آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پیپلانتری: ایک باپ نے ہلاک ہونے والی اپنی 17 سالہ بیٹی کا نام کیسے زندہ رکھا؟
- مصنف, بھاویا ڈورے
- عہدہ, بی بی سی ٹریول
- وقت اشاعت
شیام سندر پلی وال نے جیسے ہی ایک پھلی کو کھولا تو اُس میں سے گہرے سرخ رنگ کے بیچ نکلنے لگے۔ انھوں نے اس سیندور کی پتیوں کے پھل کو اپنی ہتھیلی پہ ہی رکھے ہوئے دیکھنے کے لیے سب کے سامنے پیش کیا۔
یہ پودا، جس میں سے سرخ پاؤڈر نکلتا ہے جسے اکثر انڈین اپنے سنگھار و نکھار اور مذہبی مقاصد کے لیے اپنے ماتھے پر لگاتے ہیں، عام طور پر اس خطے میں نہیں اُگتے۔ لیکن یہ کئی طرح کے درختوں میں سے ایک ہے جو اب پیپلانتری میں اُگتے ہیں، وہ علاقہ جو شمال مغربی انڈیا کی ریاست راجستھان میں چھ دیہاتوں کا ایک مجموعہ ہے۔
سنہ 2005 میں جب پالی وال سرپنچ، یا گاؤں کے سربراہ بنے تو سنگ مرمر کی کان کنی نے قریبی پہاڑیوں کو ناکارہ کر دیا تھا۔ آس پاس کی زمین کو عریاں کر دیا گیا تھا اور دیگر قسم کے پودوں کا انحطاط ہو گیا تھا۔
انڈیا کے بیشتر حصوں کی طرح یہاں رہنے والی لڑکیوں کو بھی ایک معاشی بوجھ سمجھا جاتا تھا اور بیٹوں کے مقابلہ میں ان کی قدر و منزلت کم سمجھی جاتی تھی اور ان کے بارے عام رویہ یہ ہے کہ بیٹے عام طور پر اپنے والدین کی معاشی مدد کرتے ہیں۔
پھر سنہ 2007 میں ڈی ہائیڈریشن (جسم میں پانی کی کمی) کی وجہ سے پالی وال کی 17 برس کی بیٹی کرن ہلاک ہو گئی۔ پالی وال بہت دکھی ہوئے، اپنی بیٹی کی یاد کو ہمیشہ گلے لگائے رکھتے اور اس کا نام زندہ رکھنے کی خواہش پالتے رہے۔
ان کے اہل خانہ نے کرن کے نام پر گاؤں کے دروازے کے قریب ایک درخت لگایا۔ پیپلانتری کے سرپنج کی حیثیت سے پالی وال نے سوچا کیوں نہ اس منفرد واقعہ کو ایک بڑے پروگرام میں تبدیل کیا جائے؟ جلد ہی دوسرے دیہاتیوں نے ان کی بات پر عملدرآمد کرنا شروع کر دیا۔
اب جب بھی پیپلانتری میں ایک لڑکی پیدا ہوتی ہے گاؤں کے لوگ 111 درخت لگاتے ہیں۔ یہ مقامی ہندوؤں کے لیے ایک بہت اچھے شگون کا عدد سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پالی وال کہتے ہیں 'اگر ہم ایک لڑکی کے نام پر یہ کام کر سکتے ہیں تو ہر لڑکی کے نام پر کیوں نہیں کرتے؟' پالی وال نے کہا اس خطے میں اب آم اور گوزبیری سے لے کر صندل کی لکڑی، نیم، پیپل اور بانس تک 350،000 کے زیادہ درخت ہیں جو کبھی ایک بارانی زمینوں میں بڑھتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق یہ خطہ 1000 ہیکٹر اراضی پر پھیلا ہوا ہے۔
حالیہ برسوں میں پالی وال کا یہ سادہ سا خِیال ایک وسیع تر ماحولیاتی تحفظ اور حقوق نسواں کی تحریک میں بدل گیا ہے۔ درخت لگانے کے ساتھ ساتھ بیٹیوں کے نئے والدین بھی ایک حلف نامے پر دستخط کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ 18 سال سے پہلے ان بچیوں کی شادی نہیں کریں گے اور انھیں سکول بھیجتے رہیں گے۔
یہاں کے دیہاتی 31 ہزار روپے ہر لڑکی کے فکسڈ ڈپازٹ اکاؤنٹ کھولنے کے لیے بھی جمع کر لیتے ہیں جو 18 سال کی ہو جانے کے بعد وہ اپنی تعلیم کے لیے یا اپنی شادی کے اخراجات ادا کرنے کے لیے استعمال کرسکتی ہے۔
