یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
14 دسمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے کہا ہے کہ حماس کی جانب سے یرغمالی بنائے گئے اسرائیلی شہریوں کی رہائی کے عوض ڈیل ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ غزہ شہر میں واقع سب سے بڑا ہسپتال ’الشفا‘ اب ایک ہسپتال کے طور پر کام نہیں کر رہا ہے جبکہ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق نوزائیدہ بچوں سمیت اب بھی 2300 افراد الشفا کے اندر موجود ہیں۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
14 دسمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
برطانوی وزیراعظم رشی سونک نے اپنی کابینہ میں بطور وزیر داخلہ ذمہ داریاں انجام دینے والی سویلا بریورمین کو وزارت سے برطرف کر دیا ہے اور جیمز کلیورلی کو ان کے متبادل کے طور پر نامزد کیا ہے۔
وزیر داخلہ کو ملک میں فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے مارچ سے نمٹنے کی حکمت عملی پر تنقید کا سامنا تھا جبکہ سویلا بریورمین پر لندن میں مظاہروں سے قبل تناو پھیلانے کا الزام بھی عائد کیا جا رہا تھا۔
یوروپی یونین نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں ہسپتالوں کا نظام چلانے کے لیے درکار ایندھن کی فراہمی کے لیے مزید با ممنی اور نتیجہ خیز جنگ بندی کا اعلان کیا جائے۔
یورپی کمشنر برائے کرائسز منیجمنٹ جینز لینارکیچ نے برسلز میں ایک میٹنگ کے دوران کہا کہ ’بنیادی طور پر ایندھن کی کمی کی وجہ سے غزہ کی پٹی کے آدھے سے زیادہ ہسپتالوں نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔‘
انھوں نے معنی خیز جنگ بندی کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ اس اعلان نفاذ سے بہت پہلے کیا جانا چاہیے تھا تاکہ تنظیمیں ان کا استحصال کرنے کے لیے تیار ہو سکیں اور ان کی مدت واضح طور پر بیان کی جائے۔
واضح رہے کہ سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد سے غزہ میں ایندھن لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔
یورپی یونین کے 27 ممالک نے اتوار کو جاری ایک بیان میں بھی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا اور حماس کی جانب سے طبی سہولیات اور شہریوں کو ’انسانی ڈھال‘ کے طور پر استعمال کرنے کی مذمت کی گئی ہے۔
دوسری جانب حماس نے ان الزامات کی مذمت کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انھیں حقائق کو مسخ کرنے اورنہتے شہریوں اور بچوں کے خلاف مزید جرائم کے ارتکاب کی پردہ پوشی کا زمہ دار قرار دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ لبنان سے اسرائیل پر مارٹر گولے فائر کیے گئے۔
اسرائیل ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ لبنان سے دو مارٹر گولے فائر کیے گئے۔ گلیلی کے علاقے میں الرٹ جاری کر دیا گیا لیکن مارٹر گولے کھلے علاقے میں گرے، اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اسرائیلی فوج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ گذشتہ رات اس نے لبنانی علاقے میں ایک ’مسلح دہشت گرد سیل‘ پر حملہ کیا ہے۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان موجودہ تنازع شروع ہونے کے بعد سے، اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر تقریباً روزانہ جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔
ان میں سے زیادہ تر میں ایران کی حمایت یافتہ طاقتور تحریک حزب اللہ ملوث رہی ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ شہر کے مغرب میں واقع الشطی پناہ گزین کیمپ کے مضافات میں چھاپہ مار کارروائیاں کی ہیں۔
اس کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائیوں میں القدس یونیورسٹی اور ابوبکر مسجد شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ حماس کے جنگجو وہاں کام کر رہے ہیں۔
اسرائیلی فوجیوں نے ان چھاپوں کے دوران پکڑے گئے درجنوں ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی تصاویر شیئر کیں، ساتھ ہی ان کے بقول مسلح دھڑے اسلامی جہاد کے ایک رکن کے گھر سے قبضے میں لیے گئے ہتھیاروں کو بھی پیش کیا ہے۔ تاہم انھوں نے اس کا نام ظاہر نہیں کیا ہے۔
اسرائیل نے شمالی غزہ کی پٹی کے شہریوں کو اس سے قبل جنوب کی طرف نکل جانے کو کہا تھا۔ اسرائیلی فوجی اس علاقے میں تقریباً ایک ہفتے سے آپریشن کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ الشفا ہسپتال میں تین نرسیں ہلاک ہو گئیں ہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ الشفا ہسپتال کے ارد گرد ’بمباری اور مسلح جھڑپوں‘ میں شدت آنے کے بعد ہسپتال کی تین نرسیں مبینہ طور پر ہلاک ہو گئی ہیں۔
