سپریم کورٹ کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم، اورنج لائن پر کام دوبارہ شروع کرنے کا حکم

لاہور

،تصویر کا ذریعہAwon Ali

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 2 منٹ

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اورنج لائن ٹرین کا منصوبہ روکنے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پنجاب حکومت کو اس منصوبے کو جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے اس بارے میں 31 شرائط بھی رکھی ہیں جن میں تاریخی عمارتوں کی حفاظت کے لیے دس کروڑ روپے مختص کرنے کے ساتھ ساتھ ایک وسیع البنیاد کمیٹی بھی قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس کمیٹی میں محکمہ آثار قدیمہ کے علاوہ متعلقہ محکموں کے حکام اور ایک ریٹائرڈ جج بھی شامل ہوں گے جس کی تعیناتی کی منظوری سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے ہو گی۔

عدالت کے فیصلے کے مطابق یہ کمیٹی ایک سال کے لیے بنائی جائے گی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف پنجاب حکومت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

لاہور

،تصویر کا ذریعہAFP

لاہور ہائی کورٹ نے درخواست گزاروں کے خدشات پر جن مقامات پر اورنج ٹرین پر کام روکنے کا حکم دیا تھا ان میں شالیمار باغ، چوبرجی، زیب النساء کا مزار، گلابی باغ، لکشمی چوک، جنرل پوسٹ آفس، ایوان اوقاف، سپریم کورٹ لاہور کی رجسٹری، سینٹ اینڈریوز نولکھا چرچ اور بابا موج دریا بخاری کا مزار شامل ہیں۔

اس فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد دو ہفتوں تک ٹرین آزمائشی بنیادوں پر چلائی جائے گی جس میں ٹرین کی تھرتھراہٹ کو بھی مانیٹر کیا جائے گا تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ کہیں ٹرین کی تھرتھراہٹ مقررہ حد سے زیادہ تو نہیں ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے اس حکم کے خلاف پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

اطلاعات کے مطابق اورنج ٹرین منصوبے پر 70 فیصد سے زائد تعمیراتی کام ہو چکا ہے جبکہ الیکٹریکل اور میکینکل کام ابھی 25 فیصد تک مکمل ہوئے ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

فیصلہ سنائے جانے کے کچھ دیر بعد وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اپنی ٹویٹ میں اس فیصلے کی تائید کرتے ہوئے مبارک باد کا پیغام دیا اور کہا کہ اس فیصلے سے ’عوام کی جیت ہوئی ہے۔‘

میٹرو ٹرین کا یہ منصوبہ 27.1 کلومیٹر پر مشتمل ہے جس میں 25.4 کلومیٹر پل پر جبکہ 1.72 کلومیٹر زیر زمین سیکشن ہے۔ اس منصوبے پر زیدہ تر سرمایہ کاری چین نے کی ہے۔

واضح رہے کہ لاہور اورنج ٹرین پاکستان میں اپنی طرز کا پہلا منصوبہ ہے، دنیا کے 50 سے زیادہ ممالک کے 148شہروں میں زیرزمین ٹرین چلتی ہے۔