مزید یہ کہ پیپلانتری کا بڑھتا ہوا جنگل اب ایک ایسی مثال بن گیا ہے جسے انڈیا کے دیگر دیہات زراعت کے لیے آبپاشی کے نظام کو بہتر کرنے کے لیے ایک ماڈل کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ہرے بھرے درختوں کے زیرِ سایہ اور سانپوں اور بچھوؤں کی انتباہی تختیوں کے ساتھ، پلی وال مجھے گاؤں کے داخلی دروازے کے قریب ایک لمبے قسم کے کدمبا کے پھولوں والے درخت کے ساتھ ایک چھوٹی سی صاف جگہ کی طرف لے گئے۔ یہ پہلا درخت تھا جو انھوں نے لگایا تھا اب اس کے چاروں طرف بہت سارے دوسری اقسام کے درخت لگے ہوئے ہیں۔
اگرچہ دیہاتی ہر پیدا ہونے والی ایک نئی لڑکی کے لئے 111 درخت لگاتے ہیں لیکن مون سون کے دوران ہر اگست میں درخت لگانے کی ایک خصوصی تقریب پچھلے 12 ماہ میں پیدا ہونے والی تمام لڑکیوں کے لیے منعقد کی جاتی۔
پالی وال کا اندازہ ہے کہ ساڑھے پانچ ہزار افراد کے اس گاؤں میں ہر سال 60 کے قریب لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں۔
جوان ہوتی ہوئی لڑکیاں جن کے نام پر درخت لگائے گئے تھے اب وہ پودوں کے ارد گرد راکھی کڑا باندھنے آتی ہیں، انھیں وہ اپنا بھائی سمجھتی ہیں اور روایتی راکھی بندھن کے تہوار کی طرح ان کی پوجا کرتی ہیں۔
گاؤں کے ایک حصے میں سرپنچوں اور دیگر آنے والے عہدیداروں کو ایک برگد کے درخت کے قریب حلف اٹھانے کی ترغیب دی گئی ہے جس میں وہ ذمہ داری سے کام کرنے اور ماحولیات کے تحفظ کا عہد کرتے ہیں۔
پالی وال نے کہا 'تاریخی طور پر (راجستھان) کے اس خطے کے لوگ جنگجو ہیں جنھوں نے کبھی شکست قبول نہیں کی۔ اور نہ ہی ہم شکست قبول کریں گے۔ ابتدائی صدیوں میں انھوں نے کئی حملہ آوروں کو روکا، اب ہم بیماری اور آلودگی سے لڑتے ہیں۔'
جیسا کہ پیپلانتری کے درخت بڑھ رہے ہیں اس کے زیرِزمین پانی کی سطح بلند ہوئی ہے اور ایک ثقافتی تبدیلی نے یہاں کی عورتوں کی حیثیت کو بلند کیا ہے۔
نکیتا پالی وال (جن کا شیام سندر سے کوئی رشتہ نہیں) اب 14 سال کی ہیں، ان لڑکیوں کے نام پر درخت لگانے والی پہلی لڑکیوں میں شامل تھی۔ اب وہ ڈاکٹر بننے اور غریبوں کے لیے کام کرنے کی امید کرتی ہیں۔ انھوں نے کہا ’اب ہمیں بھی اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہیے۔‘
شیام سندر نے کہا کہ 'اگر آپ کام کرتے رہیں تو بالآخر بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔ اور لوگ آپ کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔'
یقینا یہ ایک پورے گاؤں کے آپس میں تعاون سے ممکن ہوتا ہے۔ جس صبح ہم وہاں گئے تھے، مقامی عورتیں پودے لگانے کے لیے زمین تیار کر رہی تھیں۔ اگرچہ پودے لگانے کی رسمی تقریب سال میں صرف ایک بار ہوتی ہے، لیکن درخت اگانے کی تیاری کا کام سال بھر جاری رہتا ہے۔
چمکیلی سرخ ساڑھی پہنے اور ایک لمبی مسکراہٹ کے ساتھ نکیتا کی خالہ نینو بھائی پالی وال نے کہا کہ اس کے دو بیٹے تھے لیکن جب پیپلانتری نے ان کی لڑکیوں کی عزت کرنا شروع کی تو انھوں نے پوتیوں کی خواہش کرنا شروع کردی۔ اب ان کی دو پوتیاں ہیں اور جب وہ پیدا ہوئیں تو درخت لگائے گئے تھے۔
