اسلام آباد میں مذہبی جماعتوں کا دھرنا: آپریشن اور جھڑپیں

وقت اشاعت

لبیک یا رسول اللہ اور سنی تحریک نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر گذشتہ 20 روز سے فیض آباد انٹر چینج پر دھرنا دیا ہوا تھا جس کے خلاف حکومت نے سنیچر کی صبح آپریشن شروع کیا ہے۔

پاکستان
،تصویر کا کیپشنآپریشن کی شدت میں شام تک کمی آئی ہے
پاکستان
،تصویر کا کیپشنپولیس کا اہلکار فیض آباد کے قریب مظاہرین کے پاس جانے کے لیے راستہ ڈھونڈ رہا ہے
پاکستان
،تصویر کا کیپشنسیکورٹی اہلکار احتجاج کرنے والے کو گرفتار کر کے واپس لے جا رہے ہیں
فیض آباد
،تصویر کا کیپشناسلام آباد میں مظاہرین کے خلاف جاری آپریشن کے نتیجے میں اب تک حکام کے مطابق سو سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ اسلام آباد کے سب سے بڑے ہسپتال میں 95 زخمیوں، اسلام آباد کے پولی کلینک ہسپتال میں چار اور راولپنڈی کے بینظیر بھٹو ہسپتال میں 12 زخمیوں کو منتقل کیا گیا ہے۔ زخمیوں میں زیادہ تعداد سکیورٹی اہلکاروں کی ہے
فیض آباد
،تصویر کا کیپشننامہ نگاروں کے مطابق پولیس اور ایف سی کے اہلکاروں نے مظاہرین کی جانب سے مزاحمت کرنے پر ربڑ کی گولیاں بھی فائر کی ہیں اور موقع پر دیکھا گیا ہے کہ کئی مظاہرین زخمی ہوئے ہیں جبکہ کئی پولیس اور ایف سی کے اہلکار بھی پتھراؤ سے زخمی ہوئے ہیں
فیض آباد
،تصویر کا کیپشنابرار احمد خان، صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن راولپنڈی ڈویژن کا کہنا ہے کہ فیض آباد میں مظاہرین پر شدید شیلنگ کی وجہ سے اردگرد کے علاقوں میں واقع نجی سکولوں کے طلبا و طالبات کی حالت غیر ہو رہی ہے۔ سکولوں کے مالکان نے والدین سے کہا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سکولوں سے لے جائیں۔ اسلام آباد انتظامیہ نے سکولوں کی مینیجمنٹ کو احتیاطی اقدامات کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
فیض آباد
،تصویر کا کیپشنہسپتال حکام کے مطابق زخمیوں میں سے کسی کی حالت تشویشناک نہیں ہے اور انھیں سر سمیت جسم کے مختلف حصوں پر پتھر لگنے کے باعث چوٹیں آئی ہیں جبکہ چند ایک آنسو گیس کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں
فیض آباد
،تصویر کا کیپشننامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق مظاہرین نے قیدیوں کو لے جانے والی گاڑی کو دیکھتے ہی پنجاب پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا جس کے نتیجے میں پولیس اس جگہ سے بھاگنے پر مجبور ہو گئی۔ مظاہرین احتجاج کے ساتھ نعرے بازی بھی کر رہے ہیں
فیض آباد
،تصویر کا کیپشننامہ نگار فرحت جاوید نے بتایا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر فیض آباد انٹرچینج پر دھرنے کے خلاف آپریشن کے آغاز کے بعد راولپنڈی کے علاقے اڈیالہ روڈ اور سواں کے علاوہ دیگر علاقوں میں مظاہرین نے سڑکیں بند کر دی ہیں۔ فیض آباد میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن
فیض آباد
،تصویر کا کیپشناسلام آباد کے مضافاتی علاقے بھارہ کہو میں پولیس نے بی بی سی کی نامہ نگار حمیرا کنول کو بتایا کہ اس وقت وہاں 400 کے قریب مظاہرین موجود ہیں جو آنے والی گاڑیوں کو روک رہے ہیں۔ مظاہرین نے مرکزی شاہراہ کو بھی بند کر دیا ہے۔ فیض آباد میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن
فیض آباد
،تصویر کا کیپشنمظاہرین کا موقف ہے کہ انتخابی اصلاحات کے بل میں حلف نامے کے بارے میں جو ترمیم کی گئی تھی وہ ختم نبوت کے منافی تھی۔ فیض آباد میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن