’ہسپتال کے صحن میں بنائی گئی اجتماعی قبر میں 179 فلسطینیوں کو دفنا دیا گیا،‘ ڈائریکٹر الشفا ہسپتال

غزہ شہر میں واقع سب سے بڑے ہسپتال ’الشفا‘ کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ ہسپتال میں موجود 179 افراد کی میتوں کو ہسپتال کے احاطے میں بنائی جانے والی ایک اجتماعی قبر میں دفنا دیا گیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کی جانب سے گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران الشفا ہسپتال سے کسی بھی شخص یا امدادی سامان کو باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے

    بی بی سی کی غزہ۔اسرائیل جنگ پر بی بی سی کی لائیو پیج کوریج کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

  2. اسرائیل کا حماس کے سربراہ کے گھر پر لڑاکا طیاروں سے حملے کا دعویٰ: اسماعیل ہنیہ کون ہیں؟

  3. برطانیہ اور امریکہ کی جانب حماس پر پابندیوں کے تیسرے دور کا آغاز

    برطانیہ اور امریکہ نے حماس کے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے بعد پابندیوں کے تیسرے دور کا اعلان کیا ہے۔

    امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ ’ان پابندیوں میں حماس کے اہم عہدیداروں اور اُس راستےکو نشانہ بنایا جائے گا یا روکا جائے گا کہ جن کے ذریعے ایران حماس اور فلسطینی عسکریت پسندوں کی مبینہ طور پر حمایت کرتا ہے۔‘

    پابندی کے اس تیسرے دور میں بعض افراد کو سفری پابندیوں، اثاثے منجمد کرنے اور اسلحے کی پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    ان پابندیوں کا نشانہ بننے والوں میں ایران میں فلسطینی عسکریت پسند گروہ کے نمائندے ناصر ابو شریف کے ساتھ ساتھ لبنان میں قائم منی ایکسچینج بھی شامل ہے جو مبینہ طور پر حماس اور تہران کے درمیان رقم کی منتقلی کے نظام کو سنبھالتا ہے۔

  4. ہسپتال سے نکلنے کی کوشش کرنے والے افراد پر اسرائیلی فورسز کی فائرنگ

    بی بی سی کے نامہ نگار رشدی ابوالوف کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں سے الشفا ہسپتال سے کسی بھی شخص یا امدادی سامان کو باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

    ہسپتال میں موجود چند صحافیوں میں سے ایک نے بی بی سی کے رشدی کو بتایا کہ ’چار افراد نے گزشتہ روز الشفا ہسپتال چھوڑنے کی کوشش کی تھی لیکن ان کی ٹانگوں میں گولی لگی اور وہ تقریبا دو گھنٹے تک خون میں لت پت پڑے رہے۔‘

    ذرائع نے ابوالوف کو بتایا کہ ’ کہ ان زخمیوں کو ہسپتال کے عملے نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ہسپتال کے احاطے میں لا کر طبی امداد دی۔‘

  5. ’برطانیہ غزہ میں امداد پہنچانے کے لیے ’فضائی اور سمندری‘ راستوں کے استعمال پر غور کر رہا ہے‘ برطانوی وزیرِ خارجہ

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    برطانوی وزیرِ خارجہ اینڈریو مچل نے ارکان پارلیمنٹ کو غزہ میں مزید امداد بھیجنے کے برطانیہ کے منصوبوں کے بارے میں تازہ ترین معلومات فراہم کی ہیں۔

    اسرائیل اور غزہ کی صورت حال پر حکومت کے ردعمل کے بارے میں ایوان زیرین میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’برطانیہ قبرص میں اپنے فوجی اڈوں سمیت مزید امداد بھیجنے کے لیے ’فضائی اور سمندری آپشنز‘ استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے۔

    مچل نے کہا کہ ’ہم اسرائیلی حکومت پر بھی زور دے رہے ہیں کہ وہ رفح اور کریم شالوم کراسنگ کو کھول کر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رسائی میں اضافہ کرے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس موقع پر ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ غزہ میں انسانی امداد پہنچانے کے لیے زمینی راستہ سب سے اہم ہے، لیکن ہم قبرص میں اپنے اڈوں سمیت فضائی اور سمندری آپشنز پر بھی غور کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے ارکان پارلیمنٹ کو بتایا کہ ’مزید برطانوی شہری غزہ سے رفح کراسنگ کے ذریعے مصر میں داخل ہوئے ہیں تاہم انھوں نے درست تعداد نہیں بتائی۔‘

  6. ’ہسپتال کے صحن میں بنائی جانے والی اجتماعی قبر میں 179 فلسطینیوں کو دفنا دیا گیا‘ ڈائریکٹر الشفا ہسپتال

    اس سے قبل بی بی سی کے نامہ نگار رشدی ابوالوف نے خبر دی تھی کہ غزہ شہر کے سب سے بڑے ہسپتال الشفاء سے انھیں یہ معلوم ہوا ہے کہ وہاں ایک اجتماعی قبر میں 170 لاشیں دفنائی جا رہی ہیں۔

    اس خبر کے سامنے آنے کے بعد الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر کے مطابق بچوں سمیت 179 افراد کو ہسپتال کے احاطے میں بنائی جانے والی ایک اجتماعی قبر میں دفنایا گیا ہے۔

    الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ کا کہنا ہے کہ ’ہسپتال کے احاطے میں لاشیں پڑی ہوئی ہیں اور مردہ خانوں میں اب نا تو بجلی ہے اور نا ہی بجلی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس صورت کی وجہ سے ہم انھیں (لاشوں) اجتماعی قبر میں دفن کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔‘

    سلمیہ نے مزید کہا کہ ’بجلی کی کٹوتی کی وجہ سے ہسپتال کے اہم آلات بند پڑے ہیں جس کی وجہ سے مریضوں کی موت ہوئی۔

  7. اسرائیلی فوج حماس کے حملے میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی لاشوں کی تلاش میں شکاری پرندوں کا کیسے استعمال کر رہی ہے؟

  8. غزہ کے ہسپتال جنگ کی زد میں، گزشتہ چند گھنٹوں کی چند اہم خبریں

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    شمالی غزہ میں حماس اور اسرائیلی افواج کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے، اب تک کی تازہ صورتحال

    • بی بی سی کے نامہ نگار رشدی ابو الوف کا کہنا ہے کہ انھیں غزہ شہر کے سب سے بڑے ہسپتال الشفا کے اندر ایک اندازے کے مطابق 170 لاشوں کے لیے ایک اجتماعی قبر کے کھودے جانے کی اطلاع ملی ہے۔
    • غزہ کے ہسپتال شدید لڑائی کی زد میں ہیں، اب تک آئی ڈی ایف کی سب سے زیادہ توجہ الشفا پر مرکوز ہے۔
    • اگرچہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ہسپتالوں کو براہ راست نشانہ نہیں بنا رہا ہے، لیکن ان کی جانب سے الشفا اور دیگر تنصیبات کے ارد گرد ’شدید جھڑپوں‘ کا اعتراف کیا ہے۔
    • اسرائیلی فوج حماس پر الشفاء ہسپتال کی عمارت کے نیچے کمانڈ سینٹر قائم کرنے کا الزام لگاتی رہی ہے تاہم حماس کی جانب سے اس کی تردید کی جاتی رہی ہے۔
    • اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے بھی 19 سالہ نوا مرسیانو کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جنھیں گذشتہ ماہ حماس نے اغوا کیا تھا۔
    • دریں اثنا ایک مقامی ہسپتال کے سربراہ کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے کے تلکریم پناہ گزین کیمپ میں آئی ڈی ایف کے ساتھ جھڑپوں کے بعد سات فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔
  9. غزہ کے الشفا ہسپتال میں 170 لاشوں کی اجتمائی قبر میں تدفین کی اطلاعات

    غزۃ

    بی بی سی کے غزہ سے نامہ نگار راشدی ابو الوف کے مطابق انھوں نے غزہ شہر کے الشفا ہسپتال کے اندر باقی رہ جانے والے کچھ صحافیوں سے بات کی ہے۔

    اُن کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک نے مجھے بتایا کہ ’ہسپتال کے ایک چھوٹے سے صحن میں تقریبا 170 لاشوں کے لئے اجتماعی قبر تیار کی گئی ہے، جہاں انھوں نے تقریبا 30 لاشوں کو قبر میں ڈالتے ہوئے دیکھا ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’اسرائیلی بمبادی کی وجہ سے ہسپتال کے ایک حصے سے دوسری جانب جانا انتہائی خطرناک ہے، یہاں تک کہ لاشوں کو دفنانا بھی ناممکن دیکھائی دے رہا ہے کیونکہ ٹینک اس مرکز کے ارد گرد موجود ہیں۔‘

    راشدی کہتے ہیں کہ ’جیسا کہ میں نے پہلے بتایا تھا، کل ہسپتال کے احاطے کے تین اطراف میں ٹینک تھے، لیکن رات گزرنے کے بعد اب وہ مرکزی دروازے کے قریب ہیں۔‘

