سپریم کورٹ کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم، اورنج لائن پر کام دوبارہ شروع کرنے کا حکم

،تصویر کا ذریعہAwon Ali
سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اورنج لائن ٹرین کا منصوبہ روکنے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پنجاب حکومت کو اس منصوبے کو جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے اس بارے میں 31 شرائط بھی رکھی ہیں جن میں تاریخی عمارتوں کی حفاظت کے لیے دس کروڑ روپے مختص کرنے کے ساتھ ساتھ ایک وسیع البنیاد کمیٹی بھی قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس کمیٹی میں محکمہ آثار قدیمہ کے علاوہ متعلقہ محکموں کے حکام اور ایک ریٹائرڈ جج بھی شامل ہوں گے جس کی تعیناتی کی منظوری سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے ہو گی۔
عدالت کے فیصلے کے مطابق یہ کمیٹی ایک سال کے لیے بنائی جائے گی۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف پنجاب حکومت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
لاہور ہائی کورٹ نے درخواست گزاروں کے خدشات پر جن مقامات پر اورنج ٹرین پر کام روکنے کا حکم دیا تھا ان میں شالیمار باغ، چوبرجی، زیب النساء کا مزار، گلابی باغ، لکشمی چوک، جنرل پوسٹ آفس، ایوان اوقاف، سپریم کورٹ لاہور کی رجسٹری، سینٹ اینڈریوز نولکھا چرچ اور بابا موج دریا بخاری کا مزار شامل ہیں۔
اس فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد دو ہفتوں تک ٹرین آزمائشی بنیادوں پر چلائی جائے گی جس میں ٹرین کی تھرتھراہٹ کو بھی مانیٹر کیا جائے گا تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ کہیں ٹرین کی تھرتھراہٹ مقررہ حد سے زیادہ تو نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لاہور ہائی کورٹ کے اس حکم کے خلاف پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔
اطلاعات کے مطابق اورنج ٹرین منصوبے پر 70 فیصد سے زائد تعمیراتی کام ہو چکا ہے جبکہ الیکٹریکل اور میکینکل کام ابھی 25 فیصد تک مکمل ہوئے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
فیصلہ سنائے جانے کے کچھ دیر بعد وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اپنی ٹویٹ میں اس فیصلے کی تائید کرتے ہوئے مبارک باد کا پیغام دیا اور کہا کہ اس فیصلے سے ’عوام کی جیت ہوئی ہے۔‘
میٹرو ٹرین کا یہ منصوبہ 27.1 کلومیٹر پر مشتمل ہے جس میں 25.4 کلومیٹر پل پر جبکہ 1.72 کلومیٹر زیر زمین سیکشن ہے۔ اس منصوبے پر زیدہ تر سرمایہ کاری چین نے کی ہے۔
واضح رہے کہ لاہور اورنج ٹرین پاکستان میں اپنی طرز کا پہلا منصوبہ ہے، دنیا کے 50 سے زیادہ ممالک کے 148شہروں میں زیرزمین ٹرین چلتی ہے۔





