اتوار کو ایک تازہ بیان میں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ہسپتال کے اہم انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا ہے جن میں آکسیجن سہولیات، پانی کے ٹینک اور زچگی وارڈ شامل ہیں۔
اسرائیل اس سے قبل حماس پر غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال کے نیچے زیر زمین کمانڈ سینٹر چلانے کا الزام لگا چکا ہے، جس کی حماس تردید کرتی ہے۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا حماس الشفا ہسپتال کے اندر کام کر رہی ہے، ہسپتال کے سرجری کے سربراہ ڈاکٹر مروان ابو سعدہ نے کہا کہ یہ الزامات ایک ’بڑا جھوٹ‘ ہیں۔
انھوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’ہم عام شہری ہیں۔ میں ایک سرجن ڈاکٹر ہوں۔ ہمارے پاس طبی عملہ ہے، ہمارے پاس مریض ہیں، اور بے گھر لوگ ہیں۔ اور کچھ نہیں۔‘
حالیہ دنوں میں شمالی غزہ میں الشفا کے ارد گرد کے علاقے میں شدید لڑائی ہوئی ہے، اسرائیل پر براہ راست ہسپتال پر حملہ کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ہسپتال کے علاقے میں کارروائی کر رہی ہے لیکن اس نے اس سہولت پر حملے کی تردید کی ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ’ڈیل‘ ہو سکتی ہے۔
امریکی ٹی وی نیٹ ورک ’این بی سی‘ کے پروگرام ’میٹ دی پریس شو‘ میں انٹرویو کے دوران اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو سے پوچھا گیا ہے کہ کیا سات اکتوبر کے حملے کے دوران یرغمال بنائے گئے 240 اسرائیلیوں کو رہا کرنے کے لیے کوئی معاہدہ ہو سکتا ہے۔
جس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’ہو سکتا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں اس کے بارے میں جتنا کم کہوں اس سے اس معاہدے کے ہونے کے امکانات اتنے زیادہ ہو سکتے ہیں۔‘
نتن یاہو نے اس بارے میں مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ ’ایک چیز‘ جو معاہدے پر مجبور کر سکتی ہے وہ ’فوجی دباؤ‘ تھا جو ان کی دفاعی قوت حماس پر ڈال رہی ہے۔
لیکن ایک نامعلوم امریکی اہلکار نے کہا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے لڑائی میں ’مناسب وقفے‘ کی ضرورت ہو گی۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے جنگ بندی کے مطالبوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔
وزیر اعظم نیتن یاہو نے جنگ بندی کے بڑھتے ہوئے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے جب تک کہ اس میں تمام یرغمالیوں کی رہائی شامل نہ ہو۔
فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 11,180 تک پہنچ گئی ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مرنے والوں میں 4,609 بچے اور 3,100 خواتین شامل ہیں، جبکہ 28,200 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے ’غزہ میں لڑائی میں پھنسے شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں تحفظ فراہم کیا جائے چاہے وہ انخلا کی کوشش کر رہے ہوں یا جہاں وہ ہیں وہیں رہیں۔‘
اپنے ایک بیان میں ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج اور حماس کے درمیان جنگ آبادی والے علاقوں اور ’ہسپتالوں کے آس پاس‘ میں ہو رہی ہے۔
اس نے کہا ہے کہ ’ایک ناقابل برداشت انسانی المیہ ہماری آنکھوں کے سامنے جنم لے رہا ہے۔‘ اس نے مزید کہا کہ ریڈ کراس کے عملے کو لوگوں کی طرف سے کالیں آ رہی ہیں جو ’ہلاک ہونے کے خوف سے اپنا دروازہ کھولنے اور ان کی حفاظت تک پہنچنے میں مدد کرنے کی التجا کر رہے ہیں۔‘
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ جنوبی غزہ کی پٹی میں جہاں فلسطینی لڑائی سے بچنے لوگ منتقل ہو رہے ہیں ’وہاں سہولیات ناکافی ہیں۔‘ ریڈ کراس نے کہا کہ علاقے میں داخل ہونے والی انسانی امداد ’بڑی حد تک ناکافی‘ ہے اور پناہ گزینوں کے پاس ’پناہ، خوراک، پانی اور حفظان صحت جیسی ضروری سہولیات کی کمی ہے۔‘
اس نے مزید کہا کہ صورتحال ’تیزی سے انسانی تباہی کے شکل اختیار کر رہی ہے۔‘
امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے شام اور عراق میں اپنے ہی فوجی اہلکاروں کے خلاف حالیہ حملوں کے بعد جنوب مشرقی شام میں دو ایرانی اڈوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔
امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کا کہنا ہے کہ یہ حملے ’ایران کے پاسداران انقلاب گارڈ کور اور ایران سے منسلک گروپوں کے زیر استعمال مقامات پر کیے گئے ہیں۔‘
ایک بیان میں امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ’حملے بالترتیب ابو کمال اور مایادین شہروں کے قریب ایک تربیتی مرکز اور ایک گھر پر کیے گئے ہیں۔‘
ان کا بیان میں کہنا تھا کہ ’امریکی صدر کے لیے امریکی اہلکاروں کی حفاظت سے زیادہ کوئی ترجیح نہیں ہے، اور انھوں نے آج کی کارروائی کی ہدایت یہ واضح کرنے کے لیے دی کہ امریکہ اپنے اہلکاروں اور اپنے مفادات کا دفاع کرے گا۔‘