    راشدے کا کہنا ہے کہ ’میرے ذرائع کے مطابق ہسپتال انتظامیہ کا اسرائیلی حکام کے ساتھ رابطہ ناممکن دیکھائی دے رہا ہے اور ایسی صورتحال میں تیسرے فریق کی مداخلت اہم ہے، اور ہسپتال کو بجلی فراہم کرنے کے لیے ایندھن کے لیے مذاکرات اب نا گُزیر ہو گئے ہیں۔‘

  10. آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ جنوبی غزہ کے لیے انخلا کا راستہ دوبارہ کھول دیا گیا ہے

    اسرائیلی افواج کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں مقیم فلسطینیوں کے لیے ایک مرتبہ پھر ’صلاح الدین‘ نامی مشہور شاہراہ کو انخلا کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ انخلا کے لیے اس راستے کو اس سے قبل 5 نومبر کو کھولا گیا تھا۔

    اسرائیل کی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کئی ہفتوں سے لوگوں سے کہہ رہی ہیں کہ وہ شمال میں شدید لڑائی سے بچنے کے لیے جنوب کی جانب نقل مکانی کر جائیں۔

    اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اب تک تقریبا دو لاکھ افراد صلاح الدین کے راستے سے جنوبی غزہ کا رخ کر چکے ہیں۔ لاکھوں افراد، جو یا تو جنوب کی طرف جانے کے لئے تیار نہیں ہیں یا اس سے قاصر ہیں، شمال میں رہتے ہیں۔

  11. مغربی کنارہ کہاں واقع ہے اور وہاں کون آباد ہے؟

    غزہ

    مغربی کنارہ دریائےِ اردن کے مغربی کنارے پر واقع وہ علاقہ ہے جو شمال، مغرب اور جنوب کی جانب سے اسرائیلی علاقوں میں گھرا ہوا ہے۔ اس کے مشرق میں اردن واقع ہے۔

    1967 کی مشرق وسطیٰ کی جنگ کے بعد سے اسرائیل نے اس پر قبضہ کر رکھا ہے، لیکن اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری مذاکرات نے اس کی حتمی حیثیت کو حل نہیں کیا ہے۔

    21 لاکھ سے 30 لاکھ کے درمیان فلسطینی مغربی کنارے میں محدود اختیارات اور اسرائیلی افواج دونوں کے دباؤ میں زندگی گزارتے چلے آئے ہیں۔

    مغربی کنارے (مشرقی یروشلم کو چھوڑ کر) تقریبا 430،000 اسرائیلی یہودیوں کا گھر ہے جو اسرائیل کے قبضے کے تحت تعمیر کردہ 130 سے زیادہ بستیوں میں رہتے ہیں۔

  12. مغربی کنارے کے پناہ گزین کیمپ میں ہلاکت خیز جھڑپیں

    مقامی ہسپتال کے سربراہ نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ مغربی کنارے کے تلکریم پناہ گزین خیمہ بستی میں اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں سات فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔

    تھابت ہسپتال کے سرجن ڈاکٹر امین قادر نے بی بی سی کے جوئل گنٹر کو بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہوئے جبکہ چار زخمی ہوئے۔

    انھوں نے بتایا کہ 12 افراد زخمی ہوئے جن میں سے چار کی حالت تشویشناک ہے اور کچھ اب بھی آپریشن تھیٹر میں زیر علاج ہیں۔

    اسرائیلی فوج اور پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی فورسز پر فائرنگ کی گئی جس کے بعد جوابی کارروائی میں متعدد فلسطینی مسلح افراد ہلاک ہوئے۔

    جائے وقوعہ پر موجود ایک مقامی صحافی نے بی بی سی کے جوئل گنٹر کو بتایا کہ تھابت ہسپتال سے تقریبا 100 میٹر کی دوری پر جھڑپیں اب بھی جاری ہیں۔

    مقامی صحافی نے بتایا کہ ’میں اب بھی فائرنگ اور کچھ دھماکوں کی آوازیں سن سکتا ہوں، مجھے نہیں معلوم کہ یہ اسرائیلی ہے یا فلسطینی۔ وہاں گولہ بارود کے استعمال کی وجہ سے آگ لگی ہوئی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ آئی ڈی ایف نے علاقے میں سڑکوں اور عمارتوں کو مسمار کر دیا ہے اور وہ بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ کیمپ میں موجود ہیں۔

    مقامی فلسطینیوں کی جانب سے آج صبح شیئر کی جانے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی بلڈوزر سڑکوں کو توڑ رہے ہیں۔

    فلسطینی اتھارٹی کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک مغربی کنارے کے کم از کم 180 فلسطینی، اسرائیلی آباد کاروں یا آئی ڈی ایف کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