انھوں نے کہا کہ 'پہلے انھیں بوجھ سمجھا جاتا تھا۔ اب ہم ایسا نہیں سوچتے ہیں۔ ہمیں بیٹوں کی کوئی خاص خواہش نہیں ہے۔' پھر انھوں نے چاروں طرف درختوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیکھا۔ 'یہ ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ ہم نے سخت محنت کی، ہم نے اسے ایک مثالی گاؤں بنایا۔ اور اس طرح ہمیں روزگار اور آمدنی بھی مل جاتی ہے۔'
یہ گاؤں بھر کی حکمت عملی کا ایک کلیدی حصہ ہے: نہ صرف لڑکیوں کی عزت کرنا یا ماحول کی تخلیقِ نو کرنا، بلکہ مقامی دیہاتیوں کے لیے آمدنی کا ذریعہ بننے کے لیے جنگلات سے فائدہ اٹھانا بھی اس میں شامل تھا۔
شیام سندر نے کہا 'ہر ایک کو صنعت کے ذریعہ کس طرح ملازمت دی جاسکتی ہے؟ ہمارا نقطہ نظر قدرتی وسائل کے ذریعہ روزگار پیدا کرنا ہے۔'
گاؤں میں خواتین کے لیے کوآپریٹیوز قائم کیے گئے ہیں جو گاؤں میں فروخت کرنے کے لیے ایلو ویرا سے تیار کردہ سامان، جیسے اس کا جوس، کھانے کی اشیا اور مربّے تیار کرتے ہیں۔
آنے والے سال میں، وہ بیریاں، بانس اور شہد سے تیار کردہ مصنوعات تیار کرنے کا کام شروع کرنے کا ارداہ رکھتے ہیں، ان سارے درختوں کو گاؤں کو سرسبز کرنے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر لگایا گیا ہے۔
پالی وال نے کہا کہ 'آپ سب کو ایک دوسرے سے جوڑنا ہے۔ اگر آپ درخت لگاتے ہیں تو آپ کو پانی اور مٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر آپ پرندوں کو راغب کرتے ہیں اور زیادہ ہریالی میں مزید بارش ہوتی ہے۔'
جب بھی کوئی مرتا ہے گاؤں والے 11 درخت لگاتے ہیں۔ یہ سارے پودے اس دیہات میں پھیلی مشترکہ سرزمین پر لگائے جاتے ہیں جسے ابتدائی دنوں میں غیر قانونی طور پر تیار کیا گیا تھا۔ شیام سندر نے فاصلے پر پہاڑوں کی طرف اشارہ کیا جن میں کافی کھدائی ہوئی تھی اور کانیں کھودی گئی تھیں، اب یہاں نئی ہریالی زیادہ نمایاں تھی۔
انھوں نے کہا 'جہاں کان کنی ہوتی ہے وہاں تباہی آتی ہے۔ ہم اسے بہتر کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔'
ایک پتھر سے بھری پہاڑی کی چوٹی پر گنے کے پودوں کی سبز ٹہنیاں پھوٹ رہیں ہیں جو بظاہر کہیں باہر سے نہیں لائی گئیں تھیں۔
پیپلانتری کے آبی ذخیرہ بنانے کے منصوبے میں پانی کے بہاؤ کو ایک اور گڑھے میں جمع کرنے، بند اور ڈیم بنا کر زیرزمین پانی کی سطح کو بلند کرنا منصوبے میں شامل ہے۔
پورے گاؤں میں پہلے اور بعد میں دکھائے جانے والے بڑے بڑے پوسٹر پیپلنتری کی تبدیلی کی گواہی دیتے ہیں: خشک اور بھورے سے سبز اور زرد رنگ تک۔ اب، فاصلے پر واضح تالاب چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
کرن کے اعزاز میں لگائے گئے ایک مجسمے کے ارد گرد، پینے کے بہنے والے پانی میں ہنس پر پھڑپھڑاتے ہوئے نظر آتے۔ جب خرگوش ادھر ادھر بھاگتے ہوئے کھیل رہے تھے تو ایک مور نےاونچی عمارت کے قریب سڑک عبور کی اور اپنے پروں سے سورج کی شکل تشکیل دے دی۔
'میں سنہ 2007 اور سنہ 2008 اور اب کے درمیان ایک بہت بڑا فرق دیکھ سکتا ہوں اور یہ آپ کو دکھاتا ہے کہ ایک شخص تبدیلی پر کس طرح اثر ڈال سکتا ہے۔'
