یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے
بی بی سی کی غزہ۔اسرائیل جنگ پر بی بی سی کی لائیو پیج کوریج کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
غزہ شہر میں واقع سب سے بڑے ہسپتال ’الشفا‘ کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ ہسپتال میں موجود 179 افراد کی میتوں کو ہسپتال کے احاطے میں بنائی جانے والی ایک اجتماعی قبر میں دفنا دیا گیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کی جانب سے گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران الشفا ہسپتال سے کسی بھی شخص یا امدادی سامان کو باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
بی بی سی کی غزہ۔اسرائیل جنگ پر بی بی سی کی لائیو پیج کوریج کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔
برطانیہ اور امریکہ نے حماس کے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے بعد پابندیوں کے تیسرے دور کا اعلان کیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ ’ان پابندیوں میں حماس کے اہم عہدیداروں اور اُس راستےکو نشانہ بنایا جائے گا یا روکا جائے گا کہ جن کے ذریعے ایران حماس اور فلسطینی عسکریت پسندوں کی مبینہ طور پر حمایت کرتا ہے۔‘
پابندی کے اس تیسرے دور میں بعض افراد کو سفری پابندیوں، اثاثے منجمد کرنے اور اسلحے کی پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ان پابندیوں کا نشانہ بننے والوں میں ایران میں فلسطینی عسکریت پسند گروہ کے نمائندے ناصر ابو شریف کے ساتھ ساتھ لبنان میں قائم منی ایکسچینج بھی شامل ہے جو مبینہ طور پر حماس اور تہران کے درمیان رقم کی منتقلی کے نظام کو سنبھالتا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار رشدی ابوالوف کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں سے الشفا ہسپتال سے کسی بھی شخص یا امدادی سامان کو باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
ہسپتال میں موجود چند صحافیوں میں سے ایک نے بی بی سی کے رشدی کو بتایا کہ ’چار افراد نے گزشتہ روز الشفا ہسپتال چھوڑنے کی کوشش کی تھی لیکن ان کی ٹانگوں میں گولی لگی اور وہ تقریبا دو گھنٹے تک خون میں لت پت پڑے رہے۔‘
ذرائع نے ابوالوف کو بتایا کہ ’ کہ ان زخمیوں کو ہسپتال کے عملے نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ہسپتال کے احاطے میں لا کر طبی امداد دی۔‘
برطانوی وزیرِ خارجہ اینڈریو مچل نے ارکان پارلیمنٹ کو غزہ میں مزید امداد بھیجنے کے برطانیہ کے منصوبوں کے بارے میں تازہ ترین معلومات فراہم کی ہیں۔
اسرائیل اور غزہ کی صورت حال پر حکومت کے ردعمل کے بارے میں ایوان زیرین میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’برطانیہ قبرص میں اپنے فوجی اڈوں سمیت مزید امداد بھیجنے کے لیے ’فضائی اور سمندری آپشنز‘ استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے۔
مچل نے کہا کہ ’ہم اسرائیلی حکومت پر بھی زور دے رہے ہیں کہ وہ رفح اور کریم شالوم کراسنگ کو کھول کر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رسائی میں اضافہ کرے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس موقع پر ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ غزہ میں انسانی امداد پہنچانے کے لیے زمینی راستہ سب سے اہم ہے، لیکن ہم قبرص میں اپنے اڈوں سمیت فضائی اور سمندری آپشنز پر بھی غور کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے ارکان پارلیمنٹ کو بتایا کہ ’مزید برطانوی شہری غزہ سے رفح کراسنگ کے ذریعے مصر میں داخل ہوئے ہیں تاہم انھوں نے درست تعداد نہیں بتائی۔‘
اس سے قبل بی بی سی کے نامہ نگار رشدی ابوالوف نے خبر دی تھی کہ غزہ شہر کے سب سے بڑے ہسپتال الشفاء سے انھیں یہ معلوم ہوا ہے کہ وہاں ایک اجتماعی قبر میں 170 لاشیں دفنائی جا رہی ہیں۔