بدھ کے روز، امریکہ نے مشرقی شام کے علاقے میسولون میں کچھ مقامات پر یہ دعویٰ کرتے ہوئے حملے کیے تھے کہ یہ ایران کے پاسداران انقلاب گارڈ اور اس سے وابستہ تنظیموں کے زیر استعمال ہتھیاروں کے اڈے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے ایک میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حماس الشفا ہپستال کے عملے کو ایندھن لینے سے روک رہی ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے رات کو کو ایک میڈیا بریفنگ دی جس میں الشفاء ہسپتال کی صورتحال اور علاقے میں اس کی فوجی کارروائیوں کے بارے میں بتایا گیا۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہیگری نے کہا کہ اسرائیل نے شمالی غزہ کے ہسپتالوں سے جنوب کی طرف ’مقرر کردہ راستے‘ کھول دیے ہیں اور وہ ’بیماروں اور زخمیوں کو بحفاظت منتقل کرنے میں مدد‘ پیش کرنے کے لیے الشفا میں حکام سے بات کر رہا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اس ہسپتال میں زیر علاج درجنوں بچوں کو دوسرے ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ’مدد کرنے کو تیار‘ ہے۔
انھوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ اسرائیلی فوج نے رات ہسپتال کے قریب 300 لیٹر ایندھن چھوڑا تھا لیکن حماس ہپستال کے عملے کو اسے نہ لینے کے لیے ’روک رہی ہے اور ہسپتال پر دباؤ ڈال رہی ہے۔‘
گزشتہ چند گھنٹوں میں حماس نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں اس الزام کی تردید کی گئی ہے کہ اس نے ہسپتال کے اہلکاروں کو ایندھن لینے سے روکا ہے۔
الشفا ہسپتال کے سرجری کے سربراہ نے بی بی سی کو یہ بھی بتایا ہے کہ 300 لیٹر ایندھن صرف اس کے جنریٹروں کو آدھے گھنٹے تک چلانے کے لیے کافی ہو گا۔
فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ الشفا ہسپتال میں 2000 سے زیادہ افراد موجود ہیں۔
وزارت صحت نے الشفا ہسپتال کی صورتحال کے بارے میں ایک اپ ڈیٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کم از کم 2,300 افراد اب بھی ہسپتال میں موجود ہیں۔
ہسپتال میں موجودف افراد سے متعلق اعدادو شمار عالمی ادارہ صحت کو فراہم کیے گئے ہیں، جنھوں نے انھیں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں شیئر کیا ہے۔
فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ اپ ڈیٹ میں کہا گیا ہے کہ ہسپتال میں 600 سے 650 کے درمیان مریضوں کے ساتھ ساتھ 200 سے 500 ہیلتھ ورکرز اور 1500 کے قریب بے گھر افراد ہیں۔
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ہسپتال میں بجلی، پانی اور خوراک کی کمی ’زندگیوں کو فوری طور پر خطرے میں ڈال رہی ہے۔‘
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ’فوری جنگ بندی‘ اور ’شہریوں اور صحت کی دیکھ بھال کے فعال تحفظ‘ کے اپنے مطالبے کو دہرایا ہے۔
عالم ادارہ صحت نے غزہ کے مرکزی الشفا ہسپتال کی صورتحال سے متعلق خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں کے حالات ’سنگین اور خطرناک‘ ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ الشفاء ہسپتال میں صورتحال ’خوفناک‘ حد تک خراب ہے اور ہسپتال کو بجلی کی بندش سمیت وہاں مریضوں کو خوراک اور پانی کی قلت کا سامنا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس اذنوم گیبریئس نے کہا کہ ہسپتال کے آس پاس کے علاقے میں ’مسلسل فائرنگ اور بم دھماکوں‘ نے ’پہلے سے کشیدہ حالات کو مزید بڑھا دیا ہے‘ اور یہ کہ الشفا ’اب ایک ہسپتال کے طور پر کام نہیں کر رہا ہے۔‘
اسرائیلی فوج نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ہسپتال میں موجود درجنوں نوزائیدہ بچوں کو نکالنے کے لیے ’مدد کرنے کے لیے تیار‘ ہے جو اس ہسپتال میں زیرِ نگہداشت ہیں اور انھیں دوسرے ہسپتال میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
الشفا ہسپتال کے سرجری کے سربراہ ڈاکٹر مروان ابو سعدہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تیسرا قبل از وقت پیدا ہونے والا بچہ کمزوری کے باعث انتقال کر گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’درجنوں دیگر نوزائیدہ بچوں کو فی الحال وہ دیکھ بھال نہیں مل رہی ہے جس کی انھیں ضرورت ہے اور ڈر ہیں کہ ہم تمام (بچوں) کی جانیں گنوا دیں گے۔‘
اس سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے، اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے ایک الزام دہرایا کہ حماس کا ہیڈکوارٹر الشفا کے نیچے ہے۔ حماس ہسپتال کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی تردید کرتی ہے۔
ڈاکٹر ابو سعدہ نے بھی اسرائیل کے الزام کو ’بڑا جھوٹ‘ قرار دیا اور اپنے قریب موجود اسرائیلی فوج کو عمارت کا معائنہ کرنے کے لیے ’کھلی دعوت‘ دی۔