  13. غزہ اسرائیل کشیدگی

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اب تک کی صورتحال پر ایک نظر

    • عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ غزہ شہر کا سب سے بڑا اسپتال الشفاء ’تقریبا ایک قبرستان‘ بن چُکا ہے، جس کے اندر اور باہر لاشوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے۔
    • غزہ میں ایک رابطہ کار نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا ہے کہ حالیہ دنوں میں ہسپتال کے قریب لڑائی جاری ہے اور یہ سارا علاقہ ٹینکوں سے گھرا ہوا ہے۔
    • اسرائیلی افواج کی جانب سے متعدد بار حماس پر الشفاء کے نیچے کمانڈ سینٹر قائم کرنے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے، لیکن حماس کی جانب سے اسرائیل کے اس الزام کی تردید کی جاتی رہی ہے۔
    • قبل از وقت پیدا ہونے والے اور نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت کو لیکر ہسپتال کے عملے میں تشویش پائی جاتی ہے، کیونکہ علاقے بھر میں بجلی کی بندش کے بعد ہسپتال کے عملے کے لئے انکیوبیٹرز جیسے آلات کا استعمال ناممکن ہو گیا ہے۔
    • اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں انکیوبیٹرز کی منتقلی کے عمل کی سے متعلق کام کر رہے ہیں۔
    • اقوام متحدہ کے ایک ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ گردے کے 45 مریضوں کو ڈائیلاسز کی ضرورت ہے، تاہم بجلی کی بندش کی وجہ سے اُن کے مناسب علاج میں مُشکلات کا سامنا ہے۔
  14. غرب اردن میں متعدد فلسطینیوں کی ہلاکت کی اطلاعات

    مقبوضہ غرب اردن کے قصبے تلکرم میں گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران متعدد فلسطینیوں کی ہلاکت کی کافی اطلاعات ملی ہیں۔

    فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق منگل کی صبح اسرائیلی ڈرون حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے۔

    دوسری جانب خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پانچ مذید افراد ایک اسرائیلی فوجی آپریشن کے دوران ہلاک ہوئے۔

    اے ایف پی نے ایک مقامی ہسپتال کے ڈائریکٹر کا حوالہ دیا ہے جس نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کی عمریں 21 سے 29 برس کے درمیان تھیں۔

  15. غزہ کی جنگ ماضی کی جنگوں سے مختلف اور جنگ بندی کا امکان کم کیوں ہے؟

  16. ’کیا فلسطینی اتھارٹی کی مدد کرنا‘ برطانوی وزیر اعظم کا اسرائیل کو سخت پیغام ہے؟, جیمز لینڈل، سفارتی نامہ نگار

    SUNAK

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    مغربی طاقتیں غزہ کی پٹی میں بڑھتی ہوئی ہلاکتوں سے تشویش میں مبتلا ہو رہی ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم رشی سونک نے اب تک جنگ بندی کا مطالبہ تو نہیں کیا لیکن ان کی حالیہ تقریر میں امریکی تنبیہ کو دہرایا گیا ہے کہ فلسطینیوں کی بہت زیادہ تعداد ہلاک ہو رہی ہے۔

    برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ اسرائیل کو اپنا دفاع کرنے اور یرغمالیوں کو رہا کروانے کا حق حاصل ہے لیکن اسے بین الاقوامی قانون کے تحت کام کرنا ہو گا اور معصوم شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

    انھوں نے اسرائیل پر غرب اردن میں پرتشدد کارروائیوں کی روک تھام کرنے کے لیے بھی زور دیا اور جنگ میں فوری وقفے کا مطالبہ کیا تاکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچائی جا سکے۔

    برطانوی وزیر اعظم نے دو ریاستی حل کے لیے کوششوں کو بڑھانے کا وعدہ کیا اور کہا کہ اس کے لیے فلسطینی اتھارٹی کی مدد کرنا ہو گی۔

    یہ بیان رشی سونک کی جانب سے اسرائیل کو دیا جانے والا اب تک کا سب سے سخت پیغام تھا جو اس بات کا مظہر ہے کہ بین الاقوامی حمایت اب مشروط ہوتی جا رہی ہے۔

  17. بریکنگ, ہسپتال میں داخل بچے اور مریض دم توڑ چکے ہیں: الشفا ہسپتال

    GAZA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انتباہ: اس خبر میں شامل چند تفصیلات قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

    غزہ کی پٹی کے سب سے بڑے ہسپتال، الشفا، کے منیجر ڈاکٹر محمد ابو سلیمہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حالیہ دنوں میں بتیس مریضوں کی موت واقع ہو چکی ہے۔

