائیکل کو ٹکر ماری تھی جس کے نتیجے میں وہ طالب علم ہلاک اور اس کا ساتھی شدید زخمی ہو گیا تھا۔

حادثے میں ہلاک ہونے والے نوجوان عتیق بیگ کے والد نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں کرنل جوزف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست دائر کی تھی۔

اسلام آْباد ہائی کورٹ میں مقدمے کی سماعت جاری ہے جبکہ وزارتِ داخلہ نے عدالت کو بتایا ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک موٹر سائیکل سوار کو کچلنے کے واقعے میں ملوث امریکی سفارتکار کرنل جوزف امینوئل ہال کو بلیک لسٹ کر دیا ہے جس کے بعد وہ متعلقہ حکام یا عدالت کی اجازت کے بعد ہی ملک چھوڑ سکتے ہیں۔

پاکستانی حکام نے امریکی سفارت کار کی گاڑی سے ٹکرانے کے نتیجے میں طالب علم کی ہلاکت کے واقعے پر امریکی سفیر دفترِ خارجہ طلب کر کے احتجاج کیا تھا۔

یاد رہے کہ عام طور پر ایسے معاملات میں سفارت کاروں کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔

اس سے قبل 2011 میں ایک امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس نے لاہور میں دو افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا، جبکہ بعد میں انھیں لینے کے لیے آنے والی گاڑی نے سڑک کی رانگ سائیڈ پر چلتے ہوئے ایک شخص کو ٹکر مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اس واقعے کے بعد امریکہ نے پاکستان پر شدید سفارتی دباؤ ڈال کر ریمنڈ ڈیوس کو رہا کروا دیا تھا۔