ضلع کی مقامی گورننگ باڈیوں کی چیف ایگزیکٹو آفیسر، نمیشا گپتا نے کہا۔ 'اگر سرکاری سکیموں کو، اگر ان کو صحیح طریقے سے نافذ کیا جائے تو، وہ حیران کن نتائج دے سکتے ہیں۔ لیکن سارے دیہات بجٹ کو بہتر طور پر استعمال نہیں کرتے ہیں۔'
2018 میں ریاستی حکومت نے لوگوں کو 'پیپلانتری ماڈل' سے آگاہ کرنے کے لیے ایک تربیتی مرکز قائم کیا۔ عمارت میں انجینئرز، عہدیدار اور دیگر اضلاع کے لوگ شامل ہیں جنھیں امید ہے کہ راجستھان اور ملک میں کہیں بھی پانی کی کٹائی اور درخت لگانے کے پیپلنتری کے ماڈل کی نقل کریں گے۔
اب 55 سے 60 افراد پیپلنتری دیکھنے آتے ہیں۔ جن میں سے بیشتر تربیت گاہ میں ورکشاپس میں شرکت کے لیے آتے ہیں۔
گپتا کے مطابق، پیپلنتری کے ماحولیاتی منصوبوں کی کامیابی کا ایک حصہ لوگوں کو ماحول سے جوڑ کر رکھنے سے ہے۔
انھوں نے کہا کہ 'جب آپ اسے لوگوں کے رسم و رواج کو منسلک کرتے ہیں اور خاندان کے افراد کی طرح درخت اگاتے ہیں تو جذباتی طور پر ان کے لیے احساس پیدا ہوتا ہے اور آپ ان کا خیال رکھتے ہیں۔'
گاؤں کا فطرت سے تعلق واضح ہے اور اسے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اُس دوپہر، ایک مقامی دیہاتی پریم شنکر سالوی اپنی اہلیہ اور ایک سالہ بیٹی روچیکا کے ساتھ گاؤں کے وسط میں کیک لیکر آئے۔ سالوی اپنی سالگرہ اس سرسبز جنگل میں منانا چاہا تھا۔
انھوں نے کہا کہ 'یہ ایک خصوصی بات ہے۔' ہم نے سوچا کہ کیوں کچھ مختلف نہیں کیا جاتا؟'
حالات بدل گئے ہیں
جب رُوچیکا پیدا ہوئی تو سالوی اور ان کی بیوی نے درخت لگائے، حلف نامے پر دستخط کیے اور ان کے لیے فکسڈ ڈپازٹ اکاؤنٹ کھولا۔
سالوی نے کہا 'بڑے ہونے کے بعد انھیں اپنی مرضی کے مطابق کرنے دیں گے۔ جب وہ پیدا ہوئی تو ایسا لگا تھا جیسے لکشمی دیوی ہمارے گھر آئی تھی۔'
سالوی اپنی بیٹی کو سکول میں داخل کروائیں گے، جہاں پرائمری سطح تک مفت تعلیم دی جاتی ہے۔ درحقیقت یہاں کے نو سرکاری سکولوں میں سے ایک میں لڑکوں اور لڑکیوں کے داخلے کا تناسب 33:19 ہے۔
'سکولوں کے ایک مقامی پرنسپل گیرداری لال جاٹیا نے کہا کہ 'ذات پات کے پس منظر سے قطع نظر، کسی کو بھی پیچھے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ پچھلے 10 سالوں سے ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ لڑکیوں کی تعداد سکولوں میں بڑھ رہی ہے۔ پہلے لڑکیوں کی تعداد کم ہوتی تھی۔'
یانا پالی وال (نکیتا یا شیام سندر سے کوئی تعلق نہیں) جو صرف دو سال کی ہے، ابھی تک یہ نہیں سمجھ سکتی کہ ان کے نام پر درخت لگائے گئے ہیں یا ان کے والدین کو اُن سے بہت زیادہ امید ہے۔
ان کی ماں، سنگیتا پالی وال، جو 12 سال قبل شادی کے بعد پیپلنتری آئی تھی، لڑکیوں کی تعلیم تک ان کی بہت کم رسائی تھی۔ لیکن وہ پرعزم ہیں کہ ان کی بیٹی کو پہلے تعلیم حاصل کرنی چاہیے اور بعد میں شادی کے بارے میں سوچنا چاہیے۔
سنگیتا اپنے ہی گاؤں میں قدامت پسندانہ رسم و رواج کے مطابق چہرے کو گھونگٹ سے ڈھانپتی تھی، لیکن پیپلنتری گاؤں میں نہیں۔ یہاں وہ فاصلاتی تعلیم (ڈِسٹینس لرننگ) کے ذریعے اپنی کالج کی ڈگری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی، وہ اب گاڑی چلاتی ہیں اور انھوں نے کام بھی کرنا شروع کردیا ہے۔
وہکہتی ہیں 'حالات بدل گئے ہیں۔'