اس خبر کے سامنے آنے کے بعد الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر کے مطابق بچوں سمیت 179 افراد کو ہسپتال کے احاطے میں بنائی جانے والی ایک اجتماعی قبر میں دفنایا گیا ہے۔
الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ کا کہنا ہے کہ ’ہسپتال کے احاطے میں لاشیں پڑی ہوئی ہیں اور مردہ خانوں میں اب نا تو بجلی ہے اور نا ہی بجلی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس صورت کی وجہ سے ہم انھیں (لاشوں) اجتماعی قبر میں دفن کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔‘
سلمیہ نے مزید کہا کہ ’بجلی کی کٹوتی کی وجہ سے ہسپتال کے اہم آلات بند پڑے ہیں جس کی وجہ سے مریضوں کی موت ہوئی۔
شمالی غزہ میں حماس اور اسرائیلی افواج کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے، اب تک کی تازہ صورتحال
بی بی سی کے غزہ سے نامہ نگار راشدی ابو الوف کے مطابق انھوں نے غزہ شہر کے الشفا ہسپتال کے اندر باقی رہ جانے والے کچھ صحافیوں سے بات کی ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک نے مجھے بتایا کہ ’ہسپتال کے ایک چھوٹے سے صحن میں تقریبا 170 لاشوں کے لئے اجتماعی قبر تیار کی گئی ہے، جہاں انھوں نے تقریبا 30 لاشوں کو قبر میں ڈالتے ہوئے دیکھا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’اسرائیلی بمبادی کی وجہ سے ہسپتال کے ایک حصے سے دوسری جانب جانا انتہائی خطرناک ہے، یہاں تک کہ لاشوں کو دفنانا بھی ناممکن دیکھائی دے رہا ہے کیونکہ ٹینک اس مرکز کے ارد گرد موجود ہیں۔‘
راشدی کہتے ہیں کہ ’جیسا کہ میں نے پہلے بتایا تھا، کل ہسپتال کے احاطے کے تین اطراف میں ٹینک تھے، لیکن رات گزرنے کے بعد اب وہ مرکزی دروازے کے قریب ہیں۔‘
راشدے کا کہنا ہے کہ ’میرے ذرائع کے مطابق ہسپتال انتظامیہ کا اسرائیلی حکام کے ساتھ رابطہ ناممکن دیکھائی دے رہا ہے اور ایسی صورتحال میں تیسرے فریق کی مداخلت اہم ہے، اور ہسپتال کو بجلی فراہم کرنے کے لیے ایندھن کے لیے مذاکرات اب نا گُزیر ہو گئے ہیں۔‘
اسرائیلی افواج کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں مقیم فلسطینیوں کے لیے ایک مرتبہ پھر ’صلاح الدین‘ نامی مشہور شاہراہ کو انخلا کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ انخلا کے لیے اس راستے کو اس سے قبل 5 نومبر کو کھولا گیا تھا۔
اسرائیل کی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کئی ہفتوں سے لوگوں سے کہہ رہی ہیں کہ وہ شمال میں شدید لڑائی سے بچنے کے لیے جنوب کی جانب نقل مکانی کر جائیں۔
اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اب تک تقریبا دو لاکھ افراد صلاح الدین کے راستے سے جنوبی غزہ کا رخ کر چکے ہیں۔ لاکھوں افراد، جو یا تو جنوب کی طرف جانے کے لئے تیار نہیں ہیں یا اس سے قاصر ہیں، شمال میں رہتے ہیں۔
مغربی کنارہ دریائےِ اردن کے مغربی کنارے پر واقع وہ علاقہ ہے جو شمال، مغرب اور جنوب کی جانب سے اسرائیلی علاقوں میں گھرا ہوا ہے۔ اس کے مشرق میں اردن واقع ہے۔
1967 کی مشرق وسطیٰ کی جنگ کے بعد سے اسرائیل نے اس پر قبضہ کر رکھا ہے، لیکن اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری مذاکرات نے اس کی حتمی حیثیت کو حل نہیں کیا ہے۔
21 لاکھ سے 30 لاکھ کے درمیان فلسطینی مغربی کنارے میں محدود اختیارات اور اسرائیلی افواج دونوں کے دباؤ میں زندگی گزارتے چلے آئے ہیں۔
مغربی کنارے (مشرقی یروشلم کو چھوڑ کر) تقریبا 430،000 اسرائیلی یہودیوں کا گھر ہے جو اسرائیل کے قبضے کے تحت تعمیر کردہ 130 سے زیادہ بستیوں میں رہتے ہیں۔