    ان میں قبل از وقت پیدا ہونے والے تین بچوں اور سات مریضوں کی موت کی وجہ آکسیجن کی کمی تھی۔

    انھوں نے بتایا کہ متعدد مریض، جن کو ڈائلسس کی ضرورت ہے، کی موت اگلے چند دنوں میں ہو سکتی ہے کیوں کہ یہ علاج فراہم کرنا اب ہسپتال کے لیے ممکن نہیں رہا۔

    ہسپتال کے پاس فعال رہنے کے لیے ایندھن اور دیگر ضرروی وسائل تقریبا ختم ہو چکے ہیں۔ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کو انکیوبیٹرز سے نکال لیا گیا ہے کیوں کہ وہ بھی اب فعال نہیں رہے۔ ہسپال میں چھ سو سے زیادہ زخمی مریض داخل ہیں۔

    بی بی سی نے ان سے سوال کیا کہ آیا اسرائیلی فوج نے مریضوں یا قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے انخلا کے لیے ان سے رابطہ کیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے ایندھن اور دیگر وسائل ہسپتال پہنچائے گئے ہیں۔

    تاہم ڈاکٹر محمد ابو سلیمہ نے جواب دیا کہ نہیں، انھوں نے رابطہ نہیں کیا بلکہ ہم نے ان سے رابطہ کیا اور اب تک ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

    ڈاکٹر ابو سلیمہ نے کہا کہ ہسپتال نے ریڈ کراس سے بھی رابطہ کیا تاکہ ہسپتال میں موجود ڈیڑھ سو لاشوں کو دفنانے کا انتظام کیا جا سکے۔

    انھوں نے مذید بتایا – اور یہ تفصیل ایسی ہے جو قرئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہے – کہ کتے لاشوں کو نوچ رہے ہیں۔

  18. بریکنگ, اسرائیل کا حماس کے متعدد سینیئر حکام کی ہلاکت کا دعوی

    اسرائیلی دفاعی فورسز کے ترجمان نے دعوی کیا ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں حماس کے سابق عسکری انٹیلیجنس کے سربراہ سمیت متعدد سینیئر حکام ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگاری نے کہا ہے کہ محمد خامس، جو حماس کے انٹیلیجنس یونٹ کی سربراہ تھے، دو ہزار دو میں ہونے والے ایک حملے میں بھی ملوث تھے جس میں پانچ اسرائیلی ہلاک ہو گئے تھے۔

    جن حماس حکام کی ہلاکت کا دعوی کیا گیا ہے ان میں خان یونس بریگیڈ کے اینٹی ٹینک میزائل یونٹ کے سربراہ یعقوب آشور بھی شامل ہیں۔

    ان کے علاوہ اسرائیل نے دعوی کیا ہے کہ تحسین مسلم، جہاد اعظم اور منیر حریب بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

  19. بریکنگ, غزہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد11240 ہو گئی

    GAZA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غزہ کی پٹی میں سات اکتوبر کے بعد سے اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد گیارہ ہزار دو سو چالیس ہو چکی ہے۔

    حماس کے زیر اثر میڈیا آفس کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار ہزار چھ سو تیس بچے اور تین ہزار ایک سو تین خواتین بھی شامل ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ ان کو غزہ کی پٹی کی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ان اعداد و شمار پر اعتماد ہے۔

  20. بریکنگ, غزہ کے الشفا ہسپتال کو محفوظ رکھنا چاہیے، امریکی صدر

    غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال الشفا میں موجود ڈاکٹروں کے مطابق ایندھن کی کمی اور قرب و جوار میں لڑائی کی وجہ سے ہسپتال کے حالات کافی مخدوش ہو چکے ہیں۔

    جب امریکی صدر جو بائیڈن سے اس ہسپتال کی صورت حال کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ہسپتال کو محفوظ رکھنا ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ میری امید اور توقع ہے کہ ہسپتال میں مداخلت نہیں ہو گی۔ ان کے مطابق اس معاملے پر انھوں نے اسرائیل سے بھی رابطہ کیا ہے۔

    امریکی صدر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ لڑائی میں عام شہریوں کو نقصان پہنچے۔ تاہم ترجمان نے یہ بھی کہا کہ حماس کو چاہیے کہ ہسپتالوں کو استعمال نہ کرے۔

    ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ حماس کو چاہیے کہ اپنا ایندھن شمالی غزہ میں ہسپتالوں کو فراہم کرے۔ حماس اور الشفا ہسپتال نے اسرائیل کے ان دعؤوں کی تردید کی ہے کہ ہسپتال کے نیچے زیر زمین حماس کا کمانڈ مرکز ہے۔