آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

اسرائیل کا حماس کے سربراہ کے گھر پر لڑاکا طیاروں سے حملے کا دعویٰ: اسماعیل ہنیہ کون ہیں؟

اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے لڑاکا طیاروں سے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے گھر پر حملہ کیا ہے۔ ادھر امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ وقت سے پہلے اس متعلق کچھ بولنا نہیں چاہتے مگر امریکہ کو قطر سے بہت تعاون مل رہا ہے، جو اسرائیل اور حماس کے درمیان ان یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق ڈیل پر مذاکرات کرا رہا ہے۔

لائیو کوریج

  1. سیٹلائٹ سے لی گئی تصویر میں ہسپتال کے قریب اسرائیلی فوجی گاڑیاں دکھائی دے رہی ہیں

    14 نومبر کو مقامی وقت کے مطابق دو پہر 2 بج کر 53 منٹ پر سیٹلائٹ کی مدد سے لی گئی ایک تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی افواج کی بکتربند گاڑیاں غزہ شہر میں الشفا ہسپتال سے تقریبا 300 میٹر شمال اور جنوب میں موجود ہیں۔

    بی بی سی ویریفائی نے سیٹلائٹ سے لی جانے والی تصاویر کی جانچ کرنے والی کمپنی ’پلینیٹ لیبز‘ کی مدد سے اس تصویر کا تجزیہ کیا ہے۔ اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ الشتیعہ پرائمری سکول کے قریب ہسپتال کے شمال میں تقریبا 20 گاڑیاں ہیں جن میں ٹینک اور بلڈوزر بھی شامل ہیں۔

    ایسا لگتا ہے کہ چھوٹے چھوٹے کلسٹر، جن میں تقریبا 10 مزید گاڑیاں ہیں، 250 میٹر جنوب میں کھلے میدان میں واقع ہیں۔

  2. الشفا میں مریضوں اور عملے کے لیے ڈبلیو ایچ او کی جانب سے تشویش کا اظہار

    عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ وہ غزہ کے الشفا ہسپتال کے مریضوں اور عملے کے لیے 'انتہائی فکرمند' ہیں، جس پر اسرائیلی فوجیوں نے رات بھر مسلح کارروائیاں جاری رکھیں۔

    ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے کہا ہے کہ ’الشفا ہسپتال میں فوجی مداخلت کی اطلاعات انتہائی تشویش ناک ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارا ہسپتال میں طبی عملے سے دوبارہ رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ جس کے بعد سے ہم ان کی اور ان کے مریضوں کی حفاظت کے بارے میں بہت فکرمند ہیں۔‘

    فلسطینیوں کے لیے برطانوی خیراتی ادارے میڈیکل ایڈ نے بھی تشویش کا اظہار کیا اور اس کی سی ای او میلانیا وارڈ کا کہنا تھا کہ ’ہسپتال کے اندر یہ آپریشن ہونے سے پہلے ہم ان لوگوں کی زندگیوں کے بارے میں بہت فکرمند تھے جو پہلے سے ہی وہاں موجود تھے کیونکہ ان کے پاس خوراک، پانی اور ایندھن تک رسائی نہیں تھی۔‘

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ہسپتال میں ’ٹارگیٹڈ آپریشن‘ کر رہی ہے، جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ حماس کا ’اہم ٹھکانہ‘ ہو سکتا ہے۔

  3. رفح کراسنگ کے راستے غزہ میں 25 ہزار لیٹر ایندھن پہنچا دیا گیا

    ایک مقامی مصری سرحدی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مصر میں رفح کراسنگ کے راستے آج صبح تقریبا 25 ہزار لیٹر ایندھن غزہ روانہ کیا گیا ہے۔

    یہ امداد اقوام متحدہ اور خیراتی ادارے میڈیسنز سانز فرنٹیئرز کی جانب سے غزہ میں حالات کی سنگینی کو اُجاگر کرنے کے بعد پہنچائی گئی ہے۔ یاد رہے کہ دونوں اداروں جکی جانب سے اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ بدھ کے روز غزہ میں ایندھن کا ذخیرہ ختم ہو جائے گا۔

    اسرائیل نے غزہ میں گزشتہ کئی ہفتوں سے ایندھن کی فراہمی کو معطل کر رکھا ہے، اور دلیل یہ دی جا ری ہے کہ حماس اسرائیل کے خلاف اس ایندھن کو استعمال کر سکتا ہے۔

    قبل ازیں اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ غزہ کے لیے امداد لے جانے والے اقوام متحدہ کے کچھ ٹرکوں میں بدھ کے روز ایندھن بھرا جائے گا۔

  4. غزہ کی تازہ ترین صورتحال

    اسرائیلی فوج نے غزہ کے الشفا ہسپتال کو گھیرے میں لے کر وہاں ٹینکوں سمیت آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    امریکہ نے اسرائیل کی انٹیلیجنس معلومات کی حمایت کی تھی مگر آپریشن کے بعد وائٹ ہاؤس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ہسپتالوں میں مسلح لڑائی اور فضائی بمباری کی حمایت نہیں کر سکتے۔

    حماس نے اسرائیلی فوج کے الشفا پر حملے کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ان کی طرف سے گرین سگنل ملنے کے بعد اسرائیلی فوج نے ہسپتال پر چڑھائی کی ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کے سب سے بڑے الشفا ہسپتال کے ایک خاص حصے میں انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر ایک ٹارگٹڈ آپریشن کر رہی ہے۔

    عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اسرائیلی فوجی اور ٹینک الشفا ہسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے اندر داخل ہو گئے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس ہسپتال میں سینکڑوں مریض زیر علاج ہیں اور ہزاروں عام شہری پناہ لیے ہوئے ہیں۔

    انسانی امداد پہنچانے والے کارکنوں نے الشفا ہسپتال کے اندر کے بھیانک مناظر سے متعلق بتایا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس ہسپتال کو ایندھن کی کمی کا بھی سامنا ہے، جس کی وجہ سے اب یہاں مریضوں کی دیکھ بھال تقریباً ناممکن ہو کر رہی گئی ہے۔ اس ہسپتال میں وقت سے پہلے پیدا ہونے والے 36 نومولود بچے بھی داخل ہیں، جنھیں بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے انکیوبیوٹر سے ہٹا دیا گیا ہے۔

    الشفا ہسپتال کے سرجری کے شعبے کے سربراہ نے بتایا کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ان بچوں میں سے تین کی موت واقع ہو گئی ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کا کہنا ہے حماس کا الشفا ہسپتال کے نیچے کمانڈ سسٹم موجود ہے۔ حماس نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔

  5. شمالی غزہ میں اس وقت صرف ایک ہسپتال کی سہولت دستیاب ہے: اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس وقت غزہ شہر اور شمالی غزہ میں صرف ایک ہسپتال محدود پیمانے پر فعال ہے۔

    اس ہسپتال جو مریض داخل ہیں ان کو کسی حد علاج معالجے کی سہولیات بہم پہنچائی جا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں تمام دیگر ہسپتال بجلی کی کمی، علاج معالجے کے لیے ضروری چیزوں کی عدم دستیابی اور اسرائیلی فوج کی بمباری کی وجہ سے آکسیجن، خوراک اور پانی کی قلت سے بند ہو گئے ہیں۔

    اس وقت الاہلی عرب ہسپتال میں 500 سے زائد مریض زیر علاج ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ واحد ہسپتال ہے جہاں اب بھی مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس ہسپتال کو بھی ضروری سازوسامان اور اشیا کی دستیابی میں کمی کا سامنا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ایندھن کی کمی، بمباری سے تباہی، حملوں اور غیریقینی صورتحال میں اس وقت غزہ میں 36 میں سے 22 ہسپتال اس وقت ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔

    اس ادارے نے خبردار کیا ہے کہ شمالی حصے کے ہسپتالوں سے اسرائیلی فوج کی طرف سے مریضوں کے انخلا کا حکم ان مریضوں کے لیے سزائے موت کے برابر ہی ہوگا کیونکہ انھیں دوبارہ جنوبی حصے کے ہسپتالوں میں داخلہ نہیں مل سکے گا۔

  6. ’حماس کا الشفا ہسپتال کے نیچے کمانڈ سینٹر موجود ہے‘: امریکہ

    امریکہ نے کہا ہے کہ اس کی انٹیلیجنس سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق حماس کا غزہ شہر کے الشفا ہسپتال کے نیچے کمانڈ سینٹر ہے۔

    نیشنل سکیورٹی کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ حماس کا وہاں اسلحے کا ذخیرہ ہے، جہاں سے اس نے اسرائیل پر حملے کی تیاری کر رکھی تھی۔

    یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے اپنے قریبی اتحادی اسرائیل کے ان دعوؤں کی حمایت کی ہے کہ حماس اپنے فوجی اڈوں کے لیے ہسپتالوں کو استعمال کر رہا ہے۔ حماس نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔

    امریکی بیان ایک ایسے موقعے پر سامنے آیا ہے جب اسرائیلی پر دنیا بھر کا یہ دباؤ تھا کہ وہ ہسپتال میں پھنسے عام شہریوں کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنائِ۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ ہسپتال کے قریب شدید لڑائی سے الشفا ہسپتال کا ہر صورت میں تحفظ یقینی بنایا جائے۔

    برطانیہ کے وزیراعظم رشی سونک نے کہا ہے کہ اسرائیل کو بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرنی ہو گی۔

  7. حماس نے الشفا ہسپتال کے محاصرے کا ذمہ دار امریکی صدر کو قرار دیا

    حماس نے غزہ کے سب سے بڑے الشفا ہسپتال کے اسرائیلی فوج کی طرف سے محاصرے کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

    حماس نے کہا ہے کہ اس اسرائیلی اقدام کے امریکی صدر واحد ذمہ دار شخص ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے ترجمے کے مطابق ’حماس نے اس اسرائیلی قبضے کے لیے صدر بائیڈن اور قابض فوج کو الشفا ہسپتال پر حملے کا اس ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔‘

    حماس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی طرف سے اسرائیلی دعوؤں کہ الشفا کو حماس فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے کی امریکہ کی طرف سے اجازت ملنے پر اسرائیل نے یہ حملہ کیا ہے۔

  8. امریکہ صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کا تازہ ترین رابطہ

    بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کا فون پر رابطہ ہوا ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے حماس کی طرف سے یرغمال بنائے گئے افراد، جن میں متعدد بچے اور امریکی شہری بھی ہیں، کی محفوظ رہائی سے متعلق جاری کوششوں سے متعلق تفصیل سے بات کی ہے۔

  9. اسرائیلی فوج کے محاصرے میں الشفا ہسپتال میں اس وقت کتنے افراد ہیں؟

    غزہ کی الشفا ہسپتال، جو اس وقت اسرائیلی فوج کے محاصرے میں ہے، میں اس وقت ہزاروں مریض اور عام شہری پناہ لیے ہوئے ہیں۔

    تاہم یہ اندازہ تھوڑا مختلف ہو سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اس سے قبل منگل کو کہا تھا کہ اس وقت الشفا ہسپتال میں 700 مریض زیر علاج ہیں، 400 عملے کے افراد ہیں جبکہ 3000 عام شہری یہاں جنگ سے بچنے کے لیے پناہ لیے ہوئے ہیں۔

    حماس کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ اس وقت ہسپتال کے اندر کم از کم 2300 افراد موجود ہیں، جن میں 650 مریض، دو سو سے پانچ سو تک عملے کے افراد اور تقریباً 1500 تک عام شہری موجود ہیں۔

  10. ہم ہسپتال میں مسلح لڑائی نہیں دیکھنا چاہتے: امریکہ

    وائٹ ہاؤس نے غزہ کی الشفا ہسپتال میں اسرائیلی فوج کے داخلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ہسپتال میں فائرنگ اور مسلح لڑائی نہیں دیکھنا چاہتا۔

    وائٹ ہاؤس کے نیشنل سکیورٹی کونسل کے ترجمان نے اپنے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہم فضا سے ہسپتال پر بمباری کی حمایت نہیں کرتے اور نہ ہی ہسپتال میں جہاں معصوم، بے سہارا اور مریض زیر علاج ہیں مسلح لڑائی نہیں دیکھنا چاہتے۔‘

    اس بیان میں امریکی صدر جو بائیڈن کے گذشتہ روز کے بیان کو دہرایا گیا ہے کہ ہسپتال اور مریضوں کو ہر صورت تحفظ ملنا چاہیے۔

  11. غزہ کی الشفا ہسپتال میں اسرائیلی فوجی ٹینکوں سمیت داخل: عینی شاہدین, رشدی ابوالؤف

    غزہ کے الشفا ہسپتال میں اسرائیلی فوجی ٹینکوں سمیت داخل ہو گئے ہیں۔ اس ہسپتال میں موجود عینی شاہد خادر زاناؤن نے بی بی سی کو بتایا کہ میں نے ہسپتال کے اندر چھے اسرائیلی فوج کے ٹینک اور سو سے زائد اسرائیلی فوجی دیکھے ہیں۔ وہ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے مرکزی گیٹ سے داخل ہوئے۔ ان میں سے کچھ فوجیوں نے ماسک پہن رکھے تھے اور وہ عربی میں چیخ کر کہہ رہے تھے کہ ’کوئی اپنی جگہ سے نہ ہلے‘۔

    بی بی سی اس خبر کی آزادانہ طور پر ابھی تک تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

  12. بی بی سی کی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید!

    حماس اور اسرائیل کے تنازع سے متعلق بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!