مقامی ہسپتال کے سربراہ نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ مغربی کنارے کے تلکریم پناہ گزین خیمہ بستی میں اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں سات فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔
تھابت ہسپتال کے سرجن ڈاکٹر امین قادر نے بی بی سی کے جوئل گنٹر کو بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہوئے جبکہ چار زخمی ہوئے۔
انھوں نے بتایا کہ 12 افراد زخمی ہوئے جن میں سے چار کی حالت تشویشناک ہے اور کچھ اب بھی آپریشن تھیٹر میں زیر علاج ہیں۔
اسرائیلی فوج اور پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی فورسز پر فائرنگ کی گئی جس کے بعد جوابی کارروائی میں متعدد فلسطینی مسلح افراد ہلاک ہوئے۔
جائے وقوعہ پر موجود ایک مقامی صحافی نے بی بی سی کے جوئل گنٹر کو بتایا کہ تھابت ہسپتال سے تقریبا 100 میٹر کی دوری پر جھڑپیں اب بھی جاری ہیں۔
مقامی صحافی نے بتایا کہ ’میں اب بھی فائرنگ اور کچھ دھماکوں کی آوازیں سن سکتا ہوں، مجھے نہیں معلوم کہ یہ اسرائیلی ہے یا فلسطینی۔ وہاں گولہ بارود کے استعمال کی وجہ سے آگ لگی ہوئی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ آئی ڈی ایف نے علاقے میں سڑکوں اور عمارتوں کو مسمار کر دیا ہے اور وہ بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ کیمپ میں موجود ہیں۔
مقامی فلسطینیوں کی جانب سے آج صبح شیئر کی جانے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی بلڈوزر سڑکوں کو توڑ رہے ہیں۔
فلسطینی اتھارٹی کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک مغربی کنارے کے کم از کم 180 فلسطینی، اسرائیلی آباد کاروں یا آئی ڈی ایف کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
اب تک کی صورتحال پر ایک نظر
مقبوضہ غرب اردن کے قصبے تلکرم میں گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران متعدد فلسطینیوں کی ہلاکت کی کافی اطلاعات ملی ہیں۔
فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق منگل کی صبح اسرائیلی ڈرون حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پانچ مذید افراد ایک اسرائیلی فوجی آپریشن کے دوران ہلاک ہوئے۔
اے ایف پی نے ایک مقامی ہسپتال کے ڈائریکٹر کا حوالہ دیا ہے جس نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کی عمریں 21 سے 29 برس کے درمیان تھیں۔
مغربی طاقتیں غزہ کی پٹی میں بڑھتی ہوئی ہلاکتوں سے تشویش میں مبتلا ہو رہی ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم رشی سونک نے اب تک جنگ بندی کا مطالبہ تو نہیں کیا لیکن ان کی حالیہ تقریر میں امریکی تنبیہ کو دہرایا گیا ہے کہ فلسطینیوں کی بہت زیادہ تعداد ہلاک ہو رہی ہے۔
برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ اسرائیل کو اپنا دفاع کرنے اور یرغمالیوں کو رہا کروانے کا حق حاصل ہے لیکن اسے بین الاقوامی قانون کے تحت کام کرنا ہو گا اور معصوم شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔
انھوں نے اسرائیل پر غرب اردن میں پرتشدد کارروائیوں کی روک تھام کرنے کے لیے بھی زور دیا اور جنگ میں فوری وقفے کا مطالبہ کیا تاکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچائی جا سکے۔
برطانوی وزیر اعظم نے دو ریاستی حل کے لیے کوششوں کو بڑھانے کا وعدہ کیا اور کہا کہ اس کے لیے فلسطینی اتھارٹی کی مدد کرنا ہو گی۔
یہ بیان رشی سونک کی جانب سے اسرائیل کو دیا جانے والا اب تک کا سب سے سخت پیغام تھا جو اس بات کا مظہر ہے کہ بین الاقوامی حمایت اب مشروط ہوتی جا رہی ہے۔
انتباہ: اس خبر میں شامل چند تفصیلات قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔
غزہ کی پٹی کے سب سے بڑے ہسپتال، الشفا، کے منیجر ڈاکٹر محمد ابو سلیمہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حالیہ دنوں میں بتیس مریضوں کی موت واقع ہو چکی ہے۔
ان میں قبل از وقت پیدا ہونے والے تین بچوں اور سات مریضوں کی موت کی وجہ آکسیجن کی کمی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ متعدد مریض، جن کو ڈائلسس کی ضرورت ہے، کی موت اگلے چند دنوں میں ہو سکتی ہے کیوں کہ یہ علاج فراہم کرنا اب ہسپتال کے لیے ممکن نہیں رہا۔
ہسپتال کے پاس فعال رہنے کے لیے ایندھن اور دیگر ضرروی وسائل تقریبا ختم ہو چکے ہیں۔ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کو انکیوبیٹرز سے نکال لیا گیا ہے کیوں کہ وہ بھی اب فعال نہیں رہے۔ ہسپال میں چھ سو سے زیادہ زخمی مریض داخل ہیں۔
بی بی سی نے ان سے سوال کیا کہ آیا اسرائیلی فوج نے مریضوں یا قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے انخلا کے لیے ان سے رابطہ کیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے ایندھن اور دیگر وسائل ہسپتال پہنچائے گئے ہیں۔
تاہم ڈاکٹر محمد ابو سلیمہ نے جواب دیا کہ نہیں، انھوں نے رابطہ نہیں کیا بلکہ ہم نے ان سے رابطہ کیا اور اب تک ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
ڈاکٹر ابو سلیمہ نے کہا کہ ہسپتال نے ریڈ کراس سے بھی رابطہ کیا تاکہ ہسپتال میں موجود ڈیڑھ سو لاشوں کو دفنانے کا انتظام کیا جا سکے۔
انھوں نے مذید بتایا – اور یہ تفصیل ایسی ہے جو قرئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہے – کہ کتے لاشوں کو نوچ رہے ہیں۔
اسرائیلی دفاعی فورسز کے ترجمان نے دعوی کیا ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں حماس کے سابق عسکری انٹیلیجنس کے سربراہ سمیت متعدد سینیئر حکام ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگاری نے کہا ہے کہ محمد خامس، جو حماس کے انٹیلیجنس یونٹ کی سربراہ تھے، دو ہزار دو میں ہونے والے ایک حملے میں بھی ملوث تھے جس میں پانچ اسرائیلی ہلاک ہو گئے تھے۔
جن حماس حکام کی ہلاکت کا دعوی کیا گیا ہے ان میں خان یونس بریگیڈ کے اینٹی ٹینک میزائل یونٹ کے سربراہ یعقوب آشور بھی شامل ہیں۔
ان کے علاوہ اسرائیل نے دعوی کیا ہے کہ تحسین مسلم، جہاد اعظم اور منیر حریب بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔
غزہ کی پٹی میں سات اکتوبر کے بعد سے اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد گیارہ ہزار دو سو چالیس ہو چکی ہے۔
حماس کے زیر اثر میڈیا آفس کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار ہزار چھ سو تیس بچے اور تین ہزار ایک سو تین خواتین بھی شامل ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ ان کو غزہ کی پٹی کی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ان اعداد و شمار پر اعتماد ہے۔
غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال الشفا میں موجود ڈاکٹروں کے مطابق ایندھن کی کمی اور قرب و جوار میں لڑائی کی وجہ سے ہسپتال کے حالات کافی مخدوش ہو چکے ہیں۔
جب امریکی صدر جو بائیڈن سے اس ہسپتال کی صورت حال کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ہسپتال کو محفوظ رکھنا ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ میری امید اور توقع ہے کہ ہسپتال میں مداخلت نہیں ہو گی۔ ان کے مطابق اس معاملے پر انھوں نے اسرائیل سے بھی رابطہ کیا ہے۔
امریکی صدر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ لڑائی میں عام شہریوں کو نقصان پہنچے۔ تاہم ترجمان نے یہ بھی کہا کہ حماس کو چاہیے کہ ہسپتالوں کو استعمال نہ کرے۔
ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ حماس کو چاہیے کہ اپنا ایندھن شمالی غزہ میں ہسپتالوں کو فراہم کرے۔ حماس اور الشفا ہسپتال نے اسرائیل کے ان دعؤوں کی تردید کی ہے کہ ہسپتال کے نیچے زیر زمین حماس کا کمانڈ مرکز